صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب صلة المرأة أمها ولها زوج:
باب: اگر خاوند والی مسلمان عورت اپنے کافر ماں کے ساتھ نیک سلوک کرے۔
حدیث نمبر: 5979
وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامٌ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالتَ: قَدِمَتْ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَمُدَّتِهِمْ إِذْ عَاهَدُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ ابْنِهَا، فَاسْتَفْتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، صِلِي أُمَّكِ"
اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے ہشام نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میری والدہ مشرکہ تھیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریش کے ساتھ صلح کے زمانہ میں اپنے والد کے ساتھ (مدینہ منورہ) آئیں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے متعلق پوچھا کہ میری والدہ آئی ہیں اور وہ اسلام سے الگ ہیں (کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5979]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”میری والدہ مشرکہ تھیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریش کے ساتھ معاہدہ صلح کے وقت اپنے والد کے ہمراہ مدینہ طیبہ آئیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ طلب کیا اور عرض کی کہ میری والدہ مجھ سے صلہ رحمی کی امید لے کر آئی ہے، کیا میں اس سے صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5979]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5979 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5979
حدیث حاشیہ:
حضرت اسماء شادی شدہ خاتون تھیں، ان کی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے شادی ہو چکی تھی۔
چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو اپنی ماں سے صلہ رحمی کرنے کی اجازت دی اور اس سلسلہ میں ان کے خاوند سے مشورہ کرنے کا حکم نہیں دیا۔
(فتح الباري: 508/10)
لہٰذا اپنی ماں سے صلہ رحمی کرنے کے سلسلے میں خاوند سے مشورہ لینے کی ضرورت نہیں، عورت کو اپنی ماں سے صلہ رحمی کرنی چاہیے۔
شادی کے بعد بھی اس کا فرض اور ماں کا حق خدمت ختم نہیں ہوتا، البتہ حقوق کے ٹکراؤ کی صورت میں خاوند کا حق فائق ہوگا۔
واللہ أعلم
حضرت اسماء شادی شدہ خاتون تھیں، ان کی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے شادی ہو چکی تھی۔
چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو اپنی ماں سے صلہ رحمی کرنے کی اجازت دی اور اس سلسلہ میں ان کے خاوند سے مشورہ کرنے کا حکم نہیں دیا۔
(فتح الباري: 508/10)
لہٰذا اپنی ماں سے صلہ رحمی کرنے کے سلسلے میں خاوند سے مشورہ لینے کی ضرورت نہیں، عورت کو اپنی ماں سے صلہ رحمی کرنی چاہیے۔
شادی کے بعد بھی اس کا فرض اور ماں کا حق خدمت ختم نہیں ہوتا، البتہ حقوق کے ٹکراؤ کی صورت میں خاوند کا حق فائق ہوگا۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5979]
Sahih Bukhari Hadith 5979 in Urdu