🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب: {ومن كان فقيرا فليأكل بالمعروف فإذا دفعتم إليهم أموالهم فأشهدوا عليهم} الآية:
باب: آیت کی تفسیر ”اور جو شخص نادار ہو وہ مناسب مقدار میں کھا لے اور جب امانت ان یتیم بچوں کے حوالے کرنے لگو تو ان پر گواہ بھی کر لیا کرو“ آخر آیت تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4575
وَبِدَارًا: مُبَادَرَةً، أَعْتَدْنَا: أَعْدَدْنَا، أَفْعَلْنَا مِنَ الْعَتَادِ.
‏‏‏‏ «بدارا» بمعنی «مبادرة» جلدی کرنا۔ «أعتدنا» بمعنی «أعددنا»، «عتاد» سے۔ «أفعلنا» کے وزن پر جس کے معنی ہم نے تیار کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4575]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4575
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى:" وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ سورة النساء آية 6، أَنَّهَا نَزَلَتْ فِي وَالِي الْيَتِيمِ إِذَا كَانَ فَقِيرًا، أَنَّهُ يَأْكُلُ مِنْهُ مَكَانَ قِيَامِهِ عَلَيْهِ بِمَعْرُوفٍ".
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن نمیر نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ومن كان غنيا فليستعفف ومن كان فقيرا فليأكل بالمعروف‏» بلکہ جو شخص خوشحال ہو وہ اپنے کو بالکل روکے رکھے۔ البتہ جو شخص نادار ہو وہ واجبی طور پر کھا سکتا ہے۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت یتیم کے بارے میں اتری ہے کہ اگر ولی نادار ہو تو یتیم کی پرورش اور دیکھ بھال کی اجرت میں وہ واجبی طور پر (یتیم کے مال میں سے کچھ) کھا سکتا ہے (بشرطیکہ نیت میں فساد نہ ہو)۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4575]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ إمام
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4575 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4575
حدیث حاشیہ:

اس روایت میں ہے کہ یہ آیت کریمہ یتیم کے سر پرست کے متعلق نازل ہوئی ہے جو یتیم کی دیکھ بھال اور اس کے مال کی حفاظت کرتا ہے کہ اگر وہ نادار ہے تو دستور کے مطابق بطور حق الخدمت اس کے مال سے کھا سکتا ہے۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2212)

حضرت عائشہ ؒ کی بیان کردہ اس تفسیر کی تائید میں ایک مرفوع روایت بھی ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا:
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک یتیم میری کفالت میں ہے اور اس کے پاس مال بھی ہے جبکہ میرے پاس کچھ نہیں۔
کیا میں اس کے مال سے کچھ کھا سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا:
"ہاں دستور کے مطابق تو کھا سکتا ہے۔
" (تفسیر ابن أبي حاتم، سورہ النساء، آیت: 6۔
رقم: 2824)
ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا:
"تو اپنے یتیم کے مال سے کھا سکتا ہے لیکن اسراف اور فضول خرچی نہ ہو نہ جلدی کرنے والا اور نہ تو اس کے مال سے کوئی جمع پونجی بنانے والا ہی ہو۔
'' (سنن أبي داود، الوصایا، حدیث: 2872)

وہ دستور کیا ہے جس کے مطابق ایک نادار شخص اپنے زیر کفالت یتیم کے مال سے کھا سکتا ہے؟ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ اپنی انگلیوں کے پوروں سے لے، لے یعنی بہت کم خرچ کرے۔
(تفسیر جامع البیان في تأویل القرآن: 586/7۔
رقم: 8621)
ایک روایت میں ہے۔
وہ یتیم کے مال سے صرف اس قدر کھائے جس سے اس کی بھوک دور ہو جائے۔
اور اس قدر پہنے جس سے اس کی ستر پوشی ہو جائے۔
(تفسیر جامع البیان في تأویل القرآن: 587/7۔
رقم: 8630۔
وفتح الباري: 304/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4575]