🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب: {يوم تأتي السماء بدخان مبين} :
باب: آیت کی تفسیر ”پس آپ انتظار کریں اس دن کا جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4820-3
أَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا أَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُسْرِفِينَ سورة الزخرف آية 5 مُشْرِكِينَ وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ هَذَا الْقُرْآنَ رُفِعَ حَيْثُ رَدَّهُ أَوَائِلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ لَهَلَكُوا. {فَأَهْلَكْنَا أَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَمَضَى مَثَلُ الأَوَّلِينَ} عُقُوبَةُ الأَوَّلِينَ {جُزْءًا} عِدْلاً.
‏‏‏‏ «مسرفين‏» سے مراد مشرکین ہیں۔ واللہ اگر یہ قرآن اٹھا لیا جاتا جب کہ ابتداء میں قریش نے اسے رد کر دیا تھا تو سب ہلاک ہو جاتے۔ «فأهلكنا أشد منهم بطشا ومضى مثل الأولين‏» میں «مثل» سے عذاب مراد ہے۔ «جزءا‏» بمعنی «عدلا‏» یعنی شریک۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4820-3]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4820-2
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: رَهْوًا: طَرِيقًا يَابِسًا، وَيُقَالُ: رَهْوًا سَاكِنًا، عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ: عَلَى مَنْ بَيْنَ ظَهْرَيْهِ، وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ: عِينٍ أَنْكَحْنَاهُمْ حُورًا عِينًا يَحَارُ فِيهَا الطَّرْفُ، فَاعْتُلُوهُ: ادْفَعُوهُ وَيُقَالُ أَنْ، تَرْجُمُونِ: الْقَتْلُ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَالْمُهْلِ: أَسْوَدُ كَمُهْلِ الزَّيْتِ، وَقَالَ غَيْرُهُ: تُبَّعٍ: مُلُوكُ الْيَمَنِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ يُسَمَّى تُبَّعًا لِأَنَّهُ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ وَالظِّلُّ يُسَمَّى تُبَّعًا لِأَنَّهُ يَتْبَعُ الشَّمْسَ.
‏‏‏‏ مجاہد نے کہا «رهوا‏» کا معنی راستہ۔ «على العالمين‏» سے مراد ان کے زمانے کے لوگ ہیں۔ «فاعتلوه‏» کے معنی ان کو ڈھکیل دو۔ «وزوجناهم بحور‏» کا مطلب ہم نے بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا جوڑا ملا دیا جن کا جمال دیکھنے سے آنکھوں کو حیرت ہوتی ہے۔ «ترجمون‏» مجھ کو قتل کرو۔ «رهوا» تھما ہوا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «كالمهل‏» یعنی کالا تلچھٹ کی طرح۔ اوروں نے کہا «تبع‏» سے یمن کے بادشاہ مراد ہیں۔ ان کو «تبع‏» اس لیے کہا جاتا تھا کہ ایک کے بعد ایک بادشاہ ہوتا اور سایہ کو بھی «تبع‏» کہتے ہیں کیونکہ وہ سورج کے ساتھ رہتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4820-2]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4820
قَالَ قَتَادَةُ: فَارْتَقِبْ: فَانْتَظِرْ.
‏‏‏‏ قتادہ نے فرمایا کہ «فارتقب» ای «فانتظر» یعنی انتظار کیجئے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4820]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4820
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" مَضَى خَمْسٌ الدُّخَانُ، وَالرُّومُ، وَالْقَمَرُ، وَالْبَطْشَةُ، وَاللِّزَامُ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ (قیامت کی) پانچ علامتیں گزر چکی ہیں «الدخان» دھواں، «الروم» غلبہ روم، «القمر» چاند کا ٹکڑے ہونا، «والبطشة» پکڑ اور «واللزام‏» ہلاکت اور قید۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4820]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥مسلم بن صبيح الهمداني، أبو الضحى
Newمسلم بن صبيح الهمداني ← مسروق بن الأجدع الهمداني
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← مسلم بن صبيح الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن ميمون المروزي، أبو حمزة
Newمحمد بن ميمون المروزي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عبد الله بن عثمان العتكي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عثمان العتكي ← محمد بن ميمون المروزي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4820 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4820
حدیث حاشیہ:
دھویں سے مراد عذاب ہے جو درج ذیل آیت کریمہ میں ہے۔
آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان نمایاں دھواں لائے گا۔
(الدخان44۔
10)
غلبہ روم کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے۔
رومی مغلوب ہو گئے قریب ترین سر زمین میں اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد جلد غالب ہوں گے۔
(الروم30۔


)
چاند کا دو ٹکڑے ہونا درج ذیل ارشاد باری تعالیٰ میں ہے۔
قیامت قریب آگئی اور چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔
(القمر: 54۔

)
(بَطْشَة)
یعنی سخت پکڑ کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے۔
جس دن ہم بڑی سخت پکڑسے دو چار کریں گے یقیناً ہم انتقام لینے والے ہیں۔
(الدخان: 44۔
16)
سزا وقید (اللزام)
اس کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح ہے:
پھر تحقیق تم نے جھٹلایا لہٰذا عنقریب ہوگی اس کی سزا لازمی۔
(الفرقان25۔
77)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4820]