علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب حج أبى بكر بالناس فى سنة تسع:
باب: ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لوگوں کے ساتھ سنہ ۹ ھ میں حج کرنا۔
حدیث نمبر: 4364
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ كَامِلَةً بَرَاءَةٌ، وَآخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ خَاتِمَةُ سُورَةِ النِّسَاءِ: يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176".
مجھ سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سب سے آخری سورۃ جو پوری اتری وہ سورۃ برات (توبہ) تھی اور آخری آیت جو اتری وہ سورۃ نساء کی یہ آیت ہے «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4364]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4364 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4364
حدیث حاشیہ:
مسائل میراث سے متعلق آخری آیت مراد ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے چند دن قبل آخری آیت جو نازل ہوئی وہ آیت ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ (البقرة: 281)
والی ہے۔
مسائل میراث سے متعلق آخری آیت مراد ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے چند دن قبل آخری آیت جو نازل ہوئی وہ آیت ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ (البقرة: 281)
والی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4364]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4364
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث کی عنوان سے اس طرح مناسبت ہے کہ سورہ براءت میں ا رشاد باری تعالیٰ ہے:
”مشرکین ناپاک ہیں، لہذا وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں۔
“ (التوبة: 28: 9)
یہ آیات حج ابوبکر کے موقع پر لوگوں میں پڑھ کر سنائی گئیں اوراعلان کیا گیا کہ آئندہ سال کوئی مشرک حج کے لیے نہ آئے، نیزجب سورۃ براءت نازل ہوئی تو کسی نے کہا کہ اگرحضرت ابوبکر ؓ کو یہ سورت دے کربھیجتے تو بہتر تھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میری طرف سے وہی شخص براءت کا اعلان کرے گا جو میرے اہل بیت سے ہوگا۔
“ پھرآپ نے حضرت علی ؓ کو بلایا اور فرمایا:
”تم براءت کا اعلان کرنے کے لیے جاؤ اور نحر کے دن اس کا اعلان کروجب لوگ منی میں جمع ہوں گے۔
ان کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ بھی تھے۔
“ (فتح الباری: 104/8)
1۔
اس حدیث کی عنوان سے اس طرح مناسبت ہے کہ سورہ براءت میں ا رشاد باری تعالیٰ ہے:
”مشرکین ناپاک ہیں، لہذا وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں۔
“ (التوبة: 28: 9)
یہ آیات حج ابوبکر کے موقع پر لوگوں میں پڑھ کر سنائی گئیں اوراعلان کیا گیا کہ آئندہ سال کوئی مشرک حج کے لیے نہ آئے، نیزجب سورۃ براءت نازل ہوئی تو کسی نے کہا کہ اگرحضرت ابوبکر ؓ کو یہ سورت دے کربھیجتے تو بہتر تھارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میری طرف سے وہی شخص براءت کا اعلان کرے گا جو میرے اہل بیت سے ہوگا۔
“ پھرآپ نے حضرت علی ؓ کو بلایا اور فرمایا:
”تم براءت کا اعلان کرنے کے لیے جاؤ اور نحر کے دن اس کا اعلان کروجب لوگ منی میں جمع ہوں گے۔
ان کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ بھی تھے۔
“ (فتح الباری: 104/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4364]
Sahih Bukhari Hadith 4364 in Urdu
أبو إسحاق السبيعي ← البراء بن عازب الأنصاري