🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب: {ومن الناس من يعبد الله على حرف فإن أصابه خير اطمأن به وإن أصابته فتنة انقلب على وجهه خسر الدنيا والآخرة} إلى قوله: {ذلك هو الضلال البعيد} :
باب: آیت کی تفسیر ”اور انسانوں میں سے بعض آدمی ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ کی عبادت کنارہ پر (کھڑا ہو کر یعنی شک اور تردد کے ساتھ کرتا ہے۔) پھر اگر اسے کوئی نفع پہنچ گیا تو وہ اس پر جما رہا اور اگر کہیں اس پر کوئی آزمائش آ پڑی تو وہ منہ اٹھا کر واپس چل دیا۔ یعنی مرتد ہو کر دنیا و آخرت دونوں کو کھو بیٹھا۔ ”اللہ تعالیٰ کے ارشاد“ یہی تو ہے انتہائی گمراہی سے یہی مراد ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4742
أَتْرَفْنَاهُمْ، وَسَّعْنَاهُمْ.
‏‏‏‏ «أترفناهم» کے معنی ہم نے ان کی روزی کشادہ کر دی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4742]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4742
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ سورة الحج آية 11، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْمَدِينَةَ، فَإِنْ وَلَدَتِ امْرَأَتُهُ غُلَامًا وَنُتِجَتْ خَيْلُهُ، قَالَ:"هَذَا دِينٌ صَالِحٌ، وَإِنْ لَمْ تَلِدِ امْرَأَتُهُ، وَلَمْ تُنْتَجْ خَيْلُهُ، قَالَ: هَذَا دِينُ سُوءٍ".
مجھ سے ابراہیم بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی بکیر نے، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابوحصین نے ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «ومن الناس من يعبد الله على حرف‏» اور انسانوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ کی عبادت کنارہ پر (کھڑا ہو کر) کرتا ہے۔ کے متعلق فرمایا کہ بعض لوگ مدینہ آتے (اور اپنے اسلام کا اظہار کرتے) اس کے بعد اگر اس کی بیوی کے یہاں لڑکا پیدا ہوتا اور گھوڑی بھی بچہ دیتی تو وہ کہتے کہ یہ دین (اسلام) بڑا اچھا دین ہے، لیکن اگر ان کے یہاں لڑکا نہ پیدا ہوتا اور گھوڑی بھی کوئی بچہ نہ دیتی تو کہتے کہ یہ تو برا دین ہے اس پر مذکور بالا آیت نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4742]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥عثمان بن عاصم الأسدي، أبو الحصين
Newعثمان بن عاصم الأسدي ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة ثبت سنى
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← عثمان بن عاصم الأسدي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي بكير القيسي، أبو زكريا
Newيحيى بن أبي بكير القيسي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن الحارث البغدادي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن الحارث البغدادي ← يحيى بن أبي بكير القيسي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4742 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4742
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں اس شخص کا حال بیان ہوا ہے جو دین کے بارے میں شک وشبہ اور تذبذب کا شکار رہتا ہے۔
اسے دین میں استقامت نصیب نہیں ہوتی کیونکہ اس کی نیت صرف دنیوی مفادات کا حصول ہوتا ہے، ملتے رہیں تو ٹھیک بصورت دیگر وہ کفر وشرک کی طرف لوٹ جاتا ہے۔
اس کے برعکس جو سچے مسلمان ہوتےہیں اور ایمان ویقین سے سرشار ہوتے ہیں وہ تنگی اور خوشحالی کودیکھے بغیر دین پر قائم رہتے ہیں۔
نعمتوں سے بہر اورہوتے ہیں تو شکر ادا کرتے ہیں اور اگر تکلیفوں سے دوچار ہو جاتے ہیں تو صبر کرتے ہیں۔

حافظ ا بن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے بعض روایات کے حوالے سے یہ وصف نومسلم اعرابیوں کا بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 563/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4742]