🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ الصَّيْدِ إِذَا غَابَ عَنْهُ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً:
باب: جب شکار کیا ہوا جانور شکاری کو دو یا تین دن کے بعد ملے تو دہ کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5485
وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَقْتَفِرُ أَثَرَهُ الْيَوْمَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ ثُمَّ يَجِدُهُ مَيِّتًا وَفِيهِ سَهْمُهُ، قَالَ: يَأْكُلُ إِنْ شَاءَ".
اور عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، ان سے داؤد بن ابی یاسر نے، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ وہ شکار تیر سے مارتے ہیں پھر دو یا تین دن پر اسے تلاش کرتے ہیں، تب وہ مردہ حالت میں ملتا ہے اور اس کے اندر ان کا تیر گھسا ہوا ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو چاہے تو کھا سکتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5485]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ وہ شکار کو تیر مارتے ہیں، پھر دو یا تین دن اس کو تلاش کرتے ہیں تو اسے مرا ہوا پاتے ہیں اور اس میں ان کا تیر گھسا ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہے تو کھالے۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5485]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عدي بن حاتم الطائي، أبو طريف، أبو وهبصحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← عدي بن حاتم الطائي
ثقة
👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكر
Newداود بن أبي هند القشيري ← عامر الشعبي
ثقة متقن
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← داود بن أبي هند القشيري
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5485 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5485
حدیث حاشیہ:
یہ اسی صورت میں کہ شکار بد بو دار نہ ہوا ہو ورنہ پھر وہ کھانا مناسب نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5485]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5485
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ احادیث درج ذیل اقسام پر مشتمل ہیں:
٭ اگر بسم اللہ پڑھ کر کتا چھوڑا جائے اور وہ شکار پکڑ کر مالک کے پاس لے آئے تو اسے کھانا جائز ہے۔
٭ اگر کتا اس میں سے خود کچھ کھا لے تو مالک کے لیے اس کا کھانا جائز نہیں۔
٭ اگر شکاری کتے کے ساتھ دوسرے کتے بھی جائیں اور شکار کو مار ڈالیں تو ایسا شکار کھانا جائز نہیں۔
٭ اگر شکار کو تیر مارا، پھر دو یا تین دن بعد شکار ملا اور اس میں تیر کا نشان تھا تو اسے کھانا بھی جائز ہے۔
٭ اگر شکار پانی میں گر جائے تو اسے نہ کھایا جائے۔
(2)
واضح رہے کہ اگر شکار کو تیر مارنے کے بعد وہ دو یا تین دن غائب رہے، پھر ملے تو کھایا جا سکتا ہے بشرطیکہ گوشت خراب نہ ہوا ہو۔
اگر گوشت میں بدبو پڑ گئی اور وہ خراب ہو گیا تو اسے نہیں کھانا چاہیے جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک روایت میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح مسلم، الصید والذبائح، حدیث: 4985 (1931)
، و فتح الباري: 757/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5485]

Sahih Bukhari Hadith 5485 in Urdu