🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. بَابُ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَقَالَ عِنْدَهُمْ:
باب: اگر کوئی شخص کہیں ملاقات کو جائے اور دوپہر کو وہیں آرام کرے تو یہ جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6282
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ قَالَ: مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ"، شَكَّ إِسْحَاقُ، قُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ"، فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ"، فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ زَمَانَ مُعَاوِيَةَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے۔ عبداللہ بن ابی طلحہ نے ان سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء تشریف لے جاتے تھے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر بھی جاتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلاتی تھیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور بیدار ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے (خواب میں) پیش کئے گئے، جو اس سمندر کے اوپر (کشتیوں میں) سوار ہوں گے (جنت میں وہ ایسے نظر آئے) جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں، یا بیان کیا کہ بادشاہوں کی طرح تخت پر۔ اسحاق کو ان لفظوں میں ذرا شبہ تھا (ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے بنائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستہ میں غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کئے گئے جو اس سمندر کے اوپر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تحت پر ہوتے ہیں یا مثل بادشاہوں کے تخت پر۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ سے میرے لیے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اس گروہ کے سب سے پہلے لوگوں میں ہو گی چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے (معاویہ رضی اللہ عنہ کی شام پر گورنری کے زمانہ میں) سمندری سفر کیا اور خشکی پر اترنے کے بعد اپنی سواری سے گر پڑیں اور وفات پا گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6282]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء جاتے تو حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر بھی جاتے تھے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلاتی تھیں۔ اور حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔ وہ اس سمندر کے اوپر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں۔ یا فرمایا وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر ہیں اسحاق راوی کو ان الفاظ میں شک ہے۔ میں نے عرض کی: دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں کر دے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ جب بیدار ہوئے تو پھر مسکرا رہے تھے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنس رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت سے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔ وہ اس سمندر پر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں یا وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر ہیں۔ میں نے عرض کی: آپ اللہ سے میرے لیے دعا کر دیں کہ مجھے بھی ان میں کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے لوگوں میں سے ہو۔ چنانچہ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں سمندری سفر کیا اور خشکی پر اترنے کے بعد اپنی سواری سے گر پڑیں اور وفات پا گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6282]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح
Newإسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة حجة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي أويس الأصبحي ← مالك بن أنس الأصبحي
صدوق يخطئ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6282
ناس من أمتي عرضوا علي غزاة في سبيل الله يركبون ثبج هذا البحر ملوكا على الأسرة
صحيح البخاري
2878
ناس من أمتي يركبون البحر الأخضر في سبيل الله مثلهم منهم
صحيح مسلم
4934
ناس من أمتي عرضوا علي غزاة في سبيل الله يركبون ثبج هذا البحر
جامع الترمذي
1645
ناس من أمتي عرضوا علي غزاة في سبيل الله يركبون ثبج هذا البحر ملوك
سنن النسائى الصغرى
3173
ناس من أمتي عرضوا علي غزاة في سبيل الله يركبون ثبج هذا البحر ملوك على الأسرة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6282 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6282
حدیث حاشیہ:
ہر دو روایتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قیلولہ کا باب کے مطابق کرنے کا ذکر ہے یہی حدیث اور باب میں مطابقت ہے۔
پہلی روایت میں آپ کے خوشبودار پسینے کا ذکر ہے صد بار قابل تعریف ہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ جن کو یہ بہترین خوشبو نصیب ہوئی۔
دوسری روایت میں حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کے متعلق ایک پیش گوئی کا ذکر ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں حرف بہ حرف صحیح ہوئی۔
حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا اس جنگ میں واپسی کے وقت اپنی سواری سے گر کر شہید ہو گئی تھیں۔
اس طرح پیش گوئی پوری ہوئی۔
اس سے سمندری سفر کا جائز ہونا بھی ثابت ہوا، پر آج کل تو سمندری سفر بہت ضروری اور آسان بھی ہوگیا ہے جیسا کہ مشاہدہ ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6282]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6282
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے تو وہیں قیلولہ فرمایا۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصود اس حدیث کے بیان کرنے سے ہی ہے۔
(2)
حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں۔
ہجرت کے بیسویں سال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں ایک لشکر کے ساتھ نکل گئیں تو سمندر سے باہر نکلتے وقت سواری سے گر کر فوت ہوئیں۔
اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔
اس حدیث سے سمندری سفر کرنا جائز ثابت ہوا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں قیلولہ کرتے تھے۔
(فتح الباري: 93/11)
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6282]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2878
2878. حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان ؓ کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے ہاں تکیہ لگا کر سو گئے۔ پھر(جب اٹھے تو) آپ مسکرارہے تھے۔ انھوں (ام حرام ؓ) نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لیے) سبز سمندر پر سوار ہیں، جیسے بادشاہ تخت پر فروکش ہوں۔ انھوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ مجھے ان میں سے کردے۔ آپ نے دعا فرمائی: اے اللہ! اسے بھی ان لوگوں میں سے کردے۔ پھر آپ دوبارہ (لیٹ کر اٹھے تو) مسکرارہے تھے تو انھوں نے اس مرتبہ بھی آپ سے وہی سوال کیا تو آپ نے اسی طرح جواب دیا۔ ام حرام نے عرض کیا: آپ دعا کریں کہ اللہ مجھے ان لوگوں میں سے کردے۔ آپ نے فرمایا: تو پہلے لوگوں میں ہوچکی ہے، بعد والوں میں تیری شرکت نہیں ہوگی۔ حضرت انس ؓبیان کرتے ہیں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2878]
حدیث حاشیہ:
یہ نکاح کا معاملہ دوسری روایت کے خلاف پڑتا ہے‘ جس میں یہ ہے کہ اسی وقت عبادہ بن صامت ؓ کے نکاح میں تھیں۔
شاید انہوں نے طلاق دے دی ہوگی‘ بعد میں ان سے نکاح ثانی کیا ہوگا۔
یہ اس جنگ کا ذکر ہے جس میں حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں رجب ۲۸ھ میں سب سے پہلا سمندری بیڑہ حضرت معاویہ ؓنے امیر المؤمنین کی اجازت سے تیار کیا اور قبرص پر چڑھائی کی۔
یہ مسلمانوں کی سب سے پہلی بحری جنگ تھی جس میں ام حرام ؓ جو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزیزہ تھیں‘ شریک ہوئیں اور شہادت بھی پائی۔
حضرت معاویہ ؓ کی بیوی کا نام فاختہ تھا اور وہ بھی آپ کے ساتھ اس میں شریک تھیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2878]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3173
سمندر میں جہاد کرنے کی فضیلت کا بیان۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قباء جاتے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے یہاں بھی جاتے، وہ آپ کو کھانا کھلاتیں۔ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور آپ کے سر کی جوئیں دیکھنے بیٹھ گئیں۔ آپ سو گئے، پھر جب اٹھے تو ہنستے ہوئے اٹھے، کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3173]
اردو حاشہ:
1) حضرت امام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہ نتھیال کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محرم اور رشتہ دار تھیں۔ آپ کا ان کے پاس کثرت سے جان اور ان کا آپ کے سر میں جوئیں تلاش کرنا اس پر کافی دلیل ہے۔ ورنہ آپ انصار کے دوسرے گھروں میں اس طرح نہ آتے جاتے تھے۔ بعض حضرات نے اسے آپ کا خلاصہ بتلایا ہے مگر پہلی بات ہی درست ہے۔ (2) آپ کے سر میں جوئیں نہ ہوتی تھیں۔ آپ انتہائی صاف ستھرے اور خوشبودار رہتے تھے۔ ان کا آپ کے سر میں جوئیں تلاش کرنا عورتوں کی عام عادت پر محمول ہے۔ (3) سمندر کی موجوں پر سوار یعنی وہ بحری سفر ہوگا۔ بحری جنگ سب سے پہلے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوئی۔ امیر لشکر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔ اس مہم کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے خواب میں ہے۔ دوسرا بحری بیڑہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں روانہ ہوا۔ امیر لشکر ان کا بیٹا یزید تھا۔ اس لشکر میں بہت سے صحابہ کرام تشریف لے گئے تھے تاکہ آپ کی پیش گوئی اور نوید مغفرت کامصداق بن سکیں۔ اس لشکر کا تذکرہ آپ کے دسرے خواب میں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق حضرت ام حرامؓ پہلے لشکر میں اپنے خاوند محترم کے ساتھ موجود تھیں اور اسی میں وہ اللہ تعالیٰ کو پیاری ہوگئیں۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہَا۔(4) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں اس سے مرد ان کا اپنا دور خلافت نہیں بلکہ لشکر کی سربراہی مراد ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3173]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2878
2878. حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان ؓ کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے ہاں تکیہ لگا کر سو گئے۔ پھر(جب اٹھے تو) آپ مسکرارہے تھے۔ انھوں (ام حرام ؓ) نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لیے) سبز سمندر پر سوار ہیں، جیسے بادشاہ تخت پر فروکش ہوں۔ انھوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ مجھے ان میں سے کردے۔ آپ نے دعا فرمائی: اے اللہ! اسے بھی ان لوگوں میں سے کردے۔ پھر آپ دوبارہ (لیٹ کر اٹھے تو) مسکرارہے تھے تو انھوں نے اس مرتبہ بھی آپ سے وہی سوال کیا تو آپ نے اسی طرح جواب دیا۔ ام حرام نے عرض کیا: آپ دعا کریں کہ اللہ مجھے ان لوگوں میں سے کردے۔ آپ نے فرمایا: تو پہلے لوگوں میں ہوچکی ہے، بعد والوں میں تیری شرکت نہیں ہوگی۔ حضرت انس ؓبیان کرتے ہیں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2878]
حدیث حاشیہ:

حضرت عثمان ؓکے دور حکومت میں حضرت امیر معاویہ ؓ کی زیر نگرانی مسلمانوں نے پہلا سمندری سفر کیا اور قبرص پر چڑھائی کی۔
اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق حضرت اُم حرام ؓ بھی شریک ہوئیں اور شہادت پائی۔
حضرت امیر معاویہ ؓ کی زوجہ محترمہ بنت قرظہ بھی آپ کے ہمراہ تھیں۔

اس حدیث سے امام بخاری ؓ نے عورتوں کے لیے جہاد میں شرکت کو ثابت کیا ہے خواہ انھیں بحری سفر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
واضح رہے کہ حضرت ام حرام بنت ملحان ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعى خالہ تھیں اس لیے آپ کا ان کے گھر آناجانا تھا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2878]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4934
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ تعالی عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے اور وہ آپ کو کھانا پیش کرتی تھیں اور وہ (وفات کے وقت) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ کی اہلیہ تھیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاں تشریف لے گئے اور اس نے آپ کو کھانا کھلایا، پھر بیٹھ کر آپ کے سر سے جوئیں دیکھنے لگیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4934]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محرم تھیں،
لیکن اس کی کیفیت میں اختلاف ہے،
بقول بعض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں اور بقول بعض آپ کے باپ یا دادا عبدالمطلب کی خالہ تھیں،
کیونکہ انہی کی والدہ بنو نجار سے تھیں،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاں جاتے اور آپ نے انہیں اپنے خواب کا واقعہ سنایا،
کہ میری جماعت کے کچھ لوگ بڑی ٹھاٹھ باٹھ اور شان و شوکت کے ساتھ سمندری جہاد کریں گے،
جس پر ام حرام رضی اللہ عنہا نے بھی ان میں شامل ہونے کی آرزو کی،
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی اور پھر یہ واقعہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں 28ھ میں جبکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے گورنر تھے،
پیش آیا اور وہ آپ کی امت کے سب سے پہلے امیر البحر تھے اور یہ واقعہ آپ کی پیش گوئی کے مطابق پیش آیا،
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی بحری جہاد کی اجازت طلب کی تھی،
لیکن انہوں نے اجازت نہ دی،
پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے اجازت طلب کی اور اس پر اصرار کرتے رہے،
جس کی بنا پر انہوں نے اس شرط کے ساتھ اجازت دی،
جو لوگ راضی خوشی،
خودبخود جانا چاہیں،
انہیں لے جاؤ،
انہوں نے اس کو قبول کر لیا،
اس سفر میں حضرت ام ملحان رضی اللہ عنہا بھی تھیں،
وہ واپسی پر اپنے خاوند کے ساتھ سواری پر سوار ہوئیں اور گر کر مر گئیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4934]

Sahih Bukhari Hadith 6282 in Urdu