یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب الإشارة فى الطلاق والأمور:
باب: اگر طلاق وغیرہ اشارے سے دے مثلاً کوئی گونگا ہو تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 5295
وَقَالَ الْأُوَيْسِيُّ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" عَدَا يَهُودِيٌّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَارِيَةٍ، فَأَخَذَ أَوْضَاحًا كَانَتْ عَلَيْهَا، وَرَضَخَ رَأْسَهَا، فَأَتَى بِهَا أَهْلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ فِي آخِرِ رَمَقٍ وَقَدْ أُصْمِتَتْ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَتَلَكِ؟ فُلَانٌ لِغَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، قَالَ: فَقَالَ لِرَجُلٍ آخَرَ غَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ أَنْ لَا، فَقَالَ: فَفُلَانٌ لِقَاتِلِهَا، فَأَشَارَتْ أَنْ نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
اور اویسی نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے ہشام بن یزید نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک یہودی نے ایک لڑکی پر ظلم کیا، اس کے چاندی کے زیورات جو وہ پہنے ہوئے تھی چھین لیے اور اس کا سر کچل دیا۔ لڑکی کے گھر والے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو اس کی زندگی کی بس آخری گھڑی باقی تھی اور وہ بول نہیں سکتی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس نے مارا ہے؟ فلاں نے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ سے غیر متعلق آدمی کا نام لیا۔ اس لیے اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے شخص کا نام لیا اور وہ بھی اس واقعہ سے غیر متعلق تھا تو لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ تو اس لڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5295]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک لڑکی پر اس طرح زیادتی کی کہ اس کے زیورات اتار لیے، پھر اس کا سر پتھر سے کچل دیا۔ لڑکی کے گھر والے اسے بایں حالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے کہ وہ زندگی کے آخری سانس لے رہی تھی اور وہ بول نہیں سکتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ کیا فلاں شخص نے قتل کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل قاتل کے علاوہ کسی دوسرے کا نام لیا تو اس نے سر کے اشارے سے کہا: ”نہیں“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دوسرے شخص کا نام لیا، وہ بھی اصل قاتل کے علاوہ تھا تو اس نے پھر ”نہیں“ کا اشارہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قاتل کا نام لے کر پوچھا: ”فلاں نے؟“ تو اس نے اشارہ کیا: ”ہاں“ (اس نے قتل کیا ہے)۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قاتل کے متعلق حکم دیا تو اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5295]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
وضاحت: باب اور حدیث میں مناسبت جاننےکے لیے آپ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5293 کے فوائد و مسائل از الشیخ محمد حسین میمن دیکھیں۔
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5295 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5295
حدیث حاشیہ:
اس کے بعد اس یہودی نے بھی اس جرم کا اقرار کر لیا توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے حکم دیا اور اس کا سر بھی دو پتھروں سے کچل دیا گیا۔
اس حدیث میں بھی کچھ اشارات کو قابل استناد جانا گیا۔
یہی وجہ مطابقت ہے۔
جس طرح اس شقی نے اس معصوم لڑکی کو بے دردی سے مارا تھا اسی طرح اس سے قصاص لیا گیا۔
اہلحدیث اور ہمارے امام احمد بن حنبل اور مالکیہ اور شافعیہ سب کا مذہب اسی حدیث کے موافق ہے کہ قاتل نے جس طرح مقتول کو قتل کیا ہے اسی طرح اس سے بھی قصاص لیا جائے گا لیکن حنفیہ اس کے خلاف کہتے ہیں کہ ہمیشہ قصاص تلوار سے لینا چاہیئے۔
آنحضرت نے جو دوبارہ اس لڑکی سے اوروں کا نام لے کر پوچھا اس سے یہ مطلب تھاکہ اس سے اس لڑکی کا با ہوش وحواس ہونا ثابت ہوجائے اور اس کی شہادت پوری معتبر سمجھی جائے۔
اس حدیث سے گواہی بوقت مرگ کا ایک عمدہ گواہی ہونا نکلتا ہے جسے انگریزوں نے اپنے قانون شہادت میں بھی ایک قابل اعتبار شہادت خیال کیا ہے (وحیدیتشریح:
اس کے بعد اس یہودی نے بھی اس جرم کا اقرار کر لیا توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے حکم دیا اور اس کا سر بھی دو پتھروں سے کچل دیا گیا۔
اس حدیث میں بھی کچھ اشارات کو قابل استناد جانا گیا۔
یہی وجہ مطابقت ہے۔
جس طرح اس شقی نے اس معصوم لڑکی کو بے دردی سے مارا تھا اسی طرح اس سے قصاص لیا گیا۔
اہلحدیث اور ہمارے امام احمد بن حنبل اور مالکیہ اور شافعیہ سب کا مذہب اسی حدیث کے موافق ہے کہ قاتل نے جس طرح مقتول کو قتل کیا ہے اسی طرح اس سے بھی قصاص لیا جائے گا لیکن حنفیہ اس کے خلاف کہتے ہیں کہ ہمیشہ قصاص تلوار سے لینا چاہیئے۔
آنحضرت نے جو دوبارہ اس لڑکی سے اوروں کا نام لے کر پوچھا اس سے یہ مطلب تھاکہ اس سے اس لڑکی کا با ہوش وحواس ہونا ثابت ہوجائے اور اس کی شہادت پوری معتبر سمجھی جائے۔
اس حدیث سے گواہی بوقت مرگ کا ایک عمدہ گواہی ہونا نکلتا ہے جسے انگریزوں نے اپنے قانون شہادت میں بھی ایک قابل اعتبار شہادت خیال کیا ہے (وحیدی
اس کے بعد اس یہودی نے بھی اس جرم کا اقرار کر لیا توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے حکم دیا اور اس کا سر بھی دو پتھروں سے کچل دیا گیا۔
اس حدیث میں بھی کچھ اشارات کو قابل استناد جانا گیا۔
یہی وجہ مطابقت ہے۔
جس طرح اس شقی نے اس معصوم لڑکی کو بے دردی سے مارا تھا اسی طرح اس سے قصاص لیا گیا۔
اہلحدیث اور ہمارے امام احمد بن حنبل اور مالکیہ اور شافعیہ سب کا مذہب اسی حدیث کے موافق ہے کہ قاتل نے جس طرح مقتول کو قتل کیا ہے اسی طرح اس سے بھی قصاص لیا جائے گا لیکن حنفیہ اس کے خلاف کہتے ہیں کہ ہمیشہ قصاص تلوار سے لینا چاہیئے۔
آنحضرت نے جو دوبارہ اس لڑکی سے اوروں کا نام لے کر پوچھا اس سے یہ مطلب تھاکہ اس سے اس لڑکی کا با ہوش وحواس ہونا ثابت ہوجائے اور اس کی شہادت پوری معتبر سمجھی جائے۔
اس حدیث سے گواہی بوقت مرگ کا ایک عمدہ گواہی ہونا نکلتا ہے جسے انگریزوں نے اپنے قانون شہادت میں بھی ایک قابل اعتبار شہادت خیال کیا ہے (وحیدیتشریح:
اس کے بعد اس یہودی نے بھی اس جرم کا اقرار کر لیا توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے حکم دیا اور اس کا سر بھی دو پتھروں سے کچل دیا گیا۔
اس حدیث میں بھی کچھ اشارات کو قابل استناد جانا گیا۔
یہی وجہ مطابقت ہے۔
جس طرح اس شقی نے اس معصوم لڑکی کو بے دردی سے مارا تھا اسی طرح اس سے قصاص لیا گیا۔
اہلحدیث اور ہمارے امام احمد بن حنبل اور مالکیہ اور شافعیہ سب کا مذہب اسی حدیث کے موافق ہے کہ قاتل نے جس طرح مقتول کو قتل کیا ہے اسی طرح اس سے بھی قصاص لیا جائے گا لیکن حنفیہ اس کے خلاف کہتے ہیں کہ ہمیشہ قصاص تلوار سے لینا چاہیئے۔
آنحضرت نے جو دوبارہ اس لڑکی سے اوروں کا نام لے کر پوچھا اس سے یہ مطلب تھاکہ اس سے اس لڑکی کا با ہوش وحواس ہونا ثابت ہوجائے اور اس کی شہادت پوری معتبر سمجھی جائے۔
اس حدیث سے گواہی بوقت مرگ کا ایک عمدہ گواہی ہونا نکلتا ہے جسے انگریزوں نے اپنے قانون شہادت میں بھی ایک قابل اعتبار شہادت خیال کیا ہے (وحیدی
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5295]
Sahih Bukhari Hadith 5295 in Urdu
هشام بن زيد الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري