صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب الخمر من العنب وغيره :
باب: شراب انگور وغیرہ سے بھی بنتی ہے۔
حدیث نمبر: 5579
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ هُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَمَا بِالْمَدِينَةِ مِنْهَا شَيْءٌ".
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے جو مغول کے صاحبزادے ہیں، بیان کیا ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب شراب حرام کی گئی تو انگور کی شراب مدینہ منورہ میں نہیں ملتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأشربة/حدیث: 5579]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥مالك بن مغول البجلي، أبو عبد الله مالك بن مغول البجلي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن سابق التميمي، أبو سعيد، أبو جعفر محمد بن سابق التميمي ← مالك بن مغول البجلي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الحسن بن الصباح الواسطي، أبو علي الحسن بن الصباح الواسطي ← محمد بن سابق التميمي | صدوق حسن الحديث |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5579 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5579
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ شراب صرف انگور سے بنے ہوئے نشہ آور مشروب ہی کو نہیں کہا جاتا بلکہ کسی بھی چیز کا رس پانی میں ڈال کر بنایا ہوا مشروب اگر نشہ آور ہو تو حرام ہے۔
(2)
مذکورہ حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مطلق طور پر انگوروں کی شراب سے انکار نہیں کیا بلکہ مدینہ طیبہ میں حرمت خمر کے وقت اس قسم کے عام ہونے کا انکار کیا ہے۔
شراب انگوروں، کھجوروں اور شہد وغیرہ سے تیار کی جاتی تھی، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”شراب ان دو قسم کی نباتات، یعنی کھجور اور انگور سے بنتی ہے۔
“ (سنن ابن ماجة، الأشربة، حدیث: 3378)
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ شراب صرف انگور سے بنے ہوئے نشہ آور مشروب ہی کو نہیں کہا جاتا بلکہ کسی بھی چیز کا رس پانی میں ڈال کر بنایا ہوا مشروب اگر نشہ آور ہو تو حرام ہے۔
(2)
مذکورہ حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مطلق طور پر انگوروں کی شراب سے انکار نہیں کیا بلکہ مدینہ طیبہ میں حرمت خمر کے وقت اس قسم کے عام ہونے کا انکار کیا ہے۔
شراب انگوروں، کھجوروں اور شہد وغیرہ سے تیار کی جاتی تھی، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”شراب ان دو قسم کی نباتات، یعنی کھجور اور انگور سے بنتی ہے۔
“ (سنن ابن ماجة، الأشربة، حدیث: 3378)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5579]
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي