صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب ما يقول إذا سمع المنادي:
باب: اس بارے میں کہ اذان کا جواب کس طرح دینا چاہیے۔
حدیث نمبر: 612
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ،" أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَوْمًا فَقَالَ مِثْلَهُ إِلَى قَوْلِهِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ" حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى نَحْوَهُ.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے محمد بن ابراہیم بن حارث سے کہا کہ مجھ سے عیسیٰ بن طلحہ نے بیان کیا کہ انھوں نے معاویہ بن ابی سفیان سے ایک دن سنا آپ (جواب میں) مؤذن کے ہی الفاظ کو دہرا رہے تھے۔ «أشهد أن محمدا رسول الله» تک۔ ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 612]
عیسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے ایک دن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے «وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“ تک اسی طرح کہا جس طرح مؤذن نے کہا تھا۔ پھر امام بخاری رحمہ اللہ نے اسحاق بن راہویہ کے طریق سے اسی طرح کی ایک روایت بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 612]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 612 in Urdu
هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← يحيى بن أبي كثير الطائي