🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
89. باب المساجد التى على طرق المدينة والمواضع التى صلى فيها النبى صلى الله عليه وسلم.:
باب: ان مساجد کا بیان جو مدینہ کے راستے میں واقع ہیں اور وہ جگہیں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 491
وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طُوًى وَيَبِيتُ حَتَّى يُصْبِحَ يُصَلِّي الصُّبْحَ حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ، وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ذی طویٰ میں قیام فرماتے اور رات یہیں گزارا کرتے تھے اور صبح ہوتی تو نماز فجر یہیں پڑھتے۔ مکہ جاتے ہوئے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ ایک بڑے سے ٹیلے پر تھی۔ اس مسجد میں نہیں جواب وہاں بنی ہوئی ہے بلکہ اس سے نیچے ایک بڑا ٹیلا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 491]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

صحیح بخاری کی حدیث نمبر 491 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:491
حدیث حاشیہ:

ساتویں منزل:
یہ منزل ذوطوی کے نام سے ذکر کی گئی ہے۔
ذوطوی مکہ مکرمہ سے تین میل سے کچھ کم فاصلے پر ایک جگہ کا نام ہے۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر کی آخری منزل ہے۔
آپ یہاں قیام فرماتے،پھر نماز فجر پڑھ کر مکہ مکرمہ تشریف لے جاتے۔
ان روایات میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک ان مقامات کی تفصیل بیان کی ہے۔
جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر میں نمازیں ادا کی تھیں۔
زمانہ قدیم ہی سے اکثر مقامات معدوم ہوچکے ہیں، لیکن کچھ مقامات متعین ہیں اور وہاں مساجد بنا دی گئی ہیں۔
واللہ أعلم۔

حافظ ابن حجرؒ نے علامہ بغوی کے حوالے سے لکھا ہے کہ جن مساجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھنا ثابت ہے، ان میں سے کسی مسجد کے متعلق نماز پڑھنے کی نذر کرلی جائے تو وہ مساجد ثلاثہ کی طرح عمل کے لیے متعین ہوجائے گی، یعنی اس مسجد میں جاکر نماز ادا کرنا واجب ہوجائے گا۔
(فتح الباري: 738/1)
لیکن ہمیں اس موقف سے اتفاق نہیں، کیونکہ حدیث کے خلاف ہے، چنانچہ حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگراللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح مکہ عطا فرمائی تو میں بیت المقدس میں دو رکعت نماز پڑھوں گا۔
آپ نے فرمایا:
اگرتم یہیں مکہ میں نماز پڑھ لو تو تمہاری نذر پوری ہوجائے گی۔
(سنن أبي داود، الإیمان والنذور، حدیث: 3305)

امام بخاری ؒ نے یہاں ان مساجد کا ذکر کیا ہے جو مدینے سے مکہ جاتے ہوئے راستے میں آتی ہیں لیکن مدینہ منورہ میں متعدد مساجد ایسی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی چونکہ وہ امام بخاری ؒ کی شرائط صحت پر پوری نہ اترتی تھی، اس لیے ان کا ذکر نہیں کیا۔
ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
مسجد قباء، مسجد فتح، مسجد قبلتین، مسجد بنی قریظہ، مسجد شمس، مسجد اجابہ، مسجد مشربہ ام ابراہیم اور مسجد بغلہ وغیرہ۔
ان کے علاوہ بعض مساجد ایسی بھی ہیں جن کا آج نام ونشان تک نہیں۔
اب ان کاتذکرہ صرف کتابوں میں ملتا ہے۔
(فتح الباري: 738/1)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 491]

Sahih Bukhari Hadith 491 in Urdu