🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب الاستلقاء:
باب: چت لیٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6287
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ مُسْتَلْقِيًا وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عباد بن تمیم نے خبر دی، ان سے ان کے چچا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں چت لیٹے دیکھا آپ ایک پاؤں دوسرے پر رکھے ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6287]
حضرت عباد بن تمیم رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں چت لیٹے دیکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک ٹانگ دوسری پر رکھی ہوئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6287]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن زيد الأنصاري، أبو محمدصحابي
👤←👥عباد بن تميم المازني
Newعباد بن تميم المازني ← عبد الله بن زيد الأنصاري
له رؤية
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عباد بن تميم المازني
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6287
في المسجد مستلقيا واضعا إحدى رجليه على الأخرى
صحيح مسلم
5504
مستلقيا في المسجد واضعا إحدى رجليه على الأخرى
سنن النسائى الصغرى
722
مستلقيا في المسجد واضعا إحدى رجليه على الأخرى
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6287 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6287
حدیث حاشیہ:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ انسان چت لیٹ کر ایک پاؤں دوسرےپاؤں پررکھے۔
(صحیح مسلم، اللباس والزینة، حدیث: 5499(2099)
یہ حدیث مذکورہ حدیث کے مخالف ہے لیکن ان دونوں حدیثوں میں تطبیق اس طرح ہے کہ جب چت لیٹے اور شرمگاہ ننگی ہو تو منع ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اور اگر ننگی نہ ہو تو جائز ہے جیسا کہ صحیح بخاری کی مذکورہ حدیث میں ہے، لہٰذا ان حدیثوں میں کوئی تعارض نہیں ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6287]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 722
مسجد میں چت لیٹنے کا بیان۔
عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اپنے ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھ کر چت لیٹے ہوئے دیکھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 722]
722 ۔ اردو حاشیہ: ایک روایت میں پاؤں پر پاؤں رکھ کر چت لیٹنے کی ممانعت بھی وارد ہے۔ دیکھیے: [صحیح مسلم، اللباس، حدیث: (72) – 2099]
بعض علماء کے بقول دونوں روایات میں تطبیق یوں ہے کہ ٹانگیں بچھی ہوئی ہوں تو پاؤں پر پاؤں رکھ کر لیٹنا جائز ہے کیونکہ اس طرح پردہ صحیح ہو جاتا ہے اور اگر گھٹنے کھڑے ہوں اور ٹانگ پر ٹانگ رکھی ہو تو یہ منع ہے کیونکہ یہ شکل دیکھنے میں قبیح لگتی ہے۔ امام خطابی رحمہ اللہ کے بقول ممانعت والی حدیث منسوخ ہے، لیکن اس کی دلیل ہونی چاہیے۔ راجح یہ ہے کہ اگر پردہ برقرار رہے تو چت لیٹ کر کسی بھی طرح ٹانگوں پر ٹانگیں رکھی جا سکتی ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں، یہ جائز ہے اور نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 722]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5504
حضرت عباد بن تمیم اپنے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی) سے بیان کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں چت لیٹے دیکھا، ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھا ہوا تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5504]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس کی صورت کی وضاحت ہم پچھلے باب میں کر چکے ہیں یعنی پاؤں پر پاؤں رکھنا جائز ہے،
گھٹنا کھڑا کر کے اس پر پاؤں رکھنا درست نہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5504]

Sahih Bukhari Hadith 6287 in Urdu