علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب: {إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا أولئك لا خلاق لهم} لا خير:
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی بھلائی نہیں ہے اور ان کو دکھ کا عذاب ہو گا“۔
حدیث نمبر: 4551
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ أَبِي هَاشِمٍ، سَمِعَ هُشَيْمًا، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:" أَنَّ رَجُلًا أَقَامَ سِلْعَةً فِي السُّوقِ فَحَلَفَ فِيهَا، لَقَدْ أَعْطَى بِهَا مَا لَمْ يُعْطِهِ لِيُوقِعَ فِيهَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَنَزَلَتْ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ".
ہم سے علی بن ابی ہاشم نے بیان کیا، انہوں نے ہشیم سے سنا، انہوں نے کہا ہم کو عوام بن حوشب نے خبر دی، انہیں ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے بازار میں سامان بیچتے ہوئے قسم کھائی کہ فلاں شخص اس سامان کا اتنا روپیہ دے رہا تھا، حالانکہ کسی نے اتنی قیمت نہیں لگائی تھی، بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس طرح کسی مسلمان کو وہ دھوکا دے کر اسے ٹھگ لے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» کہ ”بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچتے ہیں۔“ آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4551]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي، أبو محمد، أبو إبراهيم، أبو معاوية | صحابي | |
👤←👥إبراهيم بن عبد الرحمن السكسكي، أبو إسماعيل إبراهيم بن عبد الرحمن السكسكي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥العوام بن حوشب الشيباني، أبو عيسى العوام بن حوشب الشيباني ← إبراهيم بن عبد الرحمن السكسكي | ثقة ثبت | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← العوام بن حوشب الشيباني | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥علي بن أبي هاشم البغدادي علي بن أبي هاشم البغدادي ← هشيم بن بشير السلمي | صدوق تكلم فيه للوقف في القرآن |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4551 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4551
حدیث حاشیہ:
آیت میں بتلایا گیا ہے کہ معاملہ داری میں جھوٹی قسمیں کھانا اور اس طرح کسی کو نقصان پہنچانا کسی مرد مومن کا کام نہیں ہے۔
مسلمانوں کو اس عادت سے بچنا چاہیے۔
آیت میں بتلایا گیا ہے کہ معاملہ داری میں جھوٹی قسمیں کھانا اور اس طرح کسی کو نقصان پہنچانا کسی مرد مومن کا کام نہیں ہے۔
مسلمانوں کو اس عادت سے بچنا چاہیے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4551]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4551
حدیث حاشیہ:
1۔
حدیث ابن مسعود سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ آیت کنویں کے معاملے میں حضرت اشعث ؓ اور ان کے مخالف کے متعلق نازل ہوئی جبکہ حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰ ؓ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بازار میں ایک شخص نے سامان فروخت کرنے کی غرض سے جھوٹی قسم اٹھائی تو اس شخص کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
ان روایات میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ یہ آیت عام ہے اور اس کے نازل ہونے کا سبب دونوں واقعات ہوسکتے ہیں۔
2۔
یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت اشعث ؓ کے معاملے میں مذکورہ آیت نازل ہوچکی ہولیکن حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰ ؓ کو بازار میں سامان فروخت کرنے کے واقعے کے بعد اس کی اطلاع ہوئی ہوتو انھوں نے سمجھا کہ یہ آیت اس واقعے سے متعلق ہے۔
مطلب یہ ہے کہ ہر ایک نے اپنے اپنے علم کے مطابق بیان فرمایا۔
(فتح الباري: 269/8)
واللہ اعلم۔
1۔
حدیث ابن مسعود سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ آیت کنویں کے معاملے میں حضرت اشعث ؓ اور ان کے مخالف کے متعلق نازل ہوئی جبکہ حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰ ؓ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بازار میں ایک شخص نے سامان فروخت کرنے کی غرض سے جھوٹی قسم اٹھائی تو اس شخص کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
ان روایات میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ یہ آیت عام ہے اور اس کے نازل ہونے کا سبب دونوں واقعات ہوسکتے ہیں۔
2۔
یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت اشعث ؓ کے معاملے میں مذکورہ آیت نازل ہوچکی ہولیکن حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰ ؓ کو بازار میں سامان فروخت کرنے کے واقعے کے بعد اس کی اطلاع ہوئی ہوتو انھوں نے سمجھا کہ یہ آیت اس واقعے سے متعلق ہے۔
مطلب یہ ہے کہ ہر ایک نے اپنے اپنے علم کے مطابق بیان فرمایا۔
(فتح الباري: 269/8)
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4551]
Sahih Bukhari Hadith 4551 in Urdu
إبراهيم بن عبد الرحمن السكسكي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي