🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب: {أولي الأمر منكم} ذوي الأمر:
باب: آیت «أولي الأمر منكم» کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4584
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ سورة النساء آية 59، قَالَ:" نَزَلَتْ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ، إِذْ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو حجاج بن محمد نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے، انہیں یعلیٰ بن مسلم نے، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آیت «أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم‏» اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اور اپنے میں سے حاکموں کی۔ عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مہم پر بطور افسر کے روانہ کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4584]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥يعلى بن مسلم المكي
Newيعلى بن مسلم المكي ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← يعلى بن مسلم المكي
ثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥صدقة بن الفضل المروزي، أبو الفضل
Newصدقة بن الفضل المروزي ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4584
نزلت في عبد الله بن حذافة بن قيس بن عدي إذ بعثه النبي في سرية
صحيح مسلم
4746
نزل يأيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4584 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4584
حدیث حاشیہ:
راستے میں ان کو کسی بات پر غصہ آیا، انہوں نے اپنے لوگوں سے کہا آگ سلگاؤ، جب آگ روشن ہوئی تو کہا اس میں گھس جاؤ۔
بعض نے کہا ان کی اطاعت کرنی چاہیئے، بعضوں نے کہا کہ ان کا یہ حکم شریعت کے خلاف ہے۔
اس کا ما ننا ضروری نہیں۔
آخر یہ آیت ﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ﴾ (النساء: 59)
نازل ہوئی۔
حافظ نے کہا مطلب یہ ہے کہ جب کسی مسئلہ میں اختلاف ہو تو کتاب اللہ وحدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرو اور اس سے تقلید شخصی کی جڑ کٹ گئی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4584]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4584
حدیث حاشیہ:

اس واقعے کی تفصیل امام بخاری ؒ نے ایک دوسرے مقام پر بیان کی ہے چنانچہ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوجی دستہ روانہ کیا اور ایک آدمی کو ان کا امیر نامزد کیا۔
اس نے راستے میں آگ کا الاؤ تیار کیا اور حکم دیا کہ تم سب اس میں داخل ہو جاؤ۔
ان سب نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کر لیا البتہ کچھ لوگوں نے کہا ہم ایسی آگ سے بھاگ کر ادھر آئے ہیں۔
واپسی پر انھوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے ان لوگوں سے فرمایا جو آگ میں داخل ہو نے لگے تھے:
اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے۔
اور دوسروں سے فرمایا:
گناہ کے کاموں میں کسی کی بات نہیں مانی جاتی، اطاعت تو بھلے کاموں میں ہوتی ہے۔
(صحیح البخاري، أخبار الآحاد، حدیث: 7257)

بہر حال اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی اختلاف کے وقت قرآن و حدیث کا فیصلہ ہی حرف آخر ہو گا جس کے آگے کسی حاکم یا امام کی بات نہیں چلے گی۔
صرف قرآن و حدیث کو مطلق حاکم مانا جائے گا حافظ ابن حجر ؒ نے بھی یہ مسئلہ وضاحت سے بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 320/8)

اس آیت کریمہ میں اسلامی حکومت کی چار بنیادوں کو ذکر کیا ہے جو حسب ذیل ہیں۔
۔
اسلامی نظام حکومت میں اصل مطاع اور مقتدر اعلیٰ عوام یا پارلیمنٹ نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔
۔
اللہ کے احکام کی بجا آوری رسول کے ذریعے سے ہوتی ہے لہٰذا رسول کی اطاعت اور اس کے احکام کی بجا آوری بھی ضروری ہے۔
۔
تیسری اطاعت ان مسلمان حکام کی ہے جو کسی ذمہ دار انہ منصب پر فائز ہوں گے لیکن یہ طاعت مشروط ہے یعنی ان کی بات اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف نہ ہو بصورت دیگر ان کی بات نہیں مانی جائے گی۔
۔
چوتھی بنیاد یہ ہے کہ اگر حاکم اور رعایا کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف پیدا ہو جائے تو ایسے معاملے کو کتاب و سنت کی طرف لوٹایا جائے اور اللہ کی شریعت کو "حکم" کی حیثیت دی جائے گی۔
اگر ان چار اصولوں میں سے کسی بھی اصول میں کوتاہی ہوئی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان مستحکم نہیں۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4584]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4746
ابن جریج حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید کی یہ آیت اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور اپنے حکمرانوں کی [صحيح مسلم، حديث نمبر:4746]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ کا امیر بنا کر روانہ فرمایا تھا،
وہ کسی بات پر ان سے ناراض ہو گئے،
پھر ان کو لکڑیاں اکٹھی کر کے آگ لگانے کا حکم دیا،
پھر جب آگ روشن ہو گئی،
تو انہیں کہنے لگے،
اس میں کود جاؤ،
وہ اس سلسلہ میں پس و پیش کرنے لگے،
اتنے میں آگ ٹھنڈی ہو گئی اور اس کا غصہ بھی ٹھنڈا ہو گیا،
واقعہ کی تفصیل آخر میں آ رہی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
اگر یہ لوگ داخل ہو جاتے،
تو قیامت تک اس آگ کے عذاب میں مبتلا رہتے،
اس لیے اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امراء اور حکمرانوں کی اطاعت صرف جائز کاموں میں لازم ہے،
اگر وہ غلط یا ناجائز کام کا حکم دیں،
تو ان کی بات نہیں مانی جائے گی،
اگر کوئی ان کی غلط بات مانے گا،
تو اسے اس کا خمیازہ بھگتنا ہو گا،
آج اگر حکومت کے ملازمین اس حقیقت کو سامنے رکھیں اور حکمرانوں اور ان کے منظور نظر لوگوں کے ناجائز کام کرنے سے انکار کر دیں،
تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں،
چونکہ ہم نے دین اور اس کی ہدایات و تعلیمات کو نظر انداز کیا ہوا ہے،
اس لیے کسی ملازم کو اس کا احساس نہیں کہ ایک دن اس غلط کام کرنے کا خمیازہ مجھے ہی بھگتنا ہو گا اور ان حکمرانوں سے کوئی میرے کام نہیں آ سکے گا،
اس لیے حکمرانوں کو غلط احکام دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی،
وہ ہر قسم کے غلط کام حکومتی ملازموں سے کرواتے ہیں اور وہ اپنے مفادات کی خاطر یہ کام بخوشی کرتے ہیں،
الا ماشاء اللہ۔
اور اس واقعہ میں اصل مطلوب آیت کا آخری ٹکڑا ہے کہ اگر کسی مسئلہ میں تمہارے درمیان جھگڑا پیدا ہو جائے،
تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ،
یعنی کسی چیز کے جواز اور عدم جواز میں حرف آخر کتاب و سنت کی تعلیم و ہدایت ہے،
اس کی پابندی حکومت اور اس کے ملازمین دونوں کے لیے لازمی اور قطعی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4746]

Sahih Bukhari Hadith 4584 in Urdu