Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
106. باب قول النبى صلى الله عليه وسلم: سموا باسمي، ولا تكتنوا بكنيتي :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت نہ رکھو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6189
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ، فَقَالُوا لَا نَكْنِيكَ بِأَبِي الْقَاسِمِ، وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے محمد بن المنکدر سے سنا کہ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ہم میں سے ایک آدمی کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ صحابہ نے کہا کہ ہم تمہاری کنیت ابوالقاسم نہیں رکھیں گے اور نہ تیری آنکھ اس کنیت سے پکار کر ٹھنڈی کریں گے۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے لڑکے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6189]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن المنكدر القرشي
ثقة حافظ حجة
👤←👥عبد الله بن محمد الجعفي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد الجعفي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6189 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6189
حدیث حاشیہ:
اکثر علماء نے کہا ہے کہ یہ ممانعت آپ کی حیات تک تھی کیونکہ اس وقت ابو القاسم کنیت رکھنے سے آپ کو تکلیف ہوتی تھی۔
ایک روایت میں ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے پکارا یا ابا القاسم۔
آپ اس پر متوجہ ہو گئے تو اس شخص نے کہا کہ میں نے آپ کو نہیں پکارا تھا اس وقت آپ نے اشتباہ کو روکنے کے لئے یہ حکم صادر فرمایا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6189]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6189
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ابو القاسم کنیت اختیار کرنا جائز نہ تھا۔
اس ممانعت کی وجہ یہ تھی کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تھے، ایک شخص نے ابو القاسم کہہ کر آواز دی تو آپ نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
آواز دینے والے نے کہا:
میں نے آواز آپ کو نہیں دی بلکہ فلاں شخص کو دی ہے۔
اس وقت آپ نے یہ کنیت رکھنے سے منع فرما دیا۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2121)
رخصت کے متعلق ایک حدیث بھی مروی ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی:
اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد میرے ہاں بچہ پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام اور کنیت آپ کے نام اور کنیت پر رکھ سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا:
ہاں رکھ سکتے ہو۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4967)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6189]