🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب قوله: {قد نرى تقلب وجهك فى السماء} إلى: {عما تعملون} :
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک ہم نے دیکھ لیا آپ کے منہ کا باربار آسمان کی طرف اٹھنا، سو ہم آپ کو ضرور پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جسے آپ چاہتے ہیں“ آخر آیت «عما تعملون» تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4489
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" لَمْ يَبْقَ مِمَّنْ صَلَّى الْقِبْلَتَيْنِ غَيْرِي".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے سوا ان صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی اور کوئی اب زندہ نہیں رہا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4489]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← سليمان بن طرخان التيمي
ثقة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4489 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4489
حدیث حاشیہ:
اس سے معلوم ہو کہ حضرت انس بن مالک ؓ کا انتقال جملہ صحابہ کرام ؓ کے آخر میں ہوا ہے۔
ابن عبد البر نے کہا کہ حضرت انس ؓ کے بعد کوئی صحابی دنیا میں زندہ نہیں رہا تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4489]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4489
حدیث حاشیہ:

تحویل قبلہ کا حکم آنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی شدت سے اس امر کے منتظر تھے کہ بنی اسرائیل کی امامت کا دور ختم ہو چکا ہے اب بیت المقدس کی مرکزیت بھی ختم ہونی چاہیے اب تو اصل مرکز ابراہیمی کی طرف رخ کرنے کا وقت قریب کا لگا ہے۔
اس آیت کریمہ میں اس پس منظر کو بیان کیا گیا ہے یہ آیت اگرچہ تلاوت کے اعتبار سے متاخر ہے لیکن معنی کے لحاظ سے متقدم ہے۔
اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ آنے کے بعد اللہ کے حکم کے مطابق بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے اور تمنا کرتے رہے کہ کاش! ان کا قبلہ مسجد حرام کو قراردیا جائے چنانچہ مذکورہ آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا کو پورا کردیا گیا۔

واضح رہے کہ جن صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے بیت المقدس اور کعبے کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھی تھیں حضرت انس ؓ ان سب سے آخر میں فوت ہوئے۔
حضرت انس ؓ نے بصرے میں رہتے ہوئے اپنی عمر کےآخری حصے میں ارشاد فرمایا۔
آپ نے 103۔
سال عمر پائی 90 ہجری میں فوت ہوئے البتہ کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ان کی وفات کے وقت زندہ تھے جو تحویل قبلہ کے بعد مسلمان ہوئے۔
چونکہ انھوں نے ایک ہی قبلے کی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کی تھیں لہٰذا وہ اس حدیث کا مصداق نہیں ہیں۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4489]