صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
95. بَابُ لاَ تُطِيعُ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا فِي مَعْصِيَةٍ:
باب: عورت گناہ کے حکم میں اپنے شوہر کا کہنا نہ مانے۔
حدیث نمبر: 5205
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ الْحَسَنِ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَتَهَا، فَتَمَعَّطَ شَعَرُ رَأْسِهَا، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجَهَا أَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ فِي شَعَرِهَا، فَقَالَ: لَا، إِنَّهُ قَدْلُعِنَ الْمُوصِلَاتُ".
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن نافع نے، ان سے حسن نے وہ مسلم کے صاحبزادے ہیں، ان سے صفیہ رضی اللہ عنہا نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ قبیلہ انصار کی ایک خاتون نے اپنی بیٹی کی شادی کی تھی۔ اس کے بعد لڑکی کے سر کے بال بیماری کی وجہ سے اڑ گئے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے شوہر نے اس سے کہا ہے کہ اپنے بالوں کے ساتھ (دوسرے مصنوعی بال) جوڑے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ ایسا تو ہرگز مت کر کیونکہ مصنوعی بال سر پر رکھ کے جو جوڑے تو ایسے بال جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5205]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انصار کی ایک عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی۔ اس (بےچاری) کے سر کے بال بیماری کی وجہ سے گر گئے۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے شوہر نے مجھے اس کے بالوں کے ساتھ مصنوعی بال جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مت کرو کیونکہ اس طرح بال ملانے والی عورتوں پر لعنت کی گئی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5205]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
6333
الجامع الكامل حدیث نمبر :
6333
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5205
| لعن الموصلات |
صحيح البخاري |
5934
| لعن الله الواصلة والمستوصلة |
صحيح مسلم |
5569
| لعن الواصلات |
صحيح مسلم |
5568
| لعن الواصلة والمستوصلة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5205 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5205
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر شریعت کے حکم کے خلاف کوئی بات کہے تو عورت اگر اس کو بجا نہ لائے تو اس پر گناہ نہ ہوگا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر شریعت کے حکم کے خلاف کوئی بات کہے تو عورت اگر اس کو بجا نہ لائے تو اس پر گناہ نہ ہوگا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5205]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5205
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شوہر کو خوش رکھنے کے لیے غیر شرعی خوبصورتی کرنا جائز نہیں۔
آج کل کی روشن خیال خواتین مصنوعی خوبصورتی کے لیے بہت سے غیر شرعی کام کرتی ہیں جو مردوں کے لیے باعث کشش ہوتے ہیں۔
ان میں سے ایک مصنوعی بالوں کی وگ استعمال کرنا ہے۔
یہ اس لیے ممنوع ہے کہ ایسا کام فاجر اور بے حیا عورتیں کرتی ہیں، نیز یہ اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔
(2)
بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر شریعت کے خلاف حکم دے تو عورت کو چاہیے کہ وہ نہ مانے، ایسے حالات میں اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا اور نہ یہ فعل خاوند کی نافرمانی ہی کے زمرے میں آئے گا۔
والله المستعان
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شوہر کو خوش رکھنے کے لیے غیر شرعی خوبصورتی کرنا جائز نہیں۔
آج کل کی روشن خیال خواتین مصنوعی خوبصورتی کے لیے بہت سے غیر شرعی کام کرتی ہیں جو مردوں کے لیے باعث کشش ہوتے ہیں۔
ان میں سے ایک مصنوعی بالوں کی وگ استعمال کرنا ہے۔
یہ اس لیے ممنوع ہے کہ ایسا کام فاجر اور بے حیا عورتیں کرتی ہیں، نیز یہ اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔
(2)
بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر شریعت کے خلاف حکم دے تو عورت کو چاہیے کہ وہ نہ مانے، ایسے حالات میں اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا اور نہ یہ فعل خاوند کی نافرمانی ہی کے زمرے میں آئے گا۔
والله المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5205]
Sahih Bukhari Hadith 5205 in Urdu
صفية بنت شيبة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق