یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب: {وإن خفتم أن لا تقسطوا فى اليتامى} :
باب: آیت «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4574
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3، فَقَالَتْ:" يَا ابْنَ أُخْتِي، هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا، تَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ وَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا، فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا، فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ، فَنُهُوا عَنْ أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ، وَيَبْلُغُوا لَهُنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ فِي الصَّدَاقِ، فَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ:" وَإِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ سورة النساء آية 127، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى فِي آيَةٍ أُخْرَى: وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ، قَالَتْ:" فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا عَنْ مَنْ رَغِبُوا فِي مَالِهِ وَجَمَالِهِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ، مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ إِذَا كُنَّ قَلِيلَاتِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى» کا مطلب پوچھا۔ انہوں نے کہا میرے بھانجے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک یتیم لڑکی اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور اس کی جائیداد کی حصہ دار ہو (ترکے کی رو سے اس کا حصہ ہو) اب اس ولی کو اس کی مالداری خوبصورتی پسند آئے۔ اس سے نکاح کرنا چاہے پر انصاف کے ساتھ پورا مہر جتنا مہر اس کو دوسرے لوگ دیں، نہ دینا چاہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں کے ساتھ جب تک ان کا پورا مہر انصاف کے ساتھ نہ دیں، نکاح کرنے سے منع فرمایا اور ان کو یہ حکم دیا کہ تم دوسری عورتوں سے جو تم کو بھلی لگیں نکاح کر لو۔ (یتیم لڑکی کا نقصان نہ کرو) عروہ نے کہا عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں، اس آیت کے اترنے کے بعد لوگوں نے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا، اس وقت اللہ نے یہ آیت «ويستفتونك في النساء» اتاری۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا دوسری آیت میں یہ جو فرمایا «وترغبون أن تنكحوهن» یعنی وہ یتیم لڑکیاں جن کا مال و جمال کم ہو اور تم ان کے ساتھ نکاح کرنے سے نفرت کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم ان یتیم لڑکیوں سے جن کا مال و جمال کم ہو نکاح کرنا نہیں چاہتے تو مال اور جمال والی یتیم لڑکیوں سے بھی جن سے تم کو نکاح کرنے کی رغبت ہے نکاح نہ کرو، مگر جب انصاف کے ساتھ ان کا مہر پورا ادا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4574]
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب دریافت کیا: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ﴾ [سورة النساء: 3] ”اور اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے متعلق انصاف نہ کر سکو گے۔“ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اے میرے بھانجے! اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو اپنے سرپرست کی زیرِ کفالت ہوتی اور وہ اس کے مال میں شریک بھی ہوتی۔ پھر اس سرپرست کو اس کا مال و جمال پسند آ جاتا تو اس سے نکاح کر لیتا لیکن حق مہر دینے کی بابت اس کی نیت بدلی ہوتی، یعنی وہ اسے اتنا حق مہر نہ دیتا جو اسے دوسرے مرد سے مل سکتا تھا۔ اس آیت میں اس امر سے منع کیا گیا ہے کہ ایسی لڑکیوں سے مہر کے معاملے میں انصاف کے بغیر نکاح نہ کیا جائے۔ اور اگر سرپرست اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو اسے پورا پورا حق مہر ادا کرے جو دوسروں سے زیادہ سے زیادہ اسے مل سکتا ہے۔ اور یہ حکم دیا گیا کہ تم ان لڑکیوں کے علاوہ جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو۔“ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”اس آیت کے نزول کے بعد لوگوں نے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں فتویٰ طلب کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ﴾ [سورة النساء: 127] ”اور وہ آپ سے عورتوں کے متعلق فتویٰ پوچھتے ہیں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کا جو فرمان ہے: ﴿وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ﴾ [سورة النساء: 127] ”جن کے ساتھ نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو یا لالچ کی وجہ سے خود ان کے ساتھ نکاح کرنا چاہتے ہو۔“ اس سے مراد یہی ہے کہ اگر کسی کو اپنی زیرِ پرورش یتیم لڑکی سے نکاح کرنے میں دلچسپی نہیں جو مال اور جمال میں کم ہے تو مال و جمال والی لڑکی سے بھی نکاح نہ کرو جس کے ساتھ تمہیں نکاح میں رغبت ہے مگر اس صورت میں کہ انصاف کے ساتھ اسے پورا پورا حق مہر ادا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4574]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4574 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4574
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے درج ذیل آیت:
﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ﴾ ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ﴾ حالانکہ یہ دونوں ارشاد باری تعالیٰ ایک ہی آیت کا حصہ ہیں دراصل امام بخاریؒ کی روایت میں اختصار ہے جبکہ امام مسلم ؒ نے اس امر کی وضاحت کی ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے:
﴿وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ﴾ کو ﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ﴾ کے اعتبار سے نہیں بلکہ سورہ نساء کی ابتدائی آیت:
﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى﴾ کے اعتبارسے دوسری آیت کہا ہے۔
(صحیح مسلم، التفسیر، حدیث: 7528۔
(3018)
2۔
بہر حال اس آیت کریمہ میں یتیم لڑکیوں کے سر پرستوں کو دونوں قسم کی نا انصافیوں سے روکا گیا ہے کہ عورت خواہ کم حسن و جمال اور کم مال والی ہو یا مالدار اور حسن و جمال والی ہو دونوں سورتوں میں اگر تم حقوق کی ادائیگی کر سکتے ہو تو خود نکاح کر لو ورنہ ان کا دوسروں سے نکاح کردو۔
تم درمیان میں رکاوٹ نہ بنو۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سر پرست جس عورت کی کفالت کرتا ہو وہ خود بھی اس سے نکاح کر سکتا ہے۔
1۔
اس حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے درج ذیل آیت:
﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ﴾ ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ﴾ حالانکہ یہ دونوں ارشاد باری تعالیٰ ایک ہی آیت کا حصہ ہیں دراصل امام بخاریؒ کی روایت میں اختصار ہے جبکہ امام مسلم ؒ نے اس امر کی وضاحت کی ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے:
﴿وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ﴾ کو ﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ﴾ کے اعتبار سے نہیں بلکہ سورہ نساء کی ابتدائی آیت:
﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى﴾ کے اعتبارسے دوسری آیت کہا ہے۔
(صحیح مسلم، التفسیر، حدیث: 7528۔
(3018)
2۔
بہر حال اس آیت کریمہ میں یتیم لڑکیوں کے سر پرستوں کو دونوں قسم کی نا انصافیوں سے روکا گیا ہے کہ عورت خواہ کم حسن و جمال اور کم مال والی ہو یا مالدار اور حسن و جمال والی ہو دونوں سورتوں میں اگر تم حقوق کی ادائیگی کر سکتے ہو تو خود نکاح کر لو ورنہ ان کا دوسروں سے نکاح کردو۔
تم درمیان میں رکاوٹ نہ بنو۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سر پرست جس عورت کی کفالت کرتا ہو وہ خود بھی اس سے نکاح کر سکتا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4574]
Sahih Bukhari Hadith 4574 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق