صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب ما يؤكل من لحوم الأضاحي وما يتزود منها:
باب: قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے۔
حدیث نمبر: 5572
قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ قَدِ اجْتَمَعَ لَكُمْ فِيهِ عِيدَانِ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْتَظِرَ الْجُمُعَةَ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي، فَلْيَنْتَظِرْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ".
ابو عبید نے بیان کیا کہ پھر میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ (ان کی خلافت کے زمانہ میں عیدگاہ میں) حاضر تھا۔ اس دن جمعہ بھی تھا۔ آپ نے خطبہ سے پہلے نماز عید پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو! آج کے دن تمہارے لیے دو عیدیں جمع ہو گئیں ہیں۔ (عید اور جمعہ) پس اطراف کے رہنے والوں میں سے جو شخص پسند کرے جمعہ کا بھی انتظار کرے اور اگر کوئی واپس جانا چاہے (نماز عید کے بعد ہی) تو وہ واپس جا سکتا ہے، میں نے اسے اجازت دے دی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5572]
حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”پھر میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حاضر ہوا اور یہ حجۃ المبارک کا دن تھا۔ انہوں نے خطبے سے پہلے نمازِ عید پڑھائی، پھر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”لوگو! اس دن میں تمہارے لیے دو عیدیں جمع ہو گئی ہیں، اطرافِ مدینہ کے رہنے والوں میں سے جو کوئی پسند کرتا ہے کہ جمعہ کا بھی انتظار کرے تو وہ انتظار کرے اور اگر کوئی واپس جانا چاہتا ہے تو وہ جا سکتا ہے، میں اسے اجازت دیتا ہوں۔“” [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5572]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عثمان بن عفان، أبو عمرو | صحابي |
Sahih Bukhari Hadith 5572 in Urdu