پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب قول الله تعالى: {ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم} :
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ نساء میں) فرمایا ”اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے اس کی سزا جہنم ہے“۔
حدیث نمبر: 6866
وَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمِقْدَادِ:" إِذَا كَانَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ يُخْفِي إِيمَانَهُ، مَعَ قَوْمٍ كُفَّارٍ، فَأَظْهَرَ إِيمَانَهُ، فَقَتَلْتَهُ، فَكَذَلِكَ كُنْتَ أَنْتَ تُخْفِي إِيمَانَكَ بِمَكَّةَ مِنْ قَبْلُ".
اور حبیب بن ابی عمرہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقداد رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ اگر کوئی مسلمان کافروں کے ساتھ رہتا ہو پھر وہ ڈر کے مارے اپنا ایمان چھپاتا ہو، اگر وہ اپنا ایمان ظاہر کر دے اور تو اس کو مار ڈالے یہ کیوں کر درست ہو گا خود تم بھی تو مکہ میں پہلے اپنا ایمان چھپاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6866]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اگر کوئی آدمی کافروں کے ساتھ رہتے ہوئے اپنا ایمان چھپاتا رہے، پھر وہ ایمان ظاہر کر دے اور تو اس کو مار ڈالے (تو کیونکر درست ہو سکتا ہے؟) کیونکہ تو بھی مکہ میں پہلے اپنا ایمان چھپائے پھرتا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6866]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6866 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6866
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کا آغاز اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا لشکر بھیجا جس میں حضرت مقداد رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
جب یہ لشکر کافروں کی طرف بڑھا تو وہ منتشر ہوگئے لیکن ایک مال دار شخص وہیں رہا اور اس نے کلمۂ شہادت پڑھ لیا۔
حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اسے قتل کر دیا۔
جب لوگوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا:
”تو نے ایک ایسے آدمی کو قتل کیا ہے جس نے لا إله إلا الله پڑھ لیا تھا۔
جب وہ قیامت کے دن کلمہ پڑھتے ہوئے آئے گا تو اس وقت تو لا إله إلا الله کے ساتھ کیا کرے گا؟“ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
”وہ آدمی جسے تونے قتل کیا ہے وہ مومن تھا اور اس نے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا۔
“ (المعجم الکبیر للطبراني: 24/12، حدیث: 12379، وفتح الباري: 236/12)
اس حدیث کا آغاز اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا لشکر بھیجا جس میں حضرت مقداد رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
جب یہ لشکر کافروں کی طرف بڑھا تو وہ منتشر ہوگئے لیکن ایک مال دار شخص وہیں رہا اور اس نے کلمۂ شہادت پڑھ لیا۔
حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اسے قتل کر دیا۔
جب لوگوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا:
”تو نے ایک ایسے آدمی کو قتل کیا ہے جس نے لا إله إلا الله پڑھ لیا تھا۔
جب وہ قیامت کے دن کلمہ پڑھتے ہوئے آئے گا تو اس وقت تو لا إله إلا الله کے ساتھ کیا کرے گا؟“ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
”وہ آدمی جسے تونے قتل کیا ہے وہ مومن تھا اور اس نے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا۔
“ (المعجم الکبیر للطبراني: 24/12، حدیث: 12379، وفتح الباري: 236/12)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6866]
Sahih Bukhari Hadith 6866 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي