علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
89. باب المساجد التى على طرق المدينة والمواضع التى صلى فيها النبى صلى الله عليه وسلم.:
باب: ان مساجد کا بیان جو مدینہ کے راستے میں واقع ہیں اور وہ جگہیں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 490
وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ فِي الْمَسِيلِ الَّذِي فِي أَدْنَى مَرِّ الظَّهْرَانِ قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِينَ يَهْبِطُ مِنَ الصَّفْرَاوَاتِ يَنْزِلُ فِي بَطْنِ ذَلِكَ الْمَسِيلِ عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ وَأَنْتَ ذَاهِبٌ إِلَى مَكَّةَ لَيْسَ بَيْنَ مَنْزِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ إِلَّا رَمْيَةٌ بِحَجَرٍ.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نالے میں اترا کرتے تھے جو وادی مرالظہران کے نشیب میں ہے۔ مدینہ کے مقابل جب کہ مقام صفراوات سے اترا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس ڈھلوان کے بالکل نشیب میں قیام کرتے تھے۔ یہ راستے کے بائیں جانب پڑتا ہے جب کوئی شخص مکہ جا رہا ہو (جس کو اب بطن مرو کہتے ہیں) راستے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منزل کے درمیان صرف ایک پتھر ہی کے مار کا فاصلہ ہوتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 490]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 490 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:490
حدیث حاشیہ:
چھٹی منزل:
یہ منزل مرالظهران کے نام سے ذکر کی گئی ہے۔
وہاں کے لوگ اس مقام کو بطن مرو کہتے ہیں۔
یہ ایک وادی ہے جہاں سے مکہ مکرمہ کافاصلہ صرف 16 میل رہ جاتا ہے۔
اس جگہ جو پانی کی گزرگاہ ہے، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا تھا، نیز اس پانی کا بہاؤ مکے کی طرف نہیں، بلکہ مدینہ طیبہ کی طرف ہے۔
چھٹی منزل:
یہ منزل مرالظهران کے نام سے ذکر کی گئی ہے۔
وہاں کے لوگ اس مقام کو بطن مرو کہتے ہیں۔
یہ ایک وادی ہے جہاں سے مکہ مکرمہ کافاصلہ صرف 16 میل رہ جاتا ہے۔
اس جگہ جو پانی کی گزرگاہ ہے، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا تھا، نیز اس پانی کا بہاؤ مکے کی طرف نہیں، بلکہ مدینہ طیبہ کی طرف ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 490]
Sahih Bukhari Hadith 490 in Urdu