🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب: {ألم تر إلى الذين بدلوا نعمة الله كفرا} :
باب: آیت کی تفسیر ”کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کے بدلے کفر کیا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4700
أَلَمْ تَرَ: أَلَمْ تَعْلَمْ كَقَوْلِهِ، أَلَمْ تَرَ كَيْفَ، أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا: الْبَوَارُ الْهَلَاكُ بَارَ يَبُورُ، قَوْمًا بُورًا: هَالِكِينَ.
‏‏‏‏ «ألم تر» کا معنی «ألم تعلم» یعنی کیا تو نے نہیں جانا۔ «ألم تر كيف»، «ألم تر إلى الذين خرجوا» میں ہے۔ «البوار» ای «الهلاك» ۔ «بورا» کا معنی ہلاکت ہے جو «بار يبور» کا مصدر ہے۔ «قوما بورا» کے معنی ہلاک ہونے والی قوم کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4700]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4700
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا سورة إبراهيم آية 28، قَالَ:" هُمْ كُفَّارُ أَهْلِ مَكَّةَ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ آیت «ألم تر إلى الذين بدلوا نعمة الله كفرا‏» میں کفار سے اہل مکہ مراد ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4700]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4700 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4700
حدیث حاشیہ:
جنہوں نے اللہ کی نعمت اسلام کی قدر نہ کی اور دولت ایمان سے محروم رہ گئے اور اپنی قوم کو ہلاکت میں ڈال دیا۔
بدر میں تباہ ہوئے۔
اگر اسلام قبول کر لیتے تو یہ نوبت نہ آتی سند میں مذکور حضرت علی بن عبد اللہ عبد اللہ بن جعفرؓ کے بیٹے ابن المدینی کے نام سے مشہور ہیں۔
حافظ حدیث ہیں۔
ان کے استاد ابن المہدی نے فرمایا کہ ابن المدینی احادیث نبوی کو سب سے زیادہ جانتے اور پہنچانتے ہیں۔
امام نسائی ؒ نے فرمایا کہ ان کی پیدائش ہی اس خدمت کے لئے ہوئی تھی۔
ذی قعدہ234ھ میں بعمر73 سال انتقال فرمایا۔
رحمه اللہ تعالیٰ۔
مزید تفصیل آئندہ صفحات پر ملاحظہ ہو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4700]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4700
حدیث حاشیہ:

کفار مکہ سے قریشی مشرک سردار ہیں جن کے ہاتھ اس وقت سارے عرب کی بھاگ دوڑ تھی۔
یہ لوگ بیت اللہ کے پاسبان تھے اور اسی پاسبانی کی وجہ سے ان کی عرب بھر میں عزت کی جاتی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معبوث فرمایا، یہ اللہ تعالیٰ کی ان پر دوسری مہربانی تھی مگر ان لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کا جواب ضد اور دشمنی سے دیا۔
وہ حق کی مخالفت پر کمربستہ ہو گئے پھر اس مخالفت میں بڑھتے ہی چلے گئے یہاں تک کہ خود بھی تباہ ہوئے اور اپنی قوم کو بھی تباہ کر کے چھوڑا اور مرنے کے بعد خود بھی جہنم جائیں گے اور اپنے پیروکاروں کو بھی اپنے ساتھ لے ڈوبیں گے۔

اس حوالے سے ہمیں اپنے متعلق بھی غور وفکر کرنا چاہیے کہ کس قدر اللہ کی نعمتیں استعمال کرنے کے بعد ہم ان کا کتنا شکر ادا کرتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اگرتم شکر کرو گے تو یقیناً میں تمھیں اور زیادہ دوں گا اور اگر تم نا شکری کرو گے تو بلا شبہ میرا عذاب بھی بہت سخت ہے۔
(ابراھیم14۔
7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4700]