🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1M. باب: {فكان قاب قوسين أو أدنى} حيث الوتر من القوس:
باب: آیت کی تفسیر ”اتنا فاصلہ رہ گیا تھا جتنا کمان سے چلہ (یعنی تانت) میں ہوتا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4856
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ زِرًّا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى {9} فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى {10} سورة النجم آية 9-10، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ:" أَنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے عبدالوحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زر بن حبیش سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے آیت «فكان قاب قوسين أو أدنى * فأوحى إلى عبده ما أوحى‏» یعنی صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا تھا بلکہ اور بھی کم۔ پھر اللہ نے اپنے بندہ پر وحی نازل کی جو کچھ بھی نازل کیا کے متعلق بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا تھا ان کے چھ سو پر تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4856]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسعود ← عبد الله بن مسعود
صحابي
👤←👥زر بن حبيش الأسدي، أبو مطرف، أبو مريم
Newزر بن حبيش الأسدي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥سليمان بن فيروز الشيباني، أبو إسحاق
Newسليمان بن فيروز الشيباني ← زر بن حبيش الأسدي
ثقة
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← سليمان بن فيروز الشيباني
ثقة
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان
Newمحمد بن الفضل السدوسي ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة ثبت تغير في آخر عمره
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4856 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4856
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام کو ان کی اصل شکل وصورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے ایک مرتبہ بعثت کے ابتدائی دور میں جس کا ذکر ان آیات میں ہے اور دوسری مرتبہ انھیں اصل شکل میں معراج کی رات دیکھا تھا۔

حضرت جبرئیل علیہ السلام کے چھ سو پر تھے اور ایک مشرق و مغرب کے درمیان فاصلے جتنا تھا۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں نے ایک بارراستے میں چلتے چلتے آسمان سے ایک آواز سنی نگاہ اٹھائی تو آسمان کی طرف اسی فرشتے کو دیکھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا وہ زمین و آسمان کے درمیان ایک کرسی پر تھا۔
میں اسے دیکھ کر بہت خوف زدہ ہوا۔
(صحیح البخاري، بدء الوحي، حدیث: 4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4856]

Sahih Bukhari Hadith 4856 in Urdu