🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ قَوْلِهِ: {هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا} وَيَتَفَرَّقُوا. {وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لاَ يَفْقَهُونَ} :
باب: آیت کی تفسیر ”یہی لوگ تو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو رہے ہیں، ان پر خرچ مت کرو، یہاں تک کہ (بھوکے رہ کر) وہ آپ ہی خود تتر بتر ہو جائیں حالانکہ اللہ ہی کے قبضے میں آسمان اور زمین کے خزانے ہیں لیکن منافقین یہ نہیں سمجھتے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4906
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: حَزِنْتُ عَلَى مَنْ أُصِيبَ بِالْحَرَّةِ، فَكَتَبَ إِلَيَّ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَبَلَغَهُ شِدَّةُ حُزْنِي، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ"، وَشَكَّ ابْنُ الْفَضْلِ فِي أَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، فَسَأَلَ أَنَسًا بَعْضُ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ، فَقَالَ: هُوَ الَّذِي يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا الَّذِي أَوْفَى اللَّهُ لَهُ بِأُذُنِهِ".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن فضل نے بیان کیا اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کا بیان نقل کیا کہ مقام حرہ میں جو لوگ شہید کر دیئے گئے تھے ان پر مجھے بڑا رنج ہوا۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہما کو میرے غم کی اطلاع پہنچی تو انہوں نے مجھے لکھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما اور ان کے بیٹوں کی بھی مغفرت فرما۔ عبداللہ بن فضل کو اس میں شک تھا کہ آپ نے انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کا بھی ذکر کیا تھا یا نہیں۔ انس رضی اللہ عنہ سے ان کی مجلس کے حاضرین میں سے کسی نے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہما ہی وہ ہیں جن کے سننے کی اللہ تعالیٰ نے تصدیق کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4906]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”حرہ کے روز جو لوگ شہید کر دیے گئے، ان کے متعلق مجھے بہت غم ہوا۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو جب میرے غمزدہ ہونے کی اطلاع پہنچی تو انہوں نے تعزیت و تسلی کے طور پر مجھے ایک خط لکھا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ» ”اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما اور انصار کے بیٹوں کی بھی مغفرت فرما۔“ (راویِ حدیث) حضرت عبداللہ بن فضل کو شک تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے پوتوں کا بھی ذکر کیا تھا یا نہیں۔ اس مجلس کے حاضرین میں سے کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا (حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کون ہیں؟) تو انہوں نے جواب دیا: ”یہ وہی ہیں جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”یہ وہی صاحب ہیں جن کے کان سے سنی ہوئی خبر کی اللہ تعالیٰ نے تصدیق کی ہے۔“” [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4906]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
10194 10467

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن أرقم الأنصاري، أبو سعيد، أبو عمارة، أبو أنيسة، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← زيد بن أرقم الأنصاري
صحابي
👤←👥عبد الله بن الفضل القرشي
Newعبد الله بن الفضل القرشي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد
Newموسى بن عقبة القرشي ← عبد الله بن الفضل القرشي
ثقة فقيه إمام في المغازي
👤←👥إسماعيل بن إبراهيم القرشي، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن إبراهيم القرشي ← موسى بن عقبة القرشي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي أويس الأصبحي ← إسماعيل بن إبراهيم القرشي
صدوق يخطئ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4906
اللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار في أبناء أبناء الأنصار
صحيح مسلم
6416
استغفر للأنصار
جامع الترمذي
3909
اللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار ولأبناء أبناء الأنصار ولنساء الأنصار
المعجم الصغير للطبراني
864
اللهم اغفر للأنصار ولأزواج الأنصار ولذراريهم وذراري ذراريهم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4906 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4906
حدیث حاشیہ:
حرہ مدینہ کا ایک میدان ہے، 63ھ میں جہاں پر یزیدیوں نے پڑاؤ کیا جب کہ مدینہ منورہ کے لوگوں نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا تھا۔
اس نے ایک فوج بھیجی جس نے مدینہ منورہ پہنچ کر وہاں قتل عام کیا۔
انصار کی ایک بہت بڑی تعداد اس حادثہ میں شہید ہو گئی تھی۔
حضرت انس ان دونوں بصرہ میں تھے جب ان کو اس کی خبر ملی تو بہت رنجیدہ ہوئے۔
حضرت زید بن ارقم کی تصدیق سے مراد یہی ہے کہ اللہ پاک نے منافقوں کے خلاف بیان دینے میں ان کی تصدیق کے لئے سورۃ منافقون نازل فرمائی تھی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4906]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4906
حدیث حاشیہ:
1۔
حرّہ، مدینہ طیبہ کے آس پاس کے ایک علاقے کا نام ہے۔
اس کے میدان میں سیاہ پتھر پڑے ہیں۔
جب اہل مدینہ نے یزید کی بیعت سے انکار کردیا تو وہاں قتل وغارت کا بازار گرم ہوا۔
یہ تاریخ کا سیاہ ترین واقعہ ہے لیکن اس کے متعلق مورخین نے بہت مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے۔
2۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت بصرے میں تھے۔
انھیں اس واقعے کا بہت دکھ ہوا تو انھیں تسلی دینے کے لیے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوفے سے خط لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے:
جو لوگ اللہ کی طرف سے مغفرت یافتہ ہیں، ان پر زیادہ غم نہیں کرنا چاہیے۔
ایک روایت میں انصار کے پوتوں کے متعلق بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے مغفرت کا ذکر ہے۔
(مسند أحمد: 139/3)
3۔
اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس لیے ذکر کیا ہے کہ اس کے آخر میں منافقین اور مذکورہ آیت کے نزول واقعہ کی طرف واضح اشارہ ہے۔
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی واقعہ پچھلے صفحات میں تفصیل سے بیان ہوا ہے جس میں منافقین اور ان کے کردار کا واضح تذکرہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کسی مصلحت کے پیش نظر کوئی سزا نہ دی، حالانکہ یہ لوگ قتل کے حقدار تھے۔
اس کی وضاحت ہم آئندہ حدیث کے فوائد میں کریں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4906]

Sahih Bukhari Hadith 4906 in Urdu