🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب تسليم الماشي على القاعد:
باب: چلنے والا پہلے بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6233
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ ثَابِتًا أَخْبَرَهُ وَهُوَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ".
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے زیاد نے خبر دی، انہیں ثابت نے خبر دی جو عبدالرحمٰن بن زید کے غلام ہیں۔ اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے شخص کو اور چھوٹی جماعت پہلے بڑی جماعت کو سلام کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6233]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥ثابت بن الأحنف
Newثابت بن الأحنف ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥زياد بن سعد الخراساني، أبو عبد الرحمن
Newزياد بن سعد الخراساني ← ثابت بن الأحنف
ثقة ثبت
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← زياد بن سعد الخراساني
ثقة
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← روح بن عبادة القيسي
ثقة حافظ إمام
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6233 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6233
حدیث حاشیہ:
سلام میں پہل کرنے کی بہت فضیلت ہے جیسا کہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لوگوں میں اللہ کے ہاں سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو انہیں سلام کہنے میں ابتدا کرے۔
(سنن أبي داود، الأدب حدیث: 5197)
مگر مذکورہ بالا حدیث میں بیان شدہ آداب کو ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
ہاں پیدل چلنے والے اگر باہمی ملاقات کریں تو ان میں افضل وہ ہے جو سلام کہنے میں ابتدا کرتا ہے جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پیدل چلنے والوں میں جو کوئی سلام کہنے میں ابتدا کرتا ہے وہ افضل ہے۔
(الأدب المفرد، حدیث: 983)
ایک حدیث میں مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سوار، پیدل کو اور پیدل بیٹھنے والے کو، تعداد میں کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔
جو سلام کا جواب دے گا اسے اجر ملے گا اور جو جواب نہیں دے گا وہ ثواب سے محروم رہے گا۔
(مسند أحمد: 444/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6233]

Sahih Bukhari Hadith 6233 in Urdu