علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
89. باب:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 4470
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ , قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , عَنْ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لَهُ:" مَتَى هَاجَرْتَ؟ قَالَ: خَرَجْنَا مِنْ الْيَمَنِ مُهَاجِرِينَ فَقَدِمْنَا الْجُحْفَةَ، فَأَقْبَلَ رَاكِبٌ فَقُلْتُ لَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: دَفَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ خَمْسٍ، قُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخْبَرَنِي بِلَالٌ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ فِي السَّبْعِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ".
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، انہیں عمرو بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے عبدالرحمٰن بن عسیلہ صنابحی سے، جناب ابوالخیر نے ان سے پوچھا تھا کہ تم نے کب ہجرت کی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہم ہجرت کے ارادے سے یمن چلے، ابھی ہم مقام جحفہ میں پہنچے تھے کہ ایک سوار سے ہماری ملاقات ہوئی۔ ہم نے ان سے مدینہ کی خبر پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو پانچ دن ہو چکے ہیں میں نے پوچھا تم نے لیلۃ القدر کے بارے میں کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن بلال رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ کے سات دنوں میں (ایک طاق رات) ہوتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4470]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الرحمن بن عسيلة الصنابحي، أبو عبد الله | والراجح أنه تابعي ثقة، مختلف في صحبته، مخضرم | |
👤←👥مرثد بن عبد الله اليزني، أبو الخير مرثد بن عبد الله اليزني ← عبد الرحمن بن عسيلة الصنابحي | ثقة | |
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء يزيد بن قيس الأزدي ← مرثد بن عبد الله اليزني | ثقة فقيه وكان يرسل | |
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية عمرو بن الحارث الأنصاري ← يزيد بن قيس الأزدي | ثقة فقيه حافظ | |
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد عبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري | ثقة حافظ | |
👤←👥أصبغ بن الفرج الأموي، أبو عبد الله أصبغ بن الفرج الأموي ← عبد الله بن وهب القرشي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4470
| هل سمعت في ليلة القدر شيئا قال نعم أخبرني بلال مؤذن النبي أنه في السبع في العشر الأواخر |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4470 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4470
حدیث حاشیہ:
یعنی اکیس تاریخ سے ستائیسویں تک کی طاق راتوں میں سے وہ ایک رات ہے یا یہ کہ وہ غالبا ستائیسویں رات ہوتی ہے۔
یعنی اکیس تاریخ سے ستائیسویں تک کی طاق راتوں میں سے وہ ایک رات ہے یا یہ کہ وہ غالبا ستائیسویں رات ہوتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4470]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4470
حدیث حاشیہ:
1۔
چونکہ مذکورہ واقعہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد کا ہے اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے بیان فرمایا ہے۔
2۔
ابو الخیر کا نام مرثد بن عبد اللہ اور صنابحی کا نام عبدالرحمٰن بن عسیلہ ہے صحیح بخاری میں ان سے مروی صرف یہی ایک حدیث ہے لیلتہ القدر کے متعلق ہماری گزارشات کتاب الصیام میں بیان ہو چکی ہیں۔
(فتح الباري: 191/8)
1۔
چونکہ مذکورہ واقعہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد کا ہے اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے بیان فرمایا ہے۔
2۔
ابو الخیر کا نام مرثد بن عبد اللہ اور صنابحی کا نام عبدالرحمٰن بن عسیلہ ہے صحیح بخاری میں ان سے مروی صرف یہی ایک حدیث ہے لیلتہ القدر کے متعلق ہماری گزارشات کتاب الصیام میں بیان ہو چکی ہیں۔
(فتح الباري: 191/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4470]
Sahih Bukhari Hadith 4470 in Urdu
مرثد بن عبد الله اليزني ← عبد الرحمن بن عسيلة الصنابحي