صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
91. باب ما وطئ من التصاوير:
باب: اگر مورتیں پاؤں کے تلے روندی جائیں تو ان کے رہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5955
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَعَلَّقْتُ دُرْنُوكًا فِيهِ تَمَاثِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَنْزِعَهُ فَنَزَعْتُهُ،
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے اور میں نے پردہ لٹکا رکھا تھا جس میں تصویریں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے اتار لینے کا حکم دیا تو میں نے اسے اتار لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5955]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس تشریف لائے تو میں نے گھر میں ایک پردہ لٹکا رکھا تھا جس میں تصویریں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے اتار دینے کا حکم دیا تو میں نے اتار دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5955]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 5955 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق