🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب التسليم على الصبيان:
باب: بچوں کو سلام کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6247
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" أَنَّهُ مَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ".
ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں سیار نے انہوں نے ثابت بنانی سے روایت کی، انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ آپ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6247]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥سيار بن أبي سيار العنزي، أبو الحكم
Newسيار بن أبي سيار العنزي ← ثابت بن أسلم البناني
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سيار بن أبي سيار العنزي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥علي بن الجعد الجوهري، أبو الحسن
Newعلي بن الجعد الجوهري ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت رمي بالتشيع
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6247 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6247
حدیث حاشیہ:
(1)
بچوں کو سلام کہنے میں بڑے آدمی کے لیے کوئی ہتک والی بات نہیں بلکہ ان کی تعلیم و تربیت کا ایک حصہ اور ان کے ساتھ انس و پیار کا اظہار ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے پاس سے گزرے جبکہ وہ کھیل رہے تھے تو آپ نے انہیں سلام کیا۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5202)
بلکہ ایک روایت میں مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی ملاقات کے لیے جاتے تو ان کے بچوں کو سلام کہتے اور ان کے سروں پر محبت بھرا ہاتھ پھیرتے، نیز ان کے لیے خیر و برکت کی دعا فرماتے۔
(السنن الکبریٰ للنسائي، حدیث: 8349) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اگر فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو خوبصورت بچے کو سلام نہ کرے خاص طور پر جب وہ نوخیز اور اکیلا ہو۔
(فتح الباري: 41/11)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ مدرسے میں زیر تعلیم بچوں کو سلام کہتے تھے۔
(الأدب المفرد، حدیث: 1044)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6247]