🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. باب القصاص يوم القيامة:
باب: قیامت کے دن بدلہ لیا جانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6534
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهَا، فَإِنَّهُ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْخَذَ لِأَخِيهِ مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ أَخِيهِ، فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہئے کہ اس سے (اس دنیا میں) معاف کرا لے۔ اس لیے کہ آخرت میں روپے پیسے نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے (معاف کرا لے) کہ اس کے بھائی کے لیے اس کی نیکیوں میں سے حق دلایا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو اس (مظلوم) بھائی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6534]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہیے کہ اس سے معاف کرا لے کیونکہ وہاں درہم و دینار نہیں ہوں گے، قبل اس کے کہ اس کے بھائی کا بدلہ چکانے کے لیے اس کی نیکیوں سے کچھ لیا جائے۔ اگر اس کی نیکیاں نہیں ہوں گی تو مظلوم کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6534]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي أويس الأصبحي ← مالك بن أنس الأصبحي
صدوق يخطئ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2449
من كانت له مظلمة لأخيه من عرضه أو شيء فليتحلله منه اليوم قبل أن لا يكون دينار ولا درهم إن كان له عمل صالح أخذ منه بقدر مظلمته وإن لم تكن له حسنات أخذ من سيئات صاحبه فحمل عليه
صحيح البخاري
6534
من كانت عنده مظلمة لأخيه فليتحلله منها فإنه ليس ثم دينار ولا درهم من قبل أن يؤخذ لأخيه من حسناته فإن لم يكن له حسنات أخذ من سيئات أخيه فطرحت عليه
جامع الترمذي
2419
رحم الله عبدا كانت لأخيه عنده مظلمة في عرض أو مال فجاءه فاستحله قبل أن يؤخذ وليس ثم دينار ولا درهم فإن كانت له حسنات أخذ من حسناته وإن لم تكن له حسنات حملوا عليه من سيئاتهم
المعجم الصغير للطبراني
923
من ظلم أخاه بمظلمة فليتحلله اليوم قبل أن يؤخذ من حسناته ليس ثمة دينار ولا درهم فإن كان له عمل صالح أخذ منه بقدر مظلمته وإن لم يكن له عمل صالح أخذت من سيئات صاحبه فألقيت عليه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6534 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6534
حدیث حاشیہ:
حقوق العباد ہرگز معاف نہ ہوں گے جب تک بندے وہ حقوق نہ چکا دیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6534]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6534
حدیث حاشیہ:
حقوق العباد کا معاملہ بہت سنگین ہے، اسے کسی صورت میں معاف نہیں کیا جائے گا۔
اگر صاحب حق معاف کر دے تو الگ بات ہے بصورت دیگر اس کا بدلہ لیا جائے گا جیسا کہ حدیث میں ہے:
اگر کسی جہنمی کا کسی جنتی کے ذمے کوئی حق ہو گا تو اہل جنت کو جنت میں جانے کی اجازت نہیں ہو گی حتی کہ اس کا بدلہ لے لیا جائے، اگر کسی نے دوسرے کو بلاوجہ تھپڑ رسید کیا ہو گا تو اس کا بھی بدلہ لیا جائے گا۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:
اللہ کے رسول! ہم تو وہاں ننگے بدن اور برہنہ پاؤں جائیں گے تو یہ بدلہ کیسے دیا جائے گا؟ آپ نے فرمایا:
برائیوں اور نیکیوں کے ذریعے سے حساب چکایا جائے گا۔
(مسند أحمد: 495/3)
بہرحال انسان کو حقوق العباد کے معاملے میں بہت حساس ہونا چاہیے۔
کسی دوسرے پر ظلم و زیادتی کرتے وقت اس حدیث کو ضرور پیش رکھنا چاہیے۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6534]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2449
2449. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی نے دوسرے کی عزت یا کسی اور چیز پرظلم کیا ہووہ اس سے آج ہی معاف کرالے پہلے اس سے کہ وہ دن آئے جس میں درہم ودینار نہیں ہوں گے، پھر اگر ظالم کا کوئی نیک عمل ہوگا تو اس کے ظلم کی مقدار اس سے لے لیا جائے گا۔ اگر اس کی نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کے گناہ ظالم کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے۔ ابو عبداللہ(امام بخاری) فرماتے ہیں: اسماعیل بن ابی اویس کو مقبری اس لیے کہاجاتاہے کہ وہ قبرستان کے ایک کنارے پررہتے تھے۔ اور سعید مقبری بنو لیث کاآزاد کردہ غلام ہے۔ اس کا پورا نام سعید بن ابی سعید ہے، اور اس کے باپ ابو سعید کا نام کیسان ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2449]
حدیث حاشیہ:
مظلمہ ہر اس ظلم کو کہتے ہیں جسے مظلوم از راہ صبر برداشت کرلے، کوئی جانی ظلم ہو یا مالی سب پر لفظ مظلمہ کا اطلاق ہوتا ہے، کوئی شخص کسی سے اس کا مال زبردستی چھین لے تو یہ بھی مظلمہ ہے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ ظالموں کو اپنے مظالم کی فکر دنیا ہی کر لینی چاہئے۔
کہ وہ مظلوم سے معاف کرالیں، ان کا حق ادا کردیں ورنہ موت کے بعد ان سے پورا پورا بدلہ دلایا جائے گا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2449]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2449
2449. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی نے دوسرے کی عزت یا کسی اور چیز پرظلم کیا ہووہ اس سے آج ہی معاف کرالے پہلے اس سے کہ وہ دن آئے جس میں درہم ودینار نہیں ہوں گے، پھر اگر ظالم کا کوئی نیک عمل ہوگا تو اس کے ظلم کی مقدار اس سے لے لیا جائے گا۔ اگر اس کی نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کے گناہ ظالم کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے۔ ابو عبداللہ(امام بخاری) فرماتے ہیں: اسماعیل بن ابی اویس کو مقبری اس لیے کہاجاتاہے کہ وہ قبرستان کے ایک کنارے پررہتے تھے۔ اور سعید مقبری بنو لیث کاآزاد کردہ غلام ہے۔ اس کا پورا نام سعید بن ابی سعید ہے، اور اس کے باپ ابو سعید کا نام کیسان ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2449]
حدیث حاشیہ:
(1)
اگر کوئی شخص کسی کا حق ضبط کر لیتا ہے، بعد ازاں وہ معافی مانگ کر اسے راضی کر لیتا ہے تو معافی لینے والے کو دنیا و آخرت میں معافی ہو جائے گی اگرچہ اس نے معافی لیتے وقت ظلم کی نوعیت اور حق کی مقدار بیان نہ کی ہو۔
بعض حضرات کا خیال ہے کہ معافی تب ہو گی جب وہ ظلم کی وضاحت کرے۔
امام بخاری ؒ نے عنوان میں اس کے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا لیکن حدیث میں معافی کا اطلاق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب معاف کر دیا جائے تو اس کی مقدار بیان کرے یا نہ کرے دونوں طرح صحیح ہے۔
(2)
ہمارا رجحان یہ ہے کہ حقوق دو طرح کے ہیں:
اخلاقی، مثلاً:
غیبت اور عیب جوئی وغیرہ۔
اس قسم کے حقوق کے لیے معافی لیتے وقت وضاحت ضروری نہیں کیونکہ بعض اوقات وضاحت سے معاملہ مزید بگڑ جاتا ہے۔
دوسرے مالی حقوق ہیں، اگر حق دار اس کا مطالبہ کرے تو وضاحت کر دی جائے بصورت دیگر انہیں مجمل رکھا جا سکتا ہے اور معافی کے بعد اس کا عنداللہ کوئی مؤاخذہ نہیں ہو گا۔
(3)
قرآن کریم میں ہے:
﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گی۔
(فاطر18: 35)
یہ قرآنی نص مذکورہ حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ ظالم پر جو مظلوم کی برائیاں ڈالی جاتی ہیں وہ دراصل اس ظالم کی کمائی کا نتیجہ ہوں گی۔
(فتح الباري: 127/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2449]

Sahih Bukhari Hadith 6534 in Urdu