صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب: {إنا فتحنا لك فتحا مبينا} :
باب: آیت کی تفسیر ”ہم نے تجھ کو کھلی ہوئی فتح دی ہے“۔
حدیث نمبر: 4834
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا سورة الفتح آية 1، قَالَ: الْحُدَيْبِيَةُ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے سنا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سورۃ الفتح صلح حدیبیہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4834]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ سورہ ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ [سورة الفتح: 1] ”صلح حدیبیہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4834]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر محمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي | ثقة حافظ |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4834 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4834
حدیث حاشیہ:
اس صلح میں چند ایسی باتوں پر صلح ہوئی جنھیں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی اکثریت ناپسند کرتی تھی لیکن نگاہ رسالت نے اس کے دور رس اثرات کا اندازہ لگاتے ہوئے کفار کی شرائط پر ہی صلح کو بہتر خیال کیا، چنانچہ حدیبیہ سے واپسی پر یہ سورت نازل ہوئی جس میں اس صلح کو فتح مبین سے تعبیر کیا گیا کیونکہ یہ صلح فتح مکہ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
اس صلح میں چند ایسی باتوں پر صلح ہوئی جنھیں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی اکثریت ناپسند کرتی تھی لیکن نگاہ رسالت نے اس کے دور رس اثرات کا اندازہ لگاتے ہوئے کفار کی شرائط پر ہی صلح کو بہتر خیال کیا، چنانچہ حدیبیہ سے واپسی پر یہ سورت نازل ہوئی جس میں اس صلح کو فتح مبین سے تعبیر کیا گیا کیونکہ یہ صلح فتح مکہ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4834]
Sahih Bukhari Hadith 4834 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري