🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب العفو فى الخطإ بعد الموت:
باب: قتل خطا میں مقتول کی موت کے بعد اس کے وارث کا معاف کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6883
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" صَرَخَ إِبْلِيسُ يَوْمَ أُحُدٍ فِي النَّاسِ: يَا عِبَادَ اللَّهِ، أُخْرَاكُمْ فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ عَلَى أُخْرَاهُمْ حَتَّى قَتَلُوا الْيَمَانِ" فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَبِي أَبِي، فَقَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ، قَالَ: وَقَدْ كَانَ انْهَزَمَ مِنْهُمْ قَوْمٌ حَتَّى لَحِقُوا بِالطَّائِفِ.
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ مشرکین نے احد کی لڑائی میں پہلے شکست کھائی تھی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا، ان سے ابومروان یحییٰ ابن ابی زکریا نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابلیس احد کی لڑائی میں لوگوں میں چیخا۔ اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے والوں سے، مگر یہ سنتے ہی آگے کے مسلمان پیچھے کی طرف پلٹ پڑے یہاں تک کہ مسلمانوں نے (غلطی میں) حذیفہ کے والد یمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میرے والد ہیں، میرے والد! لیکن انہیں قتل ہی کر ڈالا۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ بیان کیا کہ مشرکین کی ایک جماعت میدان سے بھاگ کر طائف تک پہنچ گئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6883]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥يحيى بن أبي زكريا الغساني، أبو مروان
Newيحيى بن أبي زكريا الغساني ← هشام بن عروة الأسدي
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن حرب النشائي، أبو عبد الله
Newمحمد بن حرب النشائي ← يحيى بن أبي زكريا الغساني
صدوق حسن الحديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← محمد بن حرب النشائي
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥علي بن مسهر القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن مسهر القرشي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة
👤←👥فروة بن أبي المغراء الكندي، أبو القاسم
Newفروة بن أبي المغراء الكندي ← علي بن مسهر القرشي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6883 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6883
حدیث حاشیہ:
ترجمہ باب اس سے نکلا کہ مسلمانوں نے خطا سے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد مسلمان کو مار ڈالا اور حذیفہ رضی اللہ عنہ نے معاف کر دیا کہ دیت کا مطالبہ نہیں چاہتے ہیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے دیت دلائی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6883]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6883
حدیث حاشیہ:
(1)
مسلمانوں نے غلطی سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد گرامی حضرت یمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔
چونکہ یہ قتل غلطی سے ہوا تھا، اس لیے ان کی شہادت کے بعد حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے انھیں اپنے باپ کا خون معاف کر دیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو دیت ادا کر دی۔
(2)
موت سے پہلے معافی کا حق مقتول کو ہے کہ وہ اپنے قاتل کو معاف کر دے جیسا کہ حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو کسی نے انھیں تیر مارا، آپ مرنے کے قریب ہوئے تو اپنے قاتل کو معاف کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی معافی کو برقرار رکھا۔
(3)
اہل ظاہر کا موقف ہے کہ مقتول کو معافی دینے کا کوئی حق نہیں بلکہ یہ حق اس کے وارثوں کے لیے ہے لیکن یہ موقف محل نظر ہے جیسا کہ حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعے سے معلوم ہوتا ہے۔
بہرحال موت کے بعد قاتل کو خون معاف کیا جا سکتا ہے اور معافی کا حق مقتول کے ورثاء کو ہے۔
(فتح الباري: 263/12)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6883]