صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُنَادِي:
باب: اس بارے میں کہ اذان کا جواب کس طرح دینا چاہیے۔
حدیث نمبر: 611
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابن شہاب زہری سے خبر دی، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ جب تم اذان سنو تو جس طرح مؤذن کہتا ہے اسی طرح تم بھی کہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 611]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اذان سنو تو وہی کلمات کہو جو مؤذن کہتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 611]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 612
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ،" أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَوْمًا فَقَالَ مِثْلَهُ إِلَى قَوْلِهِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ" حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى نَحْوَهُ.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے محمد بن ابراہیم بن حارث سے کہا کہ مجھ سے عیسیٰ بن طلحہ نے بیان کیا کہ انھوں نے معاویہ بن ابی سفیان سے ایک دن سنا آپ (جواب میں) مؤذن کے ہی الفاظ کو دہرا رہے تھے۔ «أشهد أن محمدا رسول الله» تک۔ ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 612]
عیسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے ایک دن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے «وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“ تک اسی طرح کہا جس طرح مؤذن نے کہا تھا۔ پھر امام بخاری رحمہ اللہ نے اسحاق بن راہویہ کے طریق سے اسی طرح کی ایک روایت بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 612]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 613
قَالَ يَحْيَى: وَحَدَّثَنِي بَعْضُ إِخْوَانِنَا، أَنَّهُ قَالَ:" لَمَّا قَالَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"، وَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْنَا نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ.
یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے میرے بعض بھائیوں نے حدیث بیان کی کہ جب مؤذن نے «حى على الصلاة» کہا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہا اور کہنے لگے کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی کہتے سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 613]
حضرت یحییٰ بن ابوکثیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے بعض بھائیوں نے بیان کیا کہ مؤذن نے جب «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کے لیے آؤ“ کہا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ”اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی برائی سے ٹلنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت“ کہا اور فرمایا: میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کہتے سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 613]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة