صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ:
باب: جنت و جہنم کا بیان۔
حدیث نمبر: 6569
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ أَحَدٌ الْجَنَّةَ، إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ لَوْ أَسَاءَ، لِيَزْدَادَ شُكْرًا، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ، أَحَدٌ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ لَوْ أَحْسَنَ، لِيَكُونَ عَلَيْهِ حَسْرَةً".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں جو بھی داخل ہو گا اسے اس کا جہنم کا ٹھکانا بھی دکھایا جائے گا کہ اگر نافرمانی کی ہوتی (تو وہاں اسے جگہ ملتی) تاکہ وہ اور زیادہ شکر کرے اور جو بھی جہنم میں داخل ہو گا اسے اس کا جنت کا ٹھکانا بھی دکھایا جائے گا کہ اگر اچھے عمل کئے ہوتے (تو وہاں جگہ ملتی) تاکہ اس کے لیے حسرت و افسوس کا باعث ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6569]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں کوئی بھی داخل نہیں ہوگا مگر اسے دوزخ میں اس کی جگہ دکھائی جائے گی اگر وہ برائی کرتا تاکہ وہ زیادہ شکر کرے۔ اور کوئی بھی دوزخ میں داخل نہیں ہوگا مگر جنت میں اس کی جگہ اسے دکھائی جائے گی کہ اگر وہ اچھے عمل والا ہوتا (تو یہ اس کا مقام تھا) تاکہ اس کی حسرت و ندامت میں مزید اضافہ ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6569]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6569
| لا يدخل أحد الجنة إلا أري مقعده من النار لو أساء ليزداد شكرا لا يدخل النار أحد إلا أري مقعده من الجنة لو أحسن ليكون عليه حسرة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6569 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6569
حدیث حاشیہ:
(1)
اس امر کی وضاحت ایک دوسری حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تم میں سے ہر ایک کے دو گھر ہیں:
ایک گھر جنت میں اور ایک گھر جہنم میں۔
جب کوئی فوت ہو کر جہنم میں جاتا ہے تو اس کا جنت والا گھر وراثت میں اہل جنت کو مل جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ارشاد:
”یہی لوگ وراثت پانے والے ہیں۔
“ کا یہی مطلب ہے۔
(المؤمنون: 10/23، و سنن ابن ماجة، الزھد، حدیث: 4341) (2)
ہر مرنے والے کو یہ دونوں گھر اس وقت دکھائے جاتے ہیں جب وہ قبر میں پہنچتا ہے جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ قبر میں اسے جہنمی ٹھکاناہ دکھاتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے:
”دیکھو اللہ تعالیٰ نے تجھے کس چیز سے بچا لیا ہے۔
“ (سنن ابن ماجة، الزھد، حدیث: 4268)
اس سے اللہ تعالیٰ کے بے مثال عدل اور اس کی انتہائی رحمت کا پتا چلتا ہے۔
(1)
اس امر کی وضاحت ایک دوسری حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تم میں سے ہر ایک کے دو گھر ہیں:
ایک گھر جنت میں اور ایک گھر جہنم میں۔
جب کوئی فوت ہو کر جہنم میں جاتا ہے تو اس کا جنت والا گھر وراثت میں اہل جنت کو مل جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ارشاد:
”یہی لوگ وراثت پانے والے ہیں۔
“ کا یہی مطلب ہے۔
(المؤمنون: 10/23، و سنن ابن ماجة، الزھد، حدیث: 4341) (2)
ہر مرنے والے کو یہ دونوں گھر اس وقت دکھائے جاتے ہیں جب وہ قبر میں پہنچتا ہے جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ قبر میں اسے جہنمی ٹھکاناہ دکھاتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے:
”دیکھو اللہ تعالیٰ نے تجھے کس چیز سے بچا لیا ہے۔
“ (سنن ابن ماجة، الزھد، حدیث: 4268)
اس سے اللہ تعالیٰ کے بے مثال عدل اور اس کی انتہائی رحمت کا پتا چلتا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6569]
Sahih Bukhari Hadith 6569 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي