🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب قوله: {يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول فاتقوا الله وأصلحوا ذات بينكم} :
باب: آیت کی تفسیر ”یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیں کہ غنیمتیں اللہ کی ملک ہیں پھر رسول کی، پس اللہ سے ڈرتے رہو اور اپنے آپس کی اصلاح کرو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4645-2
n
‏‏‏‏ . [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4645-2]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4645
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الْأَنْفَالُ: الْمَغَانِمُ، قَالَ قَتَادَةُ: رِيحُكُمُ الْحَرْبُ يُقَالُ نَافِلَةٌ عَطِيَّةٌ.
‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ «الأنفال» کے معنی غنیمتیں ہیں۔ قتادہ نے کہا کہ لفظ «ريحكم» سے لڑائی مراد ہے (یعنی اگر تم آپس میں نزاع کرو گے تو لڑائی میں تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی)۔ لفظ «نافلة» عطیہ کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4645]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4645
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سُورَةُ الْأَنْفَالِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي بَدْرٍ الشَّوْكَةُ الْحَدُّ". مُرْدَفِينَ: فَوْجًا بَعْدَ فَوْجٍ رَدِفَنِي وَأَرْدَفَنِي جَاءَ بَعْدِي، ذُوقُوا: بَاشِرُوا وَجَرِّبُوا وَلَيْسَ هَذَا مِنْ ذَوْقِ الْفَمِ، فَيَرْكُمَهُ: يَجْمَعَهُ، شَرِّدْ: فَرِّقْ، وَإِنْ جَنَحُوا: طَلَبُوا السِّلْمُ، وَالسَّلْمُ، وَالسَّلَامُ، وَاحِدٌ، يُثْخِنَ: يَغْلِبَ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: مُكَاءً: إِدْخَالُ أَصَابِعِهِمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ، وَتَصْدِيَةً: الصَّفِيرُ، لِيُثْبِتُوكَ: لِيَحْبِسُوكَ.
مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہشیم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابوبشر نے خبر دی، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ الانفال کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بتلایا کہ غزوہ بدر میں نازل ہوئی تھی۔ «الشوكة» کا معنی دھار نوک۔ «مردفين‏» کے معنی فوج در فوج۔ کہتے ہیں «ردفني وأردفني» یعنی میرے بعد آیا۔ «ذلكم فذوقوه ذوقوا‏» کا معنی یہ ہے کہ یہ عذاب اٹھاؤ اس کا تجربہ کرو، منہ سے چکھنا مراد نہیں ہے۔ «فيركمه‏» کا معنی اس کا جمع کرے۔ «شرد‏» کا معنی جدا کر دے (یا سخت سزا دے)۔ «جنحوا‏» کے معنی طلب کریں۔ «يثخن‏» کا معنی غالب ہوا اور مجاہد نے کہا «مكاء‏» کا معنی انگلیاں منہ پر رکھنا۔ «تصدية‏» سیٹی بجانا۔ «يثبتوك‏» تاکہ تجھ کو قید کر لیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4645]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥جعفر بن أبي وحشية اليشكري، أبو بشر
Newجعفر بن أبي وحشية اليشكري ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية
Newهشيم بن بشير السلمي ← جعفر بن أبي وحشية اليشكري
ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي
👤←👥سعيد بن سليمان الضبي، أبو عثمان
Newسعيد بن سليمان الضبي ← هشيم بن بشير السلمي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن عبد الرحيم القرشي، أبو يحيى
Newمحمد بن عبد الرحيم القرشي ← سعيد بن سليمان الضبي
ثقة حافظ أمين
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4645 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4645
حدیث حاشیہ:

ایک حدیث میں سورۃ انفال کی شان نزول ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے:
غزوہ بدر کے اختتام پر یہ صورت پیدا ہوئی کہ جس فریق نے اموال غنیمت لوٹے تھے وہ ان پر قابض ہوگیا۔
ایک دوسرا فریق جس نے کفار کا تعاقب کیا تھا کہنے لگا ہم بھی ان اموال میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ اگر ہم کفار کا تعاقب نہ کرتے تو وہ مڑ کر حملہ کرسکتے تھے اور اس طرح یہ فتح شکست میں تبدیل ہوسکتی تھی۔
ایک تیسرا فریق جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گردحفاظت کی خاطر حصار بنائے ہوئے تھا، وہ کہنے لگا:
ہم بھی ان اموال میں برابر کے حصے دار ہیں کیونکہ ہم آپ کی حفاظت نہ کرتے اور اگر آپ کو کوئی نقصان پہنچتا تو فتح شکست میں بدل سکتی تھی مگر قابضین ایسی باتیں قبول کرنے پر آمادہ نہ تھے جس سے مجاہدین میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔
اس تناظر میں یہ سورت نازل ہوئی۔
(مسند أحمد: 324/5)

اس صورت کے آغاز ہی میں مسلمانوں کی اخلاقی کمزوریوں اور ان کی اصلاح کا طریق کار بیان کیا گیا ہے۔

امام بخاری ؒ نے مذکورہ چند الفاظ کی لغوی تشریح کی ہے۔
سیاق وسباق کے پیش نظر کسی بھی تفسیر کی کتاب سے اس کے معانی دیکھے جاسکتے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4645]