صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي بُرْدَةَ: «ضَحِّ بِالْجَذَعِ مِنَ الْمَعَزِ وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ»:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ابوبردہ رضی اللہ عنہ کے لیے کہ بکری کے ایک سال سے کم عمر کے بچے ہی کی قربانی کر لے لیکن تمہارے بعد اس کی قربانی کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی۔
حدیث نمبر: 5557
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ:" ذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْدِلْهَا، قَالَ: لَيْسَ عِنْدِي إِلَّا جَذَعَةٌ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، قَالَ: اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ"، وَقَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ: عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: عَنَاقٌ جَذَعَةٌ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلمہ نے، ان سے ابوجحیفہ نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس کے بدلے میں دوسری قربانی کر لو۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کے بچے کے سوا اور کوئی جانور نہیں۔ شعبہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایک سال کی بکری سے بھی عمدہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسی کی اس کے بدلے میں قربانی کر دو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گی۔ اور حاتم بن وردان نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آخر حدیث تک (اس روایت میں یہ لفظ ہیں) کہ ”ایک سال سے کم عمر کی بچی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5557]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اس کے بدلے کوئی دوسری قربانی ذبح کرو۔“ انہوں نے عرض کی: ”میرے پاس صرف ایک یکسالہ بچہ ہے میرے خیال کے مطابق وہ دو دانتے جانور سے بہتر ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کی جگہ اسی کو ذبح کر دو لیکن تمہارے بعد کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں ہوگا۔“ حاتم بن وردان نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ ”میرے پاس ایک یکسالہ جوان بچہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5557]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
7169
الجامع الكامل حدیث نمبر :
7169
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6673
| يعيد الذبح |
صحيح البخاري |
5557
| اجعلها مكانها ولن تجزي عن أحد بعدك |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5557 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5557
حدیث حاشیہ:
(1)
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ میں دو حضرات ہیں جنہیں خاص حالات کے پیش نظر ایک سالہ بکری کے بچے کو بطور قربانی ذبح کرنے کی اجازت دی گئی۔
ایک حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ ہیں۔
یہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے ماموں ہیں۔
اور دوسرے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہیں جنہیں قربانی کے جانور تقسیم کرنے پر مقرر کیا گیا تھا۔
انہیں خلوص نیت اور جذبۂ اتباع کے پیش نظر خصوصی اجازت دی گئی لیکن ساتھ وضاحت کر دی گئی کہ دوسرے لوگوں کو اس کی اجازت نہیں ہے۔
اگرچہ دوسرے بعض حضرات کے متعلق بھی اس طرح کی صراحت ہے لیکن وہ روایات محل نظر ہیں۔
(2)
بہرحال علمائے امت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ بکری کا بچہ خواہ کتنا ہی موٹا تازہ ہو بطور قربانی ذبح نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے دو دانتا ہونا ضروری ہے۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 20/10)
(1)
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ میں دو حضرات ہیں جنہیں خاص حالات کے پیش نظر ایک سالہ بکری کے بچے کو بطور قربانی ذبح کرنے کی اجازت دی گئی۔
ایک حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ ہیں۔
یہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے ماموں ہیں۔
اور دوسرے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہیں جنہیں قربانی کے جانور تقسیم کرنے پر مقرر کیا گیا تھا۔
انہیں خلوص نیت اور جذبۂ اتباع کے پیش نظر خصوصی اجازت دی گئی لیکن ساتھ وضاحت کر دی گئی کہ دوسرے لوگوں کو اس کی اجازت نہیں ہے۔
اگرچہ دوسرے بعض حضرات کے متعلق بھی اس طرح کی صراحت ہے لیکن وہ روایات محل نظر ہیں۔
(2)
بہرحال علمائے امت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ بکری کا بچہ خواہ کتنا ہی موٹا تازہ ہو بطور قربانی ذبح نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے دو دانتا ہونا ضروری ہے۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 20/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5557]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6673
6673. حضرت براء بن عاذب ؓ سے روایت ہے کہ ان کے ہاں کچھ مہمان ٹھہرے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے اہل خانہ سے کہا کہ ان کے واپس آنے سے پہلے جانور ذبح کر لیں تاکہ مہمان اسے تناول کریں چنانچہ انہوں نے (عیدالاضحیٰ کی) نماز سے قبل اپنا جانور ذبح کر لیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے حکم دیا کہ نماز کے بعد دوبارہ ذبح کریں۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس دودھ پینے والا ایک بکری کا بچہ ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہے۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی ذبح کرنے کی اجازت دے دی۔)۔ راوی حدیث کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں ہوسکا کہ مذکورہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے یا صرف ان (حضرت براء بن عاذب ؓ) کے لیے تھی۔ اس روایت کو ایوب نے ابن سیرین سے انہوں نے حضرت انس سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6673]
حدیث حاشیہ:
سعید بن جبیر نےحضرت ابن عباس ؓ کےسامنے نوف بکالی کا قول نقل کیا تھا کہ وہ خضر والے موسیٰ کواسرائیلی موسیٰ نہیں بلکہ اور کوئی دوسرا موسیٰ کہتےہیں۔
اس پر حضرت ابن عباس نے نوف بکالی کے قول کی تردید کرتے ہوئے حضرت ابی بن کعب کی یہ روایت نقل کر کے بتلایا کہ وہ موسیٰ اسرائیلی ہی تھے، جن کا اس شرط کا خیال نہیں رہا تھا کہ وہ خضر سےکرچکے تھے اس پرلفظ لاتؤاخذني الخ انہوں نے کہے۔
وجہ مناسبت وہی ہے کہ سہو اور نسیان کوحضرت موسیٰ نےمؤاخذہ کے قابل نہیں سمجھا حضرت خضرنے بھی اس نسیان کو معاف ہی کر دیا تھا۔
حضرت انس بن مالک خزرجی خادم دس سال کی عمر میں خدمت نبوی میں آئے اور آخر تک خاص خدمات کا شرف حاصل ہوا۔
عہد فاروقی میں بصرہ میں مبلغ اسلام کی حیثیت سےمقیم ہوئے اور 91ھ میں بعمر 103 سال بصرہ ہی میں انتقال ہوا۔
مرتے وقت سو کے قریب اولاد چھوڑ کر گئے ان کی ماں کا نام ام سلیم بنت ملحان ہے۔
سعید بن جبیر نےحضرت ابن عباس ؓ کےسامنے نوف بکالی کا قول نقل کیا تھا کہ وہ خضر والے موسیٰ کواسرائیلی موسیٰ نہیں بلکہ اور کوئی دوسرا موسیٰ کہتےہیں۔
اس پر حضرت ابن عباس نے نوف بکالی کے قول کی تردید کرتے ہوئے حضرت ابی بن کعب کی یہ روایت نقل کر کے بتلایا کہ وہ موسیٰ اسرائیلی ہی تھے، جن کا اس شرط کا خیال نہیں رہا تھا کہ وہ خضر سےکرچکے تھے اس پرلفظ لاتؤاخذني الخ انہوں نے کہے۔
وجہ مناسبت وہی ہے کہ سہو اور نسیان کوحضرت موسیٰ نےمؤاخذہ کے قابل نہیں سمجھا حضرت خضرنے بھی اس نسیان کو معاف ہی کر دیا تھا۔
حضرت انس بن مالک خزرجی خادم دس سال کی عمر میں خدمت نبوی میں آئے اور آخر تک خاص خدمات کا شرف حاصل ہوا۔
عہد فاروقی میں بصرہ میں مبلغ اسلام کی حیثیت سےمقیم ہوئے اور 91ھ میں بعمر 103 سال بصرہ ہی میں انتقال ہوا۔
مرتے وقت سو کے قریب اولاد چھوڑ کر گئے ان کی ماں کا نام ام سلیم بنت ملحان ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6673]
Sahih Bukhari Hadith 5557 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري