🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. باب الجعد:
باب: گھونگھریالے بالوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5912
وَقَالَ أَبُو هِلَالٍ 9، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَوْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ شَبَهًا لَهُ".
اور ابوہلال نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ یا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیاں اور قدم بھرے ہوئے تھے، آپ جیسا پھر میں نے کوئی خوبصورت آدمی نہیں دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5912]
حضرت انس رضی اللہ عنہ یا حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھلیاں اور قدم مبارک گوشت سے بھرے ہوئے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا (خوبصورت) کوئی آدمی نہیں دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5912]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥محمد بن سليم الراسبي، أبو هلال
Newمحمد بن سليم الراسبي ← قتادة بن دعامة السدوسي
صدوق فيه لين
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5912
ضخم القدمين حسن الوجه لم أر بعده مثله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5912 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5912
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیاں گوشت سے بھرپور ہونے کے باوجود سخت نہیں تھیں بلکہ انتہائی گداز اور نرم تھیں جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیاں ریشم اور دیبا سے بھی زیادہ نرم تھیں۔
(صحیح البخاري، المناقب، حدیث: 3561) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ پر کچھ اہل علم نے اعتراض کیا ہے کہ مذکورہ احادیث کا عنوان سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کے متعلق کچھ بیان نہیں ہوا لیکن یہ اعتراض مبنی برحقیقت نہیں کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ان احادیث کو کسی مسئلے کے ثبوت کے لیے پیش نہیں کیا بلکہ ان کا مقصود یہ ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد حضرت قتادہ سے ناقلین کا اختلاف بیان کیا جائے اور یہ اختلاف حدیث کی صحت کو متاثر نہیں کرتا، ویسے بھی ان احادیث کے بعض طرق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کا ذکر ہے۔
اس عنوان کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کا وصف بیان کرنا اصل مقصود ہے، دیگر مباحث اس مقصد کے تابع ہیں۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 441/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5912]

Sahih Bukhari Hadith 5912 in Urdu