🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ الْخُبْزِ الْمُرَقَّقِ وَالأَكْلِ عَلَى الْخِوَانِ وَالسُّفْرَةِ:
باب: (میدہ کی باریک) چپاتیاں کھانا اور خوان (دبیز) اور دستر خوان پر کھانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5388
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، قَالَ:" كَانَ أَهْلُ الشَّأْمِ يُعَيِّرُونَ ابْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُونَ: يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ. فَقَالَتْ لَهُ أَسْمَاءُ: يَا بُنَيَّ، إِنَّهُمْ يُعَيِّرُونَكَ بِالنِّطَاقَيْنِ، هَلْ تَدْرِي مَا كَانَ النِّطَاقَانِ؟ إِنَّمَا كَانَ نِطَاقِي شَقَقْتُهُ نِصْفَيْنِ، فَأَوْكَيْتُ قِرْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَحَدِهِمَا وَجَعَلْتُ فِي سُفْرَتِهِ آخَرَ، قَالَ: فَكَانَ أَهْلُ الشَّأْمِ إِذَا عَيَّرُوهُ بِالنِّطَاقَيْنِ، يَقُولُ: إِيهًا وَالْإِلَهِ تِلْكَ شَكَاةٌ ظَاهِرٌ عَنْكَ عَارُهَا".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور وہب بن کیسان نے بیان کیا کہ اہل شام (حجاج بن یوسف کے فوجی) شام کے لوگ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو عار دلانے کے لیے کہنے لگے ”یا ابن ذات النطاقین“ اے دو کمر بند والی کے بیٹے اور ان کی والدہ، اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا، اے بیٹے! یہ تمہیں دو کمر بند والی کی عار دلاتے ہیں، تمہیں معلوم ہے وہ کمر بند کیا تھے؟ وہ میرا کمر بند تھا جس کے میں نے دو ٹکڑے کر دیئے تھے اور ایک ٹکڑے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے برتن کا منہ باندھا تھا اور دوسرے سے دستر خوان بنایا (اس میں توشہ لپیٹا)۔ وہب نے بیان کیا کہ پھر جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اہل شام دو کمر بند والی کی عار دلاتے تھے، تو وہ کہتے ہاں۔ اللہ کی قسم! یہ بیشک سچ ہے اور وہ یہ مصرعہ پڑھتے «تلك شكاة ظاهر عنك عارها‏.» یہ تو ویسا طعنہ ہے جس میں کچھ عیب نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5388]
وہب بن کیسان سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ شامی لوگ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو عار دلاتے ہوئے کہتے: ”اے «ذَاتِ نِطَاقَيْنِ» کے بیٹے!“ ان کی والدہ ماجدہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اے بیٹے! لوگ تجھے «ذَاتِ نِطَاقَيْنِ» کا بیٹا کہہ کر طعنہ دیتے ہیں، کیا آپ کو علم ہے کہ «نِطَاقَيْنِ» کیا تھے؟ میرا ایک کمر بند تھا۔ میں نے اس کے دو ٹکڑے کر دیے: ایک ٹکڑے کے ساتھ میں نے (ہجرت کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشکیزے کا منہ باندھا، دوسرا ٹکڑا میں نے دسترخوان کے طور پر رکھ دیا۔“ وہب بن کیسان نے کہا کہ جس وقت شامی لوگ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو «ذَاتِ نِطَاقَيْنِ» کا طعنہ دیتے تو وہ کہتے: ”ٹھیک ہے اللہ کی قسم! یہ ایک ایسا طعنہ ہے اس میں میرے لیے کوئی عار یا عیب نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5388]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسماء بنت أبي بكر القرشية، أم عبد اللهصحابي
👤←👥وهب بن كيسان القرشي، أبو نعيم
Newوهب بن كيسان القرشي ← أسماء بنت أبي بكر القرشية
ثقة
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← وهب بن كيسان القرشي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة
👤←👥محمد بن سلام البيكندي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلام البيكندي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5388 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5388
حدیث حاشیہ:
یہ ابو ذویب شاعر کے قصیدے کا مصرعہ ہے۔
اس کا پہلا مصرعہ یہ ہے وعیرني الواشون إنی أحبھا۔
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث لا کر ثابت کیا کہ دسترخوان کپڑے کا بھی ہو سکتا ہے۔
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے شب ہجرت میں اپنے کمر بند کے دو ٹکڑے کر کے ایک سے آپ کے پانی کا مشکیزہ باندھا اور دوسرے سے آپ کا توشہ لپیٹا۔
اس دن سے ان کا لقب ذات النطاقین (دو کمر بند والی ہو گیا تھا۔
)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5388]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5388
حدیث حاشیہ:
(1)
نِطَاقين، نِطَاق کا تثنیہ ہے۔
اس سے مراد وہ کپڑا ہے جو عورتیں کمر پر باندھتی ہیں۔
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے ہجرت کے موقع پر اپنے کمر بند کے دو ٹکڑے کیے۔
ایک سے مشکیزے کا منہ باندھا اور دوسرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بطور دستر خوان رکھ دیا۔
(2)
ذات النطاقین کا لقب آپ کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا جسے شامی لوگ طعنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کر کے ثابت کیا ہے کہ دستر خوان کپڑے کا بھی ہو سکتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قسم کے دستر خوان استعمال کرتے تھے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5388]

Sahih Bukhari Hadith 5388 in Urdu