🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب ميراث الزوج مع الولد وغيره:
باب: اولاد کے ساتھ خاوند کو کیا ملے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6739
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ الْمَالُ لِلْوَلَدِ، وَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ، فَنَسَخَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ مَا أَحَبَّ، فَجَعَلَ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ سورة النساء آية 11، وَجَعَلَ لِلْأَبَوَيْنِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ، وَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الثُّمُنَ وَالرُّبُعَ، وَلِلزَّوْجِ الشَّطْرَ وَالرُّبُعَ".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ورقاء نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پہلے مال کی اولاد مستحق تھی اور والدین کو وصیت کا حق تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں سے جو چاہا منسوخ کر دیا اور لڑکوں کو لڑکیوں کے دگنا حق دیا اور والدین کو اور ان میں سے ہر ایک کو چھٹے حصہ کا مستحق قرار دیا اور بیوی کو آٹھویں اور چوتھے حصہ کا حق دار قرار دیا اور شوہر کو آدھے یا چوتھائی کا حقدار قرار دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6739]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥عبد الله بن أبي نجيح الثقفي، أبو يسار
Newعبد الله بن أبي نجيح الثقفي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥ورقاء بن عمر اليشكري، أبو بشر
Newورقاء بن عمر اليشكري ← عبد الله بن أبي نجيح الثقفي
ثقة
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الفريابي ← ورقاء بن عمر اليشكري
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6739 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6739
حدیث حاشیہ:
(1)
دور جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ ترکے کی وارث صرف بالغ اولاد نرینہ ہوا کرتی تھی، ماں، باپ اور قریبی رشتے دار محروم رہتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے درج ذیل آیت کی رو سے والدین اور قریبی رشتے داروں کے لیے وصیت فرض کر دی:
تم پر فرض کردیا گیا کہ اگر تم میں سے کسی کو موت آجائے اور وہ کچھ مال ودولت چھوڑے جارہا ہو تو مناسب طور پر اپنے والدین اور قریبی رشتے داروں کے حق میں وصیت کرجائے۔
(البقرۃ 2: 180)
پھر اللہ تعالیٰ نے آیت میراث کے ذریعے سے اس آیت کو منسوخ کر دیا اور والدین، نیز قریبی رشتے داروں کے لیے حصے مقرر کر دیے۔
آیت میراث یہ ہے:
اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ مرد کا حصہ دوعورتوں کے برابر ہے۔
(النساء 4: 11) (2)
اس آیت میں شوہر کے حصے بھی متعین کر دیے۔
اس کی دوحالتیں ہیں:
٭ جب فوت شدہ بیوی کی اولاد اور نرینہ اولاد کی اولاد نہ ہو تو اسے 1/2 ملتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اگر تمھاری بیویوں کی اولاد نہ ہو تو ان کے ترکے سے تمھارے لیے 1/2 ہے۔
(النساء 4: 12)
٭جب وہ فوت شدہ بیوی کی اولاد یا نرینہ اولاد کی اولاد موجود ہوتو اسے 1/4 ملتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اگر بیویوں کی اولاد ہو تو تمھارے لیے ترکے سے چوتھا حصہ ہے۔
(النساء 4: 12)
واضح رہے کہ بیوی کی اولاد، خواہ موجودہ خاوند سے ہو یا سابقہ سے اسے صورت میں خاوند صرف 1/4 کا حق دار ہوگا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6739]