صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ وَقْتِ الْفَجْرِ:
باب: نماز فجر کا وقت۔
حدیث نمبر: 577
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ:" كُنْتُ أَتَسَحَّرُ فِي أَهْلِي، ثُمَّ يَكُونُ سُرْعَةٌ بِي أَنْ أُدْرِكَ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا اپنے بھائی عبدالحمید بن ابی اویس سے، انہوں نے سلیمان بن بلال سے، انہوں نے ابی حازم سلمہ بن دینار سے کہ انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ صحابی سے سنا، آپ نے فرمایا کہ میں اپنے گھر سحری کھاتا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پانے کے لیے مجھے جلدی کرنی پڑتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 577]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اپنے اہل میں سحری کھاتا تھا، پھر مجھے جلدی ہوتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھ لوں۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 577]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
1781
الجامع الكامل حدیث نمبر :
1781
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
577
| كنت أتسحر في أهلي ثم يكون سرعة بي أن أدرك صلاة الفجر مع رسول الله |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 577 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:577
حدیث حاشیہ:
اس روایت سے معلوم ہوا کہ نماز فجر سحری سے متصل ہوتی تھی، یعنی سحری سے فراغت کے بعد جب فجر کا وقت شروع ہوتا، نماز پڑھ لی جاتی۔
امام بخاری ؒ اس روایت سے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت سہل بن سعد ؒ اپنے گھر میں سحری کر کے جلدی مسجد نبوی پہنچنے کی کوشش کرتے تاکہ نماز فجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں پڑھ سکیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ نماز فجر سحری سے فراغت کے بعد فوراً شروع کردی جاتی تھی۔
دوسری روایات میں اس کی وضاحت ہے، چنانچہ حضرت جابر ؓ سے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز اندھیرے ہی میں پڑھ لیتے تھے،(صحیح البخاري، مواقیت الصلاة، حدیث: 565)
نیز حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”نماز فجر کاوقت طلوع فجر سے لے کر طلوع آفتاب تک ہے۔
“ (صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1385(612)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ نماز فجر سحری سے متصل ہوتی تھی، یعنی سحری سے فراغت کے بعد جب فجر کا وقت شروع ہوتا، نماز پڑھ لی جاتی۔
امام بخاری ؒ اس روایت سے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت سہل بن سعد ؒ اپنے گھر میں سحری کر کے جلدی مسجد نبوی پہنچنے کی کوشش کرتے تاکہ نماز فجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں پڑھ سکیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ نماز فجر سحری سے فراغت کے بعد فوراً شروع کردی جاتی تھی۔
دوسری روایات میں اس کی وضاحت ہے، چنانچہ حضرت جابر ؓ سے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز اندھیرے ہی میں پڑھ لیتے تھے،(صحیح البخاري، مواقیت الصلاة، حدیث: 565)
نیز حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”نماز فجر کاوقت طلوع فجر سے لے کر طلوع آفتاب تک ہے۔
“ (صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1385(612)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 577]
Sahih Bukhari Hadith 577 in Urdu
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي