صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
86. باب المسجد يكون فى الطريق من غير ضرر بالناس:
باب: عام راستوں پر مسجد بنانا جب کہ کسی کو اس سے نقصان نہ پہنچے (جائز ہے)۔
حدیث نمبر: Q476
وَبِهِ قَالَ الْحَسَنُ، وَأَيُّوبُ وَمَالِكٌ.
اور امام حسن (بصریٰ) اور ایوب اور امام مالک رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: Q476]
حدیث نمبر: 476
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ، وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً، ثُمَّ بَدَا لِأَبِي بَكْرٍ فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ، فَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَيَقِفُ عَلَيْهِ نِسَاءُ الْمُشْرِكِينَ وَأَبْنَاؤُهُمْ يَعْجَبُونَ مِنْهُ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا بَكَّاءً لَا يَمْلِكُ عَيْنَيْهِ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ أَشْرَافَ قُرَيْشٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے عقیل کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب زہری سے، انہوں نے کہا مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا تو اپنے ماں باپ کو مسلمان ہی پایا اور ہم پر کوئی دن ایسا نہیں گزرا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام دن کے دونوں وقت ہمارے گھر تشریف نہ لائے ہوں۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سمجھ میں ایک ترکیب آئی تو انہوں نے گھر کے سامنے ایک مسجد بنا لی، وہ اس میں نماز پڑھتے اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے۔ مشرکین کی عورتیں اور ان کے بچے وہاں تعجب سے سنتے اور کھڑے ہو جاتے اور آپ کی طرف دیکھتے رہتے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے رونے والے آدمی تھے۔ جب قرآن کریم پڑھتے تو آنسوؤں پر قابو نہ رہتا، قریش کے مشرک سردار اس صورت حال سے گھبرا گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 476]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا، اسی وقت سے میں نے اپنے والدین کو دینِ اسلام قبول کر چکے ہوئے پایا، اور ہم پر کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جس میں ہمارے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے دونوں حصوں میں، یعنی صبح و شام نہ آتے ہوں۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دل میں ایک بات آئی اور انہوں نے اپنے گھر کے سامنے ایک کھلی جگہ میں مسجد بنا لی جس میں وہ نماز پڑھتے اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے۔ مشرکین کے بچے اور عورتیں آتے جاتے ان کے پاس کھڑے ہو جاتے، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی حالت پر تعجب کرتے اور انہیں غور سے دیکھتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بڑے رقیق القلب اور گریہ زاری کرنے والے انسان تھے، جب وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے تو انہیں اپنی آنکھوں پر قابو نہیں رہتا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس طرز عمل نے مشرکینِ قریش کے اشراف کو بڑی گھبراہٹ میں مبتلا کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 476]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد عقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← عقيل بن خالد الأيلي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥يحيى بن بكير القرشي، أبو زكريا يحيى بن بكير القرشي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
476
| لم يمر علينا يوم إلا يأتينا فيه رسول الله طرفي النهار بكرة وعشية ثم بدا لأبي بكر فابتنى مسجدا بفناء داره فكان يصلي فيه ويقرأ القرآن فيقف عليه نساء المشركين وأبناؤهم يعجبون منه وينظرون إليه وكان أبو بكر رجلا بكاء لا يملك عينيه إذا قرأ القرآن فأفزع ذلك أشرا |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 476 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 476
حدیث حاشیہ:
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ مسجد کا اپنی ملک میں بنانا جائز ہے اورغیرملک میں منع ہے اور راستوں میں بھی مساجد بنانا درست ہے۔
بشرطیکہ چلنے والوں کو نقصان نہ ہو۔
بعض نے راہ میں مطلقاً ناجائز کا فتویٰ دیاہے، حضرت امام ؒ اسی فتویٰ کی تردید فرمارہے ہیں۔
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ مسجد کا اپنی ملک میں بنانا جائز ہے اورغیرملک میں منع ہے اور راستوں میں بھی مساجد بنانا درست ہے۔
بشرطیکہ چلنے والوں کو نقصان نہ ہو۔
بعض نے راہ میں مطلقاً ناجائز کا فتویٰ دیاہے، حضرت امام ؒ اسی فتویٰ کی تردید فرمارہے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 476]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:476
حدیث حاشیہ:
1۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو مختصر بیان کیا ہے۔
آئندہ اس واقعے سے متعلقہ تفصیلات بیان ہوں گی۔
امام بخاری ؒ نے کتاب الکفالة حدیث: 2297 اور کتاب المناقب حدیث: 3905 میں تفصیلات بیان کی ہیں ہم وہاں مفصل تشریح کریں گے، اس مقام پر امام بخاری ؒ کا مقصود صرف یہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اپنے مکان کے سامنے عوامی مقام پر مسجد تعمیر کی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر انکا رنہیں فرمایا، کیونکہ اس مسجد سے لوگوں کے آنے کا راستہ متاثر نہیں ہواتھا مشرکین کی عورتیں اور بچے وہاں سے گزرتے تھے۔
مشرکین کو بھی اس پر اعتراض نہ تھا۔
البتہ وہ اندیشہ ہائے دور درازمیں مبتلا ہو گئے کہ مبادا ہماری عورتیں حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے طرز عمل اور انداز قرآن خوانی سے مسحور و متاثر ہو جائیں۔
اس کی تفاصیل آئندہ بیان ہوں گی، البتہ حضرت ابو بکر ؓ کے راستے میں مسجد بنانے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار نہ کرنے سے یہ مسئلہ تو ثابت ہوا کہ پبلک مقامات پر مسجد بنائی جا سکتی ہے، بشرطیکہ راستہ متاثر نہ ہوتا ہو۔
2۔
آج کل اس طرح کے تمام مقامات صوبائی یا مرکزی حکومت کی تحویل میں ہیں، لہٰذا ایسے مقامات پر مسجد بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت وقت سے اس کی اجازت لی جائے بصورت دیگر حکومت کو ایسی مسجد منہدم کرنے کا پورا حق ہو گا، آج چونکہ فتن و محن کا دور ہے فرقہ ورایت کا بھوت ذہنوں پر سوار ہے لوگوں میں مروت ومسامحت باقی نہیں رہی، لہٰذا ایسے مقامات پر مسجد بنانے سے پہلے مقامی حکومت سے اس جگہ کے متعلق مالکانہ حقوق لینا ضروری ہیں تاکہ فتنہ و فساد کا اندیشہ نہ رہے اور امن و سکون کے ساتھ وہاں اللہ کی عبادت کی جا سکے۔
1۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو مختصر بیان کیا ہے۔
آئندہ اس واقعے سے متعلقہ تفصیلات بیان ہوں گی۔
امام بخاری ؒ نے کتاب الکفالة حدیث: 2297 اور کتاب المناقب حدیث: 3905 میں تفصیلات بیان کی ہیں ہم وہاں مفصل تشریح کریں گے، اس مقام پر امام بخاری ؒ کا مقصود صرف یہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اپنے مکان کے سامنے عوامی مقام پر مسجد تعمیر کی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر انکا رنہیں فرمایا، کیونکہ اس مسجد سے لوگوں کے آنے کا راستہ متاثر نہیں ہواتھا مشرکین کی عورتیں اور بچے وہاں سے گزرتے تھے۔
مشرکین کو بھی اس پر اعتراض نہ تھا۔
البتہ وہ اندیشہ ہائے دور درازمیں مبتلا ہو گئے کہ مبادا ہماری عورتیں حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے طرز عمل اور انداز قرآن خوانی سے مسحور و متاثر ہو جائیں۔
اس کی تفاصیل آئندہ بیان ہوں گی، البتہ حضرت ابو بکر ؓ کے راستے میں مسجد بنانے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار نہ کرنے سے یہ مسئلہ تو ثابت ہوا کہ پبلک مقامات پر مسجد بنائی جا سکتی ہے، بشرطیکہ راستہ متاثر نہ ہوتا ہو۔
2۔
آج کل اس طرح کے تمام مقامات صوبائی یا مرکزی حکومت کی تحویل میں ہیں، لہٰذا ایسے مقامات پر مسجد بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت وقت سے اس کی اجازت لی جائے بصورت دیگر حکومت کو ایسی مسجد منہدم کرنے کا پورا حق ہو گا، آج چونکہ فتن و محن کا دور ہے فرقہ ورایت کا بھوت ذہنوں پر سوار ہے لوگوں میں مروت ومسامحت باقی نہیں رہی، لہٰذا ایسے مقامات پر مسجد بنانے سے پہلے مقامی حکومت سے اس جگہ کے متعلق مالکانہ حقوق لینا ضروری ہیں تاکہ فتنہ و فساد کا اندیشہ نہ رہے اور امن و سکون کے ساتھ وہاں اللہ کی عبادت کی جا سکے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 476]
Sahih Bukhari Hadith 476 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق