🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب: {لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها} الآية:
باب: آیت کی تفسیر ”تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم بیوہ عورتوں کے زبردستی مالک بن جاؤ“ آخر آیت تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4579
وَيُذْكَرُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَا تَعْضُلُوهُنَّ: لَا تَقْهَرُوهُنَّ، حُوبًا: إِثْمًا، تَعُولُوا: تَمِيلُوا، نِحْلَةً: النِّحْلَةُ الْمَهْرُ.
‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (آیت میں) «لا تعضلوهن» کے معنی یہ ہیں کہ ان پر جبر و قہر نہ کرو، «حوبا» یعنی گناہ۔ «تعولوا» یعنی «تميلوا» جھکو تم۔ لفظ «نحلة» مہر کے لیے آیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4579]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4579
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ الشَّيْبَانِيُّ: وَذَكَرَهُ أَبُو الْحَسَنِ السُّوَائِيُّ، وَلَا أَظُنُّهُ ذَكَرَهُ إِلَّا، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ سورة النساء آية 19، قَالَ:" كَانُوا إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ، كَانَ أَوْلِيَاؤُهُ أَحَقَّ بِامْرَأَتِهِ إِنْ شَاءَ بَعْضُهُمْ تَزَوَّجَهَا، وَإِنْ شَاءُوا زَوَّجُوهَا، وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يُزَوِّجُوهَا، فَهُمْ أَحَقُّ بِهَا مِنْ أَهْلِهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ".
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسباط بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق شیبانی نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور شیبانی نے کہا کہ یہ حدیث ابوالحسن عطا سوائی نے بھی بیان کی ہے اور جہاں تک مجھے یقین ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے بیان کیا ہے کہ آیت «يا أيها الذين آمنوا لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن‏» اے ایمان والو! تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم عورتوں کے زبردستی مالک ہو جاؤ اور نہ انہیں اس غرض سے قید رکھو کہ تم نے انہیں جو کچھ دے رکھا ہے، اس کا کچھ حصہ وصول کر لو، انہوں نے بیان کیا کہ جاہلیت میں کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو شوہر کے رشتہ دار اس عورت کے زیادہ مستحق سمجھے جاتے۔ اگر انہیں میں سے کوئی چاہتا تو اس سے شادی کر لیتا، یا پھر وہ جس سے چاہتے اسی سے اس کی شادی کرتے اور چاہتے تو نہ بھی کرتے، اس طرح عورت کے گھر والوں کے مقابلہ میں بھی شوہر کے رشتہ دار اس کے زیادہ مستحق سمجھے جاتے، اسی پر یہ آیت «يا أيها الذين آمنوا لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها» نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4579]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ درج ذیل آیت ﴿اے ایمان والو! تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے مالک بن بیٹھو اور نہ اس غرض ہی سے انہیں قید رکھو کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو اس کا کچھ مال لے جاؤ﴾ [سورة النساء: 19] کے متعلق فرماتے ہیں: دور جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ جب کوئی آدمی مر جاتا تو اس کے رشتہ دار اس کی بیوی کے حق دار خیال کیے جاتے۔ ان میں سے کوئی چاہتا تو اس سے شادی کر لیتا، یا اپنی مرضی کے مطابق کسی دوسری جگہ اس کا نکاح کر دیتا، چاہتے تو بغیر شادی کے اسے پڑا رہنے دیتے، یعنی عورت کے گھر والوں کی نسبت میت کے رشتہ دار اس کے زیادہ حق دار خیال کیے جاتے تھے۔ اس زیادتی کے تدارک کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4579]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سليمان بن فيروز الشيباني، أبو إسحاق
Newسليمان بن فيروز الشيباني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← سليمان بن فيروز الشيباني
صحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥سليمان بن فيروز الشيباني، أبو إسحاق
Newسليمان بن فيروز الشيباني ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة
👤←👥أسباط بن محمد القرشي، أبو محمد
Newأسباط بن محمد القرشي ← سليمان بن فيروز الشيباني
ثقة
👤←👥محمد بن مقاتل المروزي، أبو الحسن
Newمحمد بن مقاتل المروزي ← أسباط بن محمد القرشي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4579 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4579
حدیث حاشیہ:
اب کہاں ہیں وہ پادری لوگ جو اسلام پر طعنہ مارتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں کو لونڈی بنا دیا۔
اسلام کی برکت سے تو عورتیں آدمی ہوئیں، ورنہ عرب کے لوگوں نے تو گائے بیل کی طرح ان کو مال اسباب سمجھ لیا تھا۔
عورت کو ترکہ نہ ملتا، اسلام نے ترکہ دلایا۔
عورت کو جتنی چاہتے بے گنتی طلاق دیئے جاتے، عدت نہ گزارنے پاتی کہ ایک اور طلاق دے دیتے، اس کی جان غضب میں رہتی۔
اسلام نے تین طلاق کی حد باندھ دی۔
خاوند کے مرنے کے بعد عورت اس کے وارثوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی کی طرح رہتی۔
اسلام نے عورت کو پورا اختیار دیا چاہے نکاح ثانی پڑھالے۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4579]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4579
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں اس کی مزید تفصیل ہے کہ جب کوئی آدمی مرجاتا تو اس کے رشتے دار بیوہ پر کپڑا ڈال دیتے اور اس کے عزیز واقارب کو اس کے پاس نہ آنے دیتے۔
اگر وہ خوبصورت ہوتی تو اس سے خود نکاح کر لیتے اور اگر بدصورت ہوتی تو اسے روکے رکھتے حتی کہ مر جاتی تو اس کے مال و متاع کے وارث بن جاتے۔
(تفسیر الطبري، سورہ النساء:
آیت: 19)

یہ آیت کریمہ حضرت کبشہ بنت معن کے متعلق نازل ہوئی اور وہ ابو قیس بن اسلت کے نکاح میں تھی۔
جب اس کا خاوند ابو قیس فوت ہوا تو اس کے بیٹے نے کبشہ سے نکاح کرنا چاہا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی:
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نہ تو میں نے اپنے خاوند سے کچھ وراثت پائی ہے اور نہ مجھے آزاد ہی کیا جا تا ہے کہ میں آگے نکاح کر لوں۔
اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
(فتح الباري: 311/8)

بہر حال عورت ترکے کا مال تصور ہوتی تھی اور اس کا سوتیلا بیٹا یا میت کا بھائی ہوتا تھا۔
اس پر خاوند کے وارثوں کا اختیار ہوتا عورتوں کے وارثوں کا کچھ اختیار نہ ہوتا چنانچہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد عورتوں کو پوری عزت ملی اور انھیں پورے آزادانہ حقوق دیے گئے۔
واللہ علم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4579]

Sahih Bukhari Hadith 4579 in Urdu