🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. باب:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4311
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ يَقُولُ:" لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ".
مجھ سے اسحاق بن یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، ان سے عبدہ بن ابی لبابہ نے، ان سے مجاہد بن جبر مکی نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت باقی نہیں رہی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4311]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥عبدة بن أبي لبابة الأسدي، أبو القاسم
Newعبدة بن أبي لبابة الأسدي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← عبدة بن أبي لبابة الأسدي
ثقة مأمون
👤←👥يحيى بن حمزة الحضرمي، أبو عبد الرحمن
Newيحيى بن حمزة الحضرمي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة رمي بالقدر
👤←👥إسحاق بن يزيد الدمشقي، أبو النضر
Newإسحاق بن يزيد الدمشقي ← يحيى بن حمزة الحضرمي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4311 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4311
حدیث حاشیہ:
یہ حکم مدنی ہجرت کی بابت ہے۔
اگر اہل اسلام کیلئے کسی بھی علاقہ میں مکہ جیسے حالات پیدا ہوجائیں تو دار الامان کی طرف وہ اب بھی ہجرت کر سکتے ہیں۔
جس سے ان کو یقینا ہجرت کا ثواب مل سکتا ہے مگر إنما الأعمالُ بالنیاتِ کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4311]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4311
حدیث حاشیہ:

اس ہجرت سے مراد خاص ہجرت ہے جو فتح مکہ سے پہلے تھی خواہ حبشہ کی طرف ہویا مدینہ طیبہ کی طرف، فتح مکہ کے بعد جب مکہ مکرمہ دارالاسلام بن گیا تو اب یہاں سے ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔

حدیث کے الفاظ اگرچہ عام ہیں لیکن اس سے خاص ہجرت مراد ہے۔
ہاں اگر کوئی ایسا دارالحرب ہے جس میں شعائر اسلام کی صحیح طور پر ادائیگی نہیں ہوتی بلکہ ان پر عمل کرنے سے روکا جاتا ہو تو اس وقت وہاں سے ہجرت کرنا ضروری ہوگا۔
اگر شعائر اسلام کماحقہ ادانہ ہوتے ہوں اور اہل اسلام کو مجبورنہ کیا جاتا ہو تو ایسے حالات میں ہجرت مستحب ہے۔
بہرحال مذکورہ احادیث میں ہجرت مکہ مراد ہے مطلق ہجرت کی نفی نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4311]

Sahih Bukhari Hadith 4311 in Urdu