🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. باب إمامة العبد والمولى:
باب: غلام کی اور آزاد کئے ہوئے غلام کی امامت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q692
وَكَانَتْ عَائِشَةُ يَؤُمُّهَا عَبْدُهَا ذَكْوَانُ مِنَ الْمُصْحَفِ وَوَلَدِ الْبَغِيِّ وَالْأَعْرَابِيِّ وَالْغُلَامِ الَّذِي لَمْ يَحْتَلِمْ، لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَؤُمُّهُمْ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ.
‏‏‏‏ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی امامت ان کا غلام ذکوان قرآن دیکھ کر کیا کرتا تھا اور ولد الزنا اور گنوار اور نابالغ لڑکے کی امامت کا بیان کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کتاب اللہ کا سب سے بہتر پڑھنے والا امامت کرائے اور غلام کو بغیر کسی خاص عذر کے جماعت میں شرکت سے نہ روکا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: Q692]

صحیح بخاری کی حدیث نمبر Q692 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، صحیح بخاری Q692
قرآن مجید دیکھ کر نماز پڑھانا
➊ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا غلام رمضان میں قرآن دیکھ کر انہیں نماز پڑھاتا تھا۔ [مصنف ابن ابی شبیہ: 2/338، ح: 7216 وسندہ صحیح، ح: 7215 وسندہ صحیح، صحیح بخاری تعلیقاً قبل ح: 692]
➋ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نماز پڑھتے تو ان کا غلام قرآن پکڑے ہوئے لقمہ دیتا تھا۔ [مصنف ابن ابی شبیہ: 2/338، ح: 7222 وسندہ حسن]
➌ ❀ امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ (تابعی) قرآن مجید دیکھ کر نماز پڑھانے کو جائز سمجھتے تھے۔ [ابن ابی شبیہ: 7214 وسندہ صحیح]
➍ ❀ عائشہ بنت طلحہ (بن عبید اللہ التیمیہ) رحمہا اللہ اپنے غلام یا کسی کو حکم دیتیں، وہ قرآن دیکھ کر انہیں نماز پڑھاتا تھا۔ [ابن ابی شبیہ: 7217 وسندہ صحیح]
➎ ❀ حسن بصری، محمد بن سیرین اور عطاء بن ابی رباح قرآن مجید دیکھ کر نماز پڑھانے کو جائز سمجھتے تھے۔ [ابن ابی شبیہ: 7218-7220 واسانید الآثار المذکورہ حسنہ]
➏ ❀ امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نماز پڑھاتے اور ان کے قریب ہی ایک مصحف (قرآن مجید) ہوتا تھا، جب انہیں کسی (آیت) میں تردد ہوتا تو مصحف دیکھ لیا کرتے تھے۔ [مصنف عبد الرزاق: 2/420، ح: 3931 وسندہ صحیح]
➐ ❀ امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
کیا قرآن مجید دیکھ کر نماز پڑھائی جا سکتی ہے؟
تو انہوں نے فرمایا:
جی ہاں! جب سے اسلام ہے، لوگ یہ کر رہے ہیں۔ [المصاحف لابن ابی داود ص: 222، ح: 806-807 وسندہ حسن، دوسرا نسخہ: 781-782]
➑ ❀ یحییٰ بن سعید الانصاری رحمہ اللہ نے فرمایا:
میں رمضان میں قرآن دیکھ کر قرأت کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔ [المصاحف لابن ابی داود: 780 وسندہ حسن، دوسرا نسخہ: 805]
------------------
اصل مضمون کے لیے دیکھیے:
❀ مقالات للشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ، جلد 6، صفحہ 28
مزید دیکھیے: ماہنامہ الحدیث حضرو: 35، ص: 54-55
[ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 55]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح البخاري Q692
فوائد و مسائل
تبصرہ:
➊ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا غلام (رمضان میں) قرآن مجید دیکھ کر امامت کراتا تھا۔ [مصنف ابن ابی شبیہ: 2/338، ح: 7215 وسندہ صحیح، صحیح بخاری قبل ح: 692]
➋ ❀ مشہور تابعی محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے نزدیک قرآن مجید دیکھ کر امامت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابی شبیہ: 7214 وسندہ صحیح]
➌ ❀ تابعیہ عائشہ بنت طلحہ بن عبیداللہ التیمیہ رحمہا اللہ اپنے غلام یا کسی شخص کو حکم دیتیں تو وہ انہیں مصحف (قرآن مجید) دیکھ کر نماز پڑھاتا تھا۔ [ابن ابی شبیہ: 7217 وسندہ صحیح]
➍ ❀ حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ نے قرآن دیکھ کر نماز پڑھانے کی اجازت دی۔ [ابن ابی شبیہ: 7218 وسندہ صحیح]
➎ ❀ حسن بصری رحمہ اللہ بھی اسے جائز سمجھتے تھے۔ [ابن ابی شبیہ: 7219 وسندہ صحیح]
➏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا غلام مصحف ہاتھ میں پکڑے ہوئے قرآن دیکھ کر لقمہ دیتا تھا۔ [ابن ابی شبیہ: 7222 وسندہ حسن]
➐ ❀ امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نماز پڑھتے اور ان کے قریب ہی مصحف ہوتا تھا، جب انہیں کسی (آیت) میں تردد ہوتا تو مصحف دیکھ لیا کرتے تھے۔ [مصنف عبدالرزاق: 2/420، ح: 3931 وسندہ صحیح]
➑ ❀ امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا قرآن مجید دیکھ کر نماز پڑھائی جا سکتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:
جی ہاں، جب سے اسلام ہے، لوگ یہ کر رہے ہیں۔ [المصاحف لابن ابی داود ص: 222 وسندہ حسن]
➒ ❀ یحییٰ بن سعید الانصاری رحمہ اللہ نے فرمایا:
میں رمضان میں قرآن دیکھ کر قرأت کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔ [المصاحف ص: 222 وعندہ:
«مُعَاوِيَةُ عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ»
والصواب:
«مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ»
وسندہ حسن]

➓ ❀ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مشہور استاد امام عطاء بن ابی رباح المکی التابعی رحمہ اللہ نماز میں قرآن دیکھ کر قرأت کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [المصاحف لابن ابی داود ص: 222 وسندہ حسن، رباح بن ابی معروف حسن الحدیث وثقہ الجمہور وباقی السند صحیح]
تنبیہ:
❀ بعض علماء مثلاً حماد اور قتادہ وغیرہ مصحف دیکھ کر قرآن مجید پڑھنا ناپسند کرتے یا مکروہ سمجھتے تھے۔ مثلاً دیکھئے: [ابن ابی شبیہ: 7230 وسندہ صحیح]
یہ قول اس پر محمول ہے کہ صحیح العقیدہ حافظ ہونے کے باوجود جان بوجھ کر قرآن دیکھ کر نماز میں قرأت کی جائے۔
دوسرے یہ کہ صحابہ اور کبار تابعین کے مقابلے میں ان اقوال کی کیا حیثیت ہے؟
[مذید تشریحات، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

اردو فتاوی، صحیح بخاری Q692
نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا مفسدِ نماز نہیں ہے۔
قرآن مجید اور حدیث شریف سے اسی قدر ثابت ہے کہ نماز میں قرآن پڑھو۔ زبانی پڑھو یا دیکھ کر پڑھو، اس کی کوئی قید نہیں۔
سورۃ المزمل میں ہے:
﴿فَاقْرَؤا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ﴾ [المزمل: 20]
تو قرآن میں سے جو میسر ہو پڑھو
مشکوٰۃ شریف میں ہے:
«ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ» [متفق علیہ - مشکوۃ شریف، ص: 67 چھاپہ انصاری دہلی]
پس قرآن سے پڑھو، جو تمھیں بہ آسانی یاد ہو
پس جس طرح نماز میں زبانی قرآن پڑھنے سے نماز صحیح ہوتی ہے، اسی طرح دیکھ کر پڑھنے سے صحیح ہوگی اور مطلق کی تقیید رائے اور قیاس سے جائز نہیں ہے۔
اصولی موقف
❀ اصول میں یہ مسلمہ مسئلہ ہے:
«الْمُطْلَقُ يَجْرِي عَلَى إِطْلَاقِهِ» [اصول الشاشی، ص: 33]
مطلق اپنے اطلاق پر باقی رہتا ہے
اسی اصولی مسئلے پر بہت سے فقہی مسائل کی بنا ہے، ازاں جملہ ایک یہ مسئلہ ہے کہ جب مظاہر (ظِہار کرنے والا شخص) کفارۂ ظِہار کے دوران اپنی زوجہ سے جماع کر لے تو اس پر استینافِ اِطعام (نئے سرے سے کھانا کھلانا) واجب نہیں ہے، کیونکہ قرآن مجید میں کفارہ ظِہار میں اِطعام کا لفظ مطلق ہے، پس قیاساً علی الصوم اس میں قید عدمِ جماع کی لگانی جائز نہیں ہے۔
❀ اصول شاشی میں ہے:
«قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: الْمُظَاهِرُ إِذَا جَامَعَ امْرَأَتَهُ فِي خِلَالِ الْإِطْعَامِ لَا يَسْتَأْنِفُ الْإِطْعَامَ، لِأَنَّ الْكِتَابَ مُطْلَقٌ فِي حَقِّ الْإِطْعَامِ، فَلَا يُزَادُ عَلَيْهِ شَرْطُ عَدَمِ الْمَسِيسِ، بِالْقِيَاسِ عَلَى الصَّوْمِ، بَلِ الْمُطْلَقُ يَجْرِي عَلَى إِطْلَاقِهِ وَالْمُقَيَّدُ عَلَى تَقْيِيدِهِ» [اصول الشاشی، ص: 33 چھاپہ مجتبائی دہلی]
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ظِہار کرنے والا جب کفارۂ ظِہار کا کھانا کھلانے کے دوران میں اپنی بیوی سے جماع کر لے تو اس پر نئے سرے سے کھانا کھلانا واجب نہیں ہے، کیونکہ کتاب اللہ میں مطلق کھانا کھلانے کا حکم آیا ہے، لہٰذا روزے پر قیاس کر کے اس پر عورت سے جماع نہ کرنے کی شرط کا اضافہ نہیں کیا جائے گا، بلکہ مطلق اپنے اطلاق پر باقی رہے گا اور مقید اپنی تقیید پر۔
ائمہ کرام کا موقف
❀ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ یعنی ان کے نزدیک بھی نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا مفسدِ نماز اور مکروہ نہیں اور ❀ صاحبین (امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ) کے نزدیک بھی مفسدِ نماز نہیں، اگر اہلِ کتاب کے ساتھ تشبیہ نہ ہو اور بلا تشبیہ اہلِ کتاب ان کے نزدیک بھی مکروہ نہیں۔
در مختار میں ہے:
«وَجَوَّزَهُ الشَّافِعِيُّ بِلَا كَرَاهَةٍ، وَهُمَا بِهَا لِلتَّشْبِيهِ بِأَهْلِ الْكِتَابِ أَيْ إِنْ قَصَدَهُ فَإِنَّ التَّشَبُّهَ بِهِمْ لَا يُكْرَهُ فِي كُلِّ شَيْءٍ، بَلْ فِي الْمَذْمُومِ، وَفِيمَا يُقْصَدُ بِهِ التَّشَبُّه» [در مختار مع رد المحتار: 1/460 چھاپہ مصر]
یعنی امام شافعی رحمہ اللہ نے نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا بلا کراہت جائز رکھا ہے اور امام ابو یوسف و امام محمد نے بکراہت جائز رکھا ہے، کیونکہ اس میں اہلِ کتاب کے ساتھ تشبہ ہے، لیکن یہ کراہت اس وقت ہے کہ جب اہلِ کتاب کے ساتھ تشبہ کا قصد ہو، ورنہ کراہت نہیں ہے، کیونکہ تشبہ اہلِ کتاب کے ساتھ ہر بات میں مکروہ نہیں، بلکہ اسی بات میں مکروہ ہے جو مذموم ہے اور جس میں اہلِ کتاب کے ساتھ تشبہ کا قصد ہو۔
صحابہ و تابعین کا عمل
❀ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور بہتیرے تابعین کے نزدیک بھی بلا کراہت جائز ہے۔
صحیح بخاری میں ہے:
«وَكَانَتْ عَائِشَةُ يَؤُمُّهَا عَبْدُهَا ذَكْوَانُ مِنَ الْمُصْحَفِ» [صحیح بخاری مع فتح الباری: 1/386 چھاپہ دہلی]
یعنی حضرت عائشہ کے غلام ذکوان ان کی امامت کرتے تھے تو قرآن دیکھ کر پڑھتے تھے۔
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں:
«وَصَلَهُ ابْنُ أَبِي دَاوُدَ فِي كِتَابِ الْمَصَاحِفِ مِنْ طَرِيقِ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَ يَؤُمُّهَا غُلَامُهَا ذَكْوَانُ فِي الْمُصْحَفِ... وَوَصَلَهُ الشَّافِعِيُّ وَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى... وَأَبُو عَمْرٍو الْمَذْكُورُ هُوَ ذَكْوَانُ» [فتح الباری: 2/185، نیز دیکھیے: تغلیق التعلیق: 2/291]
(ابن) ابی داود نے کتاب المصاحف میں اسے ایوب کے واسطے سے موصول بیان کیا ہے... امام شافعی رحمہ اللہ اور عبدالرزاق رحمہ اللہ نے بھی اسے موصول بیان کیا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس مسور بن مخرمہ اور بہت سے لوگ آتے تھے تو ان کا غلام ابو عمرو (ذکوان) ان کی امامت کرتا تھا اور وہ قرآن دیکھ کر پڑھتا تھا۔
صاحبین کے دلائل
صاحبین کا استدلال بھی اسی اثر سے ہے۔
نہایہ شرح ہدایہ میں ہے:
«وَاحْتَجَّا بِمَا رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ ذَكْوَانَ أَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّ عَائِشَةَ فِي رَمَضَانَ وَكَانَ يَقْرَأُ مِنَ الْمُصْحَفِ»
دونوں (صاحبین) نے اس روایت سے دلیل لی ہے، جو ذکوان کے بارے میں مروی ہے کہ وہ رمضان میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی امامت کرایا کرتا تھا اور وہ قرآن مجید دیکھ کر پڑھتا تھا۔
ایک دلیل یہ بھی ہے کہ قرآن پڑھنا ایک عبادت ہے اور قرآن کا دیکھنا ایک دوسری عبادت ہے تو قرآن دیکھ کر پڑھنا ایک عبادت کو دوسری عبادت کے ساتھ ملا دینا ہے۔
ہدایہ میں ہے:
«وَقَالَا: هِيَ تَامَّةٌ لِأَنَّهُ عِبَادَةٌ انْضَافَتْ إِلَى عِبَادَةٍ» [الہدایۃ: 1/62]
صاحبین نے کہا ہے کہ اس کی نماز مکمل ہوجاتی ہے، کیونکہ یہ (مصحف میں دیکھنا) ایک عبادت ہے جو دوسری عبادت (قرآن پڑھنا) کے ساتھ مل گئی ہے۔
عنایہ میں ہے:
«قَوْلُهُ: انْضَافَتْ إِلَى عِبَادَةٍ أَيْ ضُمَّتْ إِلَى عِبَادَةٍ، وَهِيَ النَّظَرُ فِي الْمُصْحَفِ، لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطُوا أَعْيُنَكُمْ مِنَ الْعِبَادَةِ حَظَّهَا...» [العنایۃ: 2/145]
اس کے قول کا مطلب ہے کہ وہ ایک دوسری عبادت کے ساتھ مل گئی ہے اور وہ ہے مصحف میں دیکھنا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: اپنی آنکھوں کو عبادت میں سے ان کا حصہ عطا کرو۔ پوچھا گیا کہ وہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مصحف میں دیکھنا۔
تنبیہ: یہ حدیث موضوع ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [السلسلۃ الضعیفہ، رقم الحدیث: 1586]
مانعین کے اعتراضات اور ان کے جوابات
جو لوگ اسے مفسدِ نماز کہتے ہیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ اس میں قرآن ہاتھ میں لینا اور ورق الٹنا پڑتا ہے جو عملِ کثیر ہے۔ اس کے جوابات درج ذیل ہیں:
➊ یہ ضروری نہیں کہ قرآن ہاتھ میں لیا جائے، وہ کسی اونچی جگہ کھلا رکھا بھی ہو سکتا ہے۔
➋ اگر ورق الٹنے بھی پڑیں تو ضروری نہیں کہ وہ پے در پے (تابڑ توڑ) ہوں، فصل کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔
➌ عملِ کثیر کی تعریف میں اختلاف ہے:
در مختار میں ہے:
«وَفِيهِ أَقْوَالٌ خَمْسَةٌ، أَصَحُّهَا: مَا لَا يَشُكُّ بِسَبَبِهِ النَّاظِرُ مِنْ بَعِيدٍ فِي فَاعِلِهِ أَنَّهُ لَيْسَ فِيهَا...» [الدر المختار: 1/624 چھاپہ مصر]
اس میں پانچ اقوال ہیں، سب سے زیادہ صحیح یہ ہے کہ دور سے دیکھنے والے کو شک نہ ہو کہ وہ نماز میں نہیں ہے۔
باقی اقوال [رد المحتار: 1/625]
میں مذکور ہیں، جیسے دونوں ہاتھوں کا استعمال یا تین متواتر حرکتیں، لیکن ان پر کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔
➍ اگر اسے عملِ کثیر مان بھی لیا جائے تو ہر عملِ کثیر مفسدِ نماز نہیں ہوتا، بلکہ وہی ہوتا ہے جو نماز کی اصلاح کے لیے نہ ہو۔
در مختار میں ہے:
«وَيُفْسِدُهَا كُلُّ عَمَلٍ كَثِيرٍ لَيْسَ مِنْ أَعْمَالِهَا وَلَا لِإِصْلَاحِهَا» [الدر المختار، ص: 640]
مانعین کی دوسری دلیل یہ ہے کہ یہ دوسرے سے قرآن سیکھنا (تلقن) ہے، جو مفسدِ نماز ہے۔
ہدایہ میں ہے:
«وَلِأَنَّهُ تَلَقَّنَ فِي الْمُصْحَفِ فَصَارَ كَمَا إِذَا تَلَقَّنَ مِنْ غَيْرِهِ» [ہدایہ: 1/56]
جواب: اگر سیکھنا مفسدِ نماز ہوتا تو امام کا مقتدی سے لقمہ لینا بھی مفسدِ نماز ہوتا، حالانکہ وہ جائز ہے۔ نیز مصحف سے دیکھنا سچ مچ دوسرے سے سیکھنا نہیں ہے۔
حافظ ابن حزم رحمہ اللہ کا تبصرہ
❀ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ محلی میں فرماتے ہیں:
«وَلَا تَجُوزُ الْقِرَاءَةُ فِي مُصْحَفٍ، وَلَا فِي غَيْرِهِ لِمُصَلٍّ، إِمَامًا كَانَ أَوْ غَيْرَهُ، فَإِنْ تَعَمَّدَ ذَلِكَ بَطَلَتْ صَلَاتُهُ...» [محلی: 4/46]
نمازی کے لیے مصحف وغیرہ سے دیکھ کر پڑھنا جائز نہیں ہے... اگر وہ عمداً ایسا کرے گا تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی۔ آیات کو شمار کرنے کا بھی یہی حکم ہے... امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہ اللہ (ایک روایت کے مطابق) نے اسے باطل کہا ہے، جبکہ سلف کی ایک جماعت نے اسے مباح قرار دیا ہے۔ بہرحال تنازع کی صورت میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
کتبہ: محمد عبد اللّٰہ
مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری، کتاب الصلاۃ، صفحہ: 180 (محدث فتویٰ)
[اردو فتاوىٰ، حدیث/صفحہ نمبر: 180]

ڈاکٹر محمد جاوید، صحیح بخاری Q692
دورانِ نماز مصحف شریف سے دیکھ کر پڑھنے کا جواز اور ادلہ
«وَكَانَتْ عَائِشَةُ يَؤُمُّهَا عَبْدُهَا ذَكْوَانُ مِنَ الْمُصْحَفِ» [صحیح بخاری، باب: امامۃ العبد والمولی، 140:1]
❀ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ان کے آزاد کردہ غلام ذکوان رحمہ اللہ قرآن مجید سے دیکھ کر امامت کراتے تھے۔
بخاری رحمہ اللہ نے اسے تعلیقاً نقل فرمایا جبکہ عبدالرزاق اور ابن ابی شیبہ کے ہاں موصولاً بھی موجود ہے۔
❀ صحیح بخاری کے قدیم شارح ابن بطال رحمہ اللہ (م۔449ھ) فرماتے ہیں:
«وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ» [شرح بخاری لابن بطال 319:2]
«حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ: كَانَ يَؤُمُّ عَائِشَةَ عَبْدٌ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ» [مصنف ابن ابی شیبۃ: 7216]
اس کی سند کے جملہ رواۃ ثقہ ہیں اور سند صحیح ہے۔
«حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: أَنَّ عَائِشَةَ أَعْتَقَتْ غُلَامًا لَهَا عَنْ دُبُرٍ فَكَانَ يَؤُمُّهَا فِي رَمَضَانَ فِي الْمُصْحَفِ» [مصنف ابن ابی شیبہ: 7217 وسندہ صحیح]
«عَنِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ وَهِيَ تُصَلِّي» [مصنف عبدالرزاق: 3930 سندہ صحیح]
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مصحف سے دیکھ کر نماز پڑھا کرتی تھیں۔
«حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، قَالَ: كَانَ أَنَسٌ يُصَلِّي وَغُلَامُهُ يُمْسِكُ الْمُصْحَفَ خَلْفَهُ فَإِذَا تَعَايَا فِي آيَةٍ فَتَحَ عَلَيْهِ» [مصنف ابن ابی شیبۃ: 7223 وسندہ صحیح]
❀ ثابت بن اسلم البنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سیدنا انس بن مالک (م۔92ھ) نماز پڑھ رہے ہوتے اور ان کا غلام ان کے پیچھے مصحف تھامے کھڑا ہوتا، جب اٹک جاتے تو وہ مصحف شریف کھول دیتا۔
❀ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اپنی زندگیوں کا ایک حصہ گزارا اور وہ مصحف سے دیکھ کے نماز پڑھنے کے قائل و فاعل تھے۔
اب چند جلیل القدر تابعین کے آثار ملاحظہ فرمائیے:
«أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: كَانَ ابْنُ سِيرِينَ يُصَلِّي وَالْمُصْحَفُ إِلَى جَنْبِهِ فَإِذَا تَرَدَّدَ نَظَرَ فِيهِ» [مصنف عبدالرزاق: 3931، سندہ صحیح]
❀ امام محمد ابن سیرین (م۔110ھ) دوران نماز مصحف شریف اپنے پاس (سائڈ پر) رکھتے، جب کوئی تردد ہوتا تو اس میں دیکھ لیتے۔
«حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: كَانَ مُحَمَّدٌ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَؤُمَّ الرَّجُلُ الْقَوْمَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ» [مصنف ابن ابی شیبۃ: 7215، باب: فی الرجل یؤم القوم وھو یقرأ فی المصحف، سندہ صحیح]
❀ امام محمد ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ کوئی شخص لوگوں کو مصحف سے دیکھ کر امامت کرائے۔
«حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ فِي الرَّجُلِ يَؤُمُّ رَمَضَانَ فِي الْمُصْحَفِ رَخَّصَ فِيهِ» [مصنف ابن ابی شیبۃ: 7219، سندہ صحیح]
❀ ثقہ تابعی حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ (م۔113ھ) نے رمضان شریف میں مصحف شریف سے دیکھ کر نماز پڑھنے میں رخصت دی ہے۔
«حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدٍ قَالَا لَا بَأْسَ بِهِ» [مصنف ابن ابی شیبۃ: 7220، باب فی الرجل یؤم القوم وھو یقرأ فی المصحف، سندہ صحیح]
❀ منصور بن زاذان الواسطی (م۔129ھ) فرماتے ہیں:
حسن بصری اور محمد بن سیرین قرآن مجید دیکھ کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
«حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ أَبِي مَعْرُوفٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ» [مصنف ابن ابی شیبۃ: 7221، سندہ صحیح]
❀ رباح کہتے ہیں، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے استاذ عطاء بن ابی رباح نے فرمایا:
اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مذکورہ الصدر جملہ آثار صحیح ہیں، اس باب کی ضعیف روایات سے ہم نے اپنی سمجھ کی حد تک اعراض کیا ہے۔
❀ مجاہد، ابراہیم نخعی، سعید بن مسیب، قتادہ رحمہم اللہ سے ایسا کرنے کی کراہت منقول ہے، جب کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، ابن سیرین، حسن بصری، عطاء بن ابی رباح، حکم بن عتیبہ رحمہم اللہ وغیرہ اس کے قائل و فاعل تھے۔
کراہت کے اقوال کی توجیہ ممکن ہے کہ حافظ کی موجودگی میں ایسا کرنے کے متعلق کہا گیا ہو۔
بہرکیف قاضی ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ بھی کراہت کے باوجود نماز کی صحت کے قائل ہیں جبکہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ اسے مفسد الصلاۃ کہتے ہیں:
«وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ: أَمَّا نَحْنُ فَنَرَى أَنَّ صَلَاتَهُ تَامَّةٌ وَلَكِنَّا نَكْرَهُ» [المبسوط للشیبانی: 177:1، المبسوط للسرخسی: 201:1]
اس فعل کے مفسد الصلاۃ ہونے کا فتویٰ جیسا کہ البنایہ میں ہے:
«وَلِأَنَّ النَّظَرَ إِلَى الْمُصْحَفِ يَكُونُ مُفْسِدًا» [البنایۃ شرح ھدایۃ: 421:2]
مناسب نہیں بالخصوص ابن نجیم کے الفاظ زیادتی ہے جو ہرگز ایک عالم کے شایان شان نہیں اور متقدمین میں سے ایسی جرأت کسی سے منقول نہیں ہے۔ [الاشباہ والنظائر ص: 360]
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔
ڈاکٹر محمد جاوید
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 692
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:" لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ الْعُصْبَةَ مَوْضِعٌ بِقُبَاءٍ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ جب پہلے مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے بھی پہلے قباء کے مقام عصبہ میں پہنچے تو ان کی امامت ابوحذیفہ کے غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے۔ آپ کو قرآن مجید سب سے زیادہ یاد تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 692]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥أنس بن عياض الليثي، أبو ضمرة
Newأنس بن عياض الليثي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن المنذر الحزامي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن المنذر الحزامي ← أنس بن عياض الليثي
صدوق حسن الحديث
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 692 کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، صحیح بخاری Q692
نماز میں قرآن سے دیکھ کر قراءت
ایسا کرنا جائز تو ہے لیکن اس پر دوام اختیار کر لینا درست نہیں۔
➊ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی امامت ان کا غلام قرآن سے دیکھ کر کراتا تھا۔ [بخاري: تعليقا: Q692]
حافظ ابن حجرؒ رقمطراز ہیں کہ امام ابو داودؒ نے مصاحف میں اسے موصولا بہی بیان کیا ہے۔ [فتح الباري: 147/2]
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نواسی امامہ رضی اللہ عنہا کو نماز میں اٹھا لیتے تھے۔ [بخاري: 516]
جب نماز میں بچہ اٹھایا جاسکتا ہے تو قرآن بالا ولی اٹھایا جا سکتا ہے البتہ اسے زبانی یاد کر کے پڑھنا ہی افضل ہے۔ نیز سعودی مجلس افتاء نے یہ فتوی دیا ہے کہ قرآن میں دیکھ کر قراءت قرآن فرائض اور نوافل دونوں میں جائز ہے۔ [فتاوى اللجنة الدائمة: 396/6]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 422]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:692
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت سالم مولیٰ ابو حذیفہ ؓ جن اصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی امامت کراتے تھے، ان میں حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت ابو سلمہ، حضرت زید بن حارثہ اور حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم بھی ہوتے تھے۔
(صحیح البخاري، الأحکام، حدیث: 7175)
حضرت ابوبکر ؓ کا ان میں موجود ہونا محل نظر ہے، کیونکہ وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں ہجرت کر کے مدینہ آئے تھے جبکہ روایت کے حوالے سے یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔
اس کا امام بیہقی نے یہ جواب دیا ہے کہ حضرت سالم ؓ ہجرت کے بعد ان کی جماعت کرواتے تھے ممکن ہے کہ اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ بھی ان میں موجود ہوں۔
والله أعلم۔
ترجمۃ الباب کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ تمام بڑے بڑے قریشی صحابۂ كرام رضی اللہ عنہم کو امامت کے لیے اپنے آپ پر مقدم کیا، اس لیے غلام کی امامت درست ہے، نیز اس سے عنوان کا دوسراحصہ بھی ثابت ہوگیا کہ غلام کو بلاوجہ امامت سے نہ روکا جائے۔
(فتح الباري: 241/2)
واضح رہے کہ حضرت سالم ؓ دراصل ایک انصاری عورت کے غلام تھے، اس نے آپ کو آزاد کردیا تھا لیکن وہ آزادی سے قبل ہی لوگوں کی امامت کراتے تھے۔
آزادی کے بعد حضرت ابو حذیفہ ؓ نے انھیں اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا۔
اسی لیے آپ کو سالم مولی ابو حذیفہ کہا جاتا تھا۔
غلام کی امامت جمہور کے نزدیک درست ہے۔
صرف امام مالک سے اس موقف کی مخالفت منقول ہے۔
انھوں نے فرمایا کہ غلام، آزاد لوگوں کا امام نہ بنے۔
ہاں، اگر وہ عالم اورقاری ہو اور مقتدی ایسے نہ ہوں تو ایسے حالات میں اسے امام بنایا جاسکتا ہے، لیکن جمعہ کے لیے پھر بھی امام بنانا صحیح نہیں، کیونکہ جمعہ غلام پر فرض نہیں ہے۔
علامہ اشہب مالکی ؒ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعہ کے لیے بھی غلام کو امام بنایا جاسکتا ہے، کیونکہ جب وہ شریک جمعہ ہوگا تو اس سے فرض ہی ادا ہوگا۔
(فتح الباري: 239/2) (2)
بعض حضرات نے نابالغ کی امامت کو ناجائز کہا ہے۔
وہ ایک حدیث پیش کرتے ہیں جسے مصنف عبدالرزاق کے حوالے سے حافظ ابن حجر ؒ نے بیان کیا ہے کہ بچہ بالغ ہونے تک امامت نہ کرائے، لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔
امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ عمرو بن سلمہ ؓ اپنی قوم کی امامت کراتے تھے جبکہ ان کی عمر سات سال تھی۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4302)
حضرت عمرو بن سلمہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد کو کہا کہ جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان کہے اور امامت ایسا شخص کرائے جو قرآن کا زیادہ حافظ ہو، عالم ہو۔
جب میری قوم نے دیکھا کہ میرے علاوہ کوئی دوسرا قرآن کا عالم وحافظ نہیں تو انھوں نے مجھے جماعت کے لیے آگے کردیا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4302)
اس واضح حدیث کے باوجود فقہاء نے اس مسئلے میں اختلاف کیا ہے۔
امام بخاری ؒ نے ان کی تردید کرتے ہوئے بچے کی امامت کو صحیح احادیث سے ثابت کیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 692]

اردو فتاوی، صحیح بخاری Q692
کیا نماز میں دیکھ کر قرآن پڑھنا مفسد نماز ہے؟
نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا مفسدِ نماز نہیں ہے۔
قرآن مجید اور حدیث شریف سے اسی قدر ثابت ہے کہ نماز میں قرآن پڑھو۔ زبانی پڑھو یا دیکھ کر پڑھو، اس کی کوئی قید نہیں۔
سورت مزمل رکوع 2 میں ہے:
﴿فَاقْرَؤا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ﴾ [المزمل: 20] تو قرآن میں سے جو میسر ہو پڑھو۔
❀ مشکوۃ شریف [ص: 67 چھاپہ انصاری دہلی] میں ہے:
«ثم اقرأ بما تیسر معک من القرآن» [متفق علیہ] پس قرآن سے پڑھو، جو تمھیں بہ آسانی یاد ہو۔
پس جس طرح نماز میں زبانی قرآن پڑھنے سے نماز صحیح ہوتی ہے، اسی طرح دیکھ کر پڑھنے سے صحیح ہوگی اور مطلق کی تقیید رائے اور قیاس سے جائز نہیں ہے۔
اصول میں یہ مسلمہ مسئلہ ہے:
«المطلق یجري علی إطلاقہ» [1] مطلق اپنے اطلاق پر باقی رہتا ہے۔
اسی اصولی مسئلے پر بہت سے فقہی مسائل کی بنا ہے، ازاں جملہ ایک یہ مسئلہ ہے کہ جب مظاہر [ظِہار کرنے والا شخص] کفارۂ ظِہار میں اثنائے اطعام اپنی زوجہ سے، جس سے ظِہار کیا تھا، جماع کر لے تو اس پر استینافِ اِطعام واجب نہیں ہے، کیونکہ قرآن مجید میں کفارہ ظِہار میں اِطعام کا لفظ مطلق ہے، پس قیاساً علی الصوم اس میں قید عدمِ جماع کی لگانی، جائز نہیں۔
[اصول شاشی: ص: 9 چھاپہ مجتبائی دہلی] میں ہے:
«قال أبو حنیفة: المظاھر إذا جامع امرأتہ في خلال الإطعام لا یستأنف الإطعام، لأن الکتاب مطلق في حق الإطعام، فلا یزاد علیہ شرط عدم المسیس، بالقیاس علی الصوم، بل المطلق یجري علی إطلاقہ والمقید علی تقییدہ» [2]
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ظِہار کرنے والا جب کفارۂ ظِہار کا کھانا کھلانے کے دوران میں اپنی بیوی سے جماع کر لے تو اس پر نئے سرے سے کھانا کھلانا واجب نہیں ہے، کیونکہ کتاب اللہ میں مطلق کھانا کھلانے کا حکم آیا ہے، لہٰذا روزے پر قیاس کر کے (جس میں روزے مکمل کیے بغیر جماع نہ کرنے کی شرط ہے) اس پر عورت سے جماع نہ کرنے کی شرط کا اضافہ نہیں کیا جائے گا، بلکہ مطلق اپنے اطلاق پر باقی رہے گا اور مقید اپنی تقیید پر۔
امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔
یعنی ان کے نزدیک بھی نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا مفسدِ نماز اور مکروہ نہیں اور صاحبین (امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ) کے نزدیک بھی مفسدِ نماز نہیں، اگر اہلِ کتاب کے ساتھ تشبیہ نہ ہو اور بلا تشبیہ اہلِ کتاب ان کے نزدیک بھی مکروہ نہیں۔
[در مختار مع رد المحتار: 1/ 460 چھاپہ مصر] میں ہے:
«وجوزہ الشافعي بلا کراھۃ، وھما بھا للتشبیہ بأھل الکتاب أي إن قصدہ فإن التشبہ بھم لا یکرہ في کل شيء، بل في المذموم، وفیما یقصد بہ التشبہ» اھ۔
یعنی امام شافعی رحمہ اللہ نے نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا بلا کراہت جائز رکھا ہے اور امام ابو یوسف و امام محمد نے بکراہت جائز رکھا ہے، کیونکہ اس میں اہلِ کتاب کے ساتھ تشبہ ہے، لیکن یہ کراہت اس وقت ہے کہ جب اہلِ کتاب کے ساتھ تشبہ کا قصد ہو، ورنہ کراہت نہیں ہے، کیونکہ تشبہ اہلِ کتاب کے ساتھ ہر بات میں مکروہ نہیں، بلکہ اسی بات میں مکروہ ہے جو مذموم ہے اور جس میں اہلِ کتاب کے ساتھ تشبہ کا قصد ہو۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور بہتیرے تابعین کے نزدیک بھی بلا کراہت جائز ہے۔
[صحیح بخاری مع فتح الباری: 1/ 386 چھاپہ دہلی] میں ہے:
«وکانت عائشة یؤمھا عبدھا ذکوان من المصحف» اھ۔
یعنی حضرت عائشہ کے غلام ذکوان ان کی امامت کرتے تھے تو قرآن دیکھ کر پڑھتے تھے۔
اس اثر معلق کو ابو داود اور ابن ابی شیبہ اور امام شافعی اور عبدالرزاق نے ابن ابی ملیکہ سے موصولاً روایت کیا ہے اور امام شافعی اور عبدالرزاق کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اس نماز میں جس میں ذکوان امامت کرتے تھے، صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نہیں تھیں، بلکہ بہت سے صحابہ اور تابعین شریک رہتے تھے۔
[فتح الباری] میں ہے:
«وصلہ [ابن] أبي داود في کتاب المصاحف من طریق أیوب عن ابن أبي ملیکة أن عائشة رضی اللہ عنہا کان یؤمھا غلامھا ذکوان في المصحف، ووصلہ ابن أبي شیبة قال: حدثنا وکیع عن ھشام بن عروة عن أبي بکر بن أبي ملیکة عن عائشة أنھا أعتقت غلاما لھا عن دبر، فکان یؤمھا في رمضان في المصحف، ووصلہ الشافعي و عبد الرزاق من طریق أخری، عن ابن أبي ملیکة أنہ کان یأتي عائشة بأعلی الوادي، ھو وأبوہ وعبید بن عمر والمسور بن مخرمة وناس کثیر فیؤمھم أبو عمرو مولیٰ عائشة، وھو یومئذ غلام لم یعتق، و أبو عمرو المذکور ھو ذکوان» [3] اھ۔
(ابن) ابی داود نے کتاب المصاحف میں اسے ایوب کے واسطے سے موصول بیان کیا ہے، وہ ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا غلام ذکوان مصحف سے پڑھ کر ان کی امامت کراتا تھا۔
ابن ابی شیبہ نے بھی اسے موصول بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں وکیع نے ہشام بن عروہ سے بیان کیا ہے، انھوں نے ابوبکر بن ابی ملیکہ سے روایت کیا اور انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ ان کا ایک غلام رمضان میں مصحف سے ان کی امامت کرواتا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ اور عبدالرزاق رحمہ اللہ نے ابن ابی ملیکہ سے ایک اور سند کے ساتھ اسے موصول بیان کیا ہے کہ وہ خود، اس کا والد، عبید بن عمر، مسور بن مخرمہ اور بہت سے لوگ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آتے تھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا کا غلام ابو عمرو ان کی امامت کرواتا تھا، جو اس وقت آزاد نہیں ہوا تھا۔
یہ ابو عمرو ذکوان ہی ہے۔
صاحبین کا استدلال بھی اسی اثر سے ہے۔
[نہایہ شرح ہدایہ] میں ہے:
«واحتجا بما روي من حدیث ذکوان أنہ کان یؤم عائشة في رمضان وکان یقرأ من المصحف» اھ۔
دونوں (صاحبین) نے اس روایت سے دلیل لی ہے، جو ذکوان کے بارے میں مروی ہے کہ وہ رمضان میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی امامت کرایا کرتا تھا اور وہ قرآن مجید دیکھ کر پڑھتا تھا۔
ایک دلیل صاحبین کی یہ بھی ہے کہ قرآن پڑھنا ایک عبادت ہے اور قرآن کا دیکھنا ایک دوسری عبادت ہے تو قرآن دیکھ کر پڑھنا ایک عبادت کو دوسری عبارت کے ساتھ ملا دینا ہے۔
[ہدایہ: 1/ 62] میں ہے:
«وقالا: هي تامة لأنه عبادة انضافت إلى عبادة» [4]
(امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک امام جب مصحف سے دیکھ کر پڑھے تو اس کی نماز فاسد ہوجاتی ہے جبکہ) صاحبین نے کہا ہے کہ اس کی نماز مکمل ہوجاتی ہے، کیونکہ یہ (مصحف میں دیکھنا) ایک عبادت ہے جو دوسری عبادت (قرآن پڑھنا) کے ساتھ مل گئی ہے۔
[عنایہ: 2/ 145] میں ہے:
«قولہ: انضافت إلیٰ عبادة أي ضمت إلیٰ عبادة، وھي النظر في المصحف، لقول النبي صلی اللہ علیہ وسلم : أعطوا أعینکم من العبادۃ حظھا قیل: وما حظھا من العبادة؟ قال: النظر في المصحف» [5] [6] اھ۔
اس کے قول «انضافت إلی عبادۃ» کا مطلب ہے کہ وہ ایک دوسری عبادت کے ساتھ مل گئی ہے اور وہ ہے مصحف میں دیکھنا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
«أعطوا أعینکم من العبادۃ حظھا»
پوچھا گیا کہ عبادت میں سے ان کا حصہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«النظر في المصحف»
اپنی آنکھوں کو عبادت میں سے ان کا حصہ عطا کرو۔ پوچھا گیا کہ عبادت میں سے ان کا حصہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ان کا حصہ) مصحف میں دیکھنا ہے۔
جو لوگ نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنے کو مفسدِ نماز کہتے ہیں، ایک دلیل ان کی یہ ہے کہ جب کوئی شخص نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھے گا تو ضرور اس کو قرآن ہاتھ میں لیے رہنا اور اس میں دیکھنا اور ورقوں کو الٹنا پڑے گا اور یہ مجموع عمل کثیر ہے اور عملِ کثیر مفسدِ نماز ہے۔
اس دلیل کا جواب کئی وجہوں سے ہے:
➊ اول یہ کہ کلام اس میں ہے کہ نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنا مفسدِ نماز ہے یا نہیں؟
اس میں قرآن کا ہاتھ میں لیے رہنا اور اس کے اوراق کا الٹنا کیا لازم ہے؟
جائز ہے کہ قرآن کسی چیز پر کھلا ہوا رکھا ہو اور نمازی اس کو دیکھ کر پڑھے، اس میں نہ قرآن کو ہاتھ میں لینے کی ضرورت ہے اور نہ اس کے ورقوں کے الٹنے کی اور ممکن ہے کہ کھلا ہوا قرآن ہاتھ میں لیے رہے اور صرف اسی قدر پڑھے، جس قدر سامنے کھلا ہوا ہے اور اس صورت میں اوراق الٹنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
➋ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ قرآن دیکھ کر پڑھنے میں ضرور یہ تینوں کام کرنے پڑیں گے، لیکن یہ کیا ضرور ہے کہ یہ تینوں کام تابڑ توڑ کرنے پڑیں؟
جائز ہے کہ قرآن ہاتھ میں لیے رہے اور دیکھنے میں اس کے ورق الٹنے میں فصل پڑے۔
اگر یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ یہ تینوں کام تابڑ توڑ کرنے پڑیں گے، لیکن یہ بات کہ ان تینوں کام کا مجموعہ عملِ کثیر ہے، ممنوع ہے، اس لیے کہ عملِ کثیر میں بہت کچھ اختلاف ہے۔
[در مختار] میں لکھا ہے کہ اس میں پانچ قول ہیں: منجملہ ان کے ایک یہ قول ہے کہ عملِ کثیر وہ عمل ہے، جس کو دور سے دیکھنے والا بلا تردد جانے کہ اس کام کے کرنے والے نماز میں نہیں ہیں۔
[در مختار] میں اسی قول کو «أصح» لکھا ہے۔ [7]
➊ دوسرا قول یہ ہے کہ جو کام عادتاً دونوں ہاتھ سے کیا جائے، وہ عملِ کثیر ہے۔
➋ تیسرا قول یہ ہے کہ تین حرکتیں جو تابڑ توڑ ہوں، وہ عملِ کثیر ہے۔
➌ چوتھا قول یہ ہے کہ جس فعل کو فاعل بالقصد کرے، اس طرح پر کہ اس کے لیے مجلس علیحدہ کرے، وہ عملِ کثیر ہے۔
➍ پانچواں یہ کہ نمازی کی رائے کی طرف مفوض ہے، یعنی جس عمل کو نمازی کثیر جانے، وہ عملِ کثیر ہے۔
[در مختار مع رد المحتار: 1/ 460 چھاپہ مصر] میں ہے:
«وفیہ أقوال خمسة، أصحھا: ما لا یشک بسببہ الناظر من بعید في فاعلہ أنہ لیس فیھا، وإن شک أنہ فیھا أم لا، فقلیل» اھ۔
اس میں پانچ اقوال ہیں، ان میں سے سب سے زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ فاعل کا وہ عمل جس کے سبب دور سے دیکھنے والے کو یہ شک نہ ہو کہ وہ اس (نماز) کا حصہ نہیں ہے۔ اگر اسے یہ شک گزرے کہ آیا یہ عمل نماز کا حصہ ہے یا نہیں تو وہ عمل، عملِ قلیل شمار ہوگا۔
[رد المحتار: 1/ 625] میں ہے:
«القول الثاني: ما یعمل عادة بالیدین کثیر، وإن عمل بواحدۃ کالتعمم وشد السراویل۔ الثالث: الحرکات الثلاث المتواترة کثیر۔ الرابع: ما یکون مقصودا للفاعل، بأن یفرد لہ مجلسا علیٰ حدة۔ الخامس: التفویض إلی رأي المصلي فإن استکثرہ فکثیر» [8] اھ۔
دوسرا قول یہ ہے کہ وہ عمل جو عادتاً دونوں ہاتھوں کے ساتھ ہوتا ہے، وہ عملِ کثیر ہے، اگرچہ وہ یہ عمل ایک ہاتھ کے ساتھ کرے، جیسے پگڑی اور شلوار باندھنا۔
تیسرا قول یہ ہے کہ پے در پے تین حرکتیں کرنا عملِ کثیر ہے۔
چوتھا قول یہ ہے کہ عملِ کثیر وہ ہے جو فاعل کا مقصودی عمل ہو اور وہ اس کے لیے علاحدہ مجلس قائم کرے۔
پانچواں قول یہ ہے کہ اس معاملے کو نمازی کی رائے کے سپرد کیا جائے، چنانچہ وہ جس عمل کو کثیر جانے، وہ عملِ کثیر ہوگا۔
ان اقوال میں سے کسی قول پر کوئی دلیل کافی نہیں ہے۔
یہ سب اقوال رائے پر مبنی ہیں، جس سے نصوصِ کتاب و سنت کی تقیید جائز نہیں ہے۔
گو اِن میں سے بعض کو بعض پر ترجیح بھی رائے ہی سے ہے۔
➌ تیسرا جواب یہ ہے کہ اگر اس مجموعہ کا عملِ کثیر ہونا مان بھی لیا جائے تو بھی اس کا مفسدِ نماز ہونا مسلم نہیں ہے، کیونکہ عملِ کثیر مطلقاً مفسدِ نماز نہیں ہے، بلکہ وہی عملِ کثیر مفسدِ نماز ہے، جو نماز کی اصلاح کے لیے نہ ہو اور جو عملِ کثیر نماز کی اصلاح کے لیے ہو، وہ مفسدِ نماز نہیں ہے، مثلاً کسی کو نماز میں حدث ہوجائے اور وہ وضو کرنے کے لیے جائے اور پھر وضو کر کے پلٹے تو یہ مجموعہ عمل مفسدِ نماز نہیں ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ نماز کے سدھارنے کے لیے ہے۔
[در مختار: ص: 640] میں ہے:
«ویفسدھا کل عمل کثیر لیس من أعمالھا ولا لإصلاحھا»
ہر وہ عملِ کثیر، جو نماز کے اعمال سے ہو نہ اس کی اصلاح کی غرض سے، نماز کو فاسد کر دے گا۔
دوسری دلیل (مانعین کی) یہ ہے کہ قرآن دیکھ کر پڑھنا دوسرے سے قرآن سیکھ کر پڑھنا ہے اور یہ مفسدِ نماز ہے۔
[ہدایہ: 1/ 56] میں ہے:
«ولأنہ تلقن في المصحف فصار کما إذا تلقن من غیرہ» اھ۔
اور اس لیے (بھی یہ عملِ کثیر ہے) کہ اس نے مصحف سے (قرآن) سیکھا ہے، لہٰذا وہ اس شخص کے مشابہ ہو گیا، جس نے کسی دوسرے سے (قرآن) سیکھا۔
اس دلیل کا جواب بھی کئی طرح سے ہے:
➊ اول یہ کہ نماز میں قرآن دوسرے سے سیکھ کر پڑھنے کے مفسدِ نماز ہونے پر کیا دلیل ہے؟
اگر ایسا ہو تو امام کا اپنے مقتدی سے لقمہ لینا بھی مفسدِ نماز ہوگا، کیونکہ یہ بھی دوسرے سے قرآن سیکھ کر پڑھنا ہے، حالانکہ حسبِ قول صحیح امام کا مقتدی سے لقمہ لینا مفسدِ نماز نہیں ہے۔
➋ دوسرا جواب یہ ہے کہ قرآن دیکھ کر سچ مچ دوسرے سے سیکھ کر پڑھنا نہیں ہے، بلکہ من بعض الوجوہ اس کے مشابہ ہے، جیسا کہ کافِ تشبیہ دلیل میں موجود ہے، لیکن یہ کلیہ نہیں ہے کہ جب ایک چیز پر الگ حکم لگا ہو تو اس کے مشابہ پر بھی ضرور وہی حکم لگایا جائے، یہ جب ہے کہ دونوں چیزیں علتِ حکم میں متشارک ہوں اور یہ امر ما نحن فیہ میں ممنوع ہے۔
کتبہ: محمد عبد اللّٰه.
ھو الموفق:
◈ حافظ ابن حزم [محلی: 4/ 46] میں فرماتے ہیں:
«ولا تجوز القراء،ة في مصحف، ولا في غیرہ لمصل، إماما کان أو غیرہ، فإن تعمد ذلک بطلت صلاتہ، وکذلک عد الآي لأن تأمل الکتاب عمل لم یأت نص بإباحتہ في الصلاۃ، وقد روینا ھذا عن جماعۃ من السلف، منھم سعید بن المسیب، و الحسن البصري، والشعبي، وأبو عبد الرحمن السلمي، وقد قال بإبطال صلاۃ من أم بالناس في المصحف أبوحنیفة والشافعي، وقد أباح ذلک قوم منھم، والمرجوع عند التنازع إلیہ ھو القرآن والسنة، وقد قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إن في الصلاۃ لشغلا فصح أنھا شاغلة عن کل عمل لم یأت فیہ نص بإباحتہ» انتھي.
نمازی کے لیے مصحف وغیرہ سے دیکھ کر پڑھنا جائز نہیں ہے، خواہ وہ امام ہو یا غیر امام، پھر اگر وہ عمداً ایسا کرے گا تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی۔
آیات کو شمار کرنے کا بھی یہی حکم ہے، کیونکہ کتاب پر تامل کرنا ایک ایسا عمل ہے، جس کے نماز میں مباح ہونے کی کوئی نص وارد نہیں ہوئی ہے۔
یہ موقف سلف کی ایک جماعت سے مروی ہم تک پہنچا ہے، جن میں سعید بن مسیب، حسن بصری، شعبی اور ابو عبد الرحمن السلمی شامل ہیں۔
امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اس شخص کی نماز باطل ہونے کا فتویٰ دیا ہے، جو مصحف سے دیکھ کر لوگوں کی امامت کرائے۔
جب کہ سلف کی ایک جماعت نے اسے جائز و مباح بھی قرار دیا ہے۔
بہر حال تنازع کی صورت میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
چنانچہ ❀ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إن في الصلاۃ لشغلا»
یقیناً نماز میں ایک طرح کی مشغولیت ہوتی ہے۔
پس صحیح یہ ہے کہ نماز ہر اس عمل سے مشغول کرنے والی ہے، جس کے مباح ہونے کی کوئی نص وارد نہیں ہوئی ہو۔
[1] [اصول الشاشي: ص: 33]
[2] [أصولي الشاشي: ص: 33]
[3] [فتح الباري: 2/ 185] نیز دیکھیں: [تغلیق التعلیق: 2/ 291]
[4] [الھدایة: 1/ 62]
[5] یہ حدیث موضوع ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیں: [السلسلة الضعیفة، رقم الحدیث: 1586]
[6] [العنایة: 2/ 145]
[7] [الدر المختار: 1/ 624]
[8] [رد المحتار: 1/ 625]
اصل مضمون ماخذ: مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری
کتاب الصلاۃ،صفحہ: 180
محدث فتویٰ
[اردو فتاوىٰ، حدیث/صفحہ نمبر: 180]

اردو فتاوی، صحیح بخاری Q692
تراویح میں قرآن دیکھ کر پڑھنا
کیا نماز میں قرآن مجید دیکھ کر پڑھنا جائز ہے۔
بخاری شریف میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے متعلق مروی ہے: «کانت عائشة یَؤُمُّھا عبدھا ذکوان من المصحف» حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوان ان کی امامت کرتے تھے تو وہ قرآن مجید دیکھ کر پڑھتے تھے۔
[صحیح بخاری: باب امامة العبد والمولیٰ]
جواب: بخاری شریف کے حوالے سے جو روایت ذکر کی گئی ہے، وہ سنن ابی داؤد (جو صحاح ستہ میں سے ہے) میں نہیں، بلکہ امام ابوداؤد کی دوسری کتاب [کتاب المصاحف] میں موصولاً موجود ہے۔
نیز یہ روایت [مسند امام شافعی] ، [مصنف عبد الرزاق] اور [مصنف ابن ابی شیبہ] میں بھی درج ہے۔
[فتح الباری: 3/ 387، منتقی مع نیل الاوطار: 3/ 40]
امام محمد بن نصر مروزی نے [قیام اللیل: ص: 97] میں اس سلسلے میں مندرجہ ذیل آثار ذکر کیے ہیں:
➊ ◈ ابن شہاب زہری تابعی رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ قرآن مجید میں دیکھ کر امامت کا کیا حکم ہے؟
انھوں نے فرمایا:
«ما زالوا یفعلون ذلك منذ کان الاسلام، کان خیارنا یقرؤن فی المصاحف»
ہمیشہ سے جب سے اسلام ہوا، علماء ایسا ہی کرتے آ رہے ہیں۔ جو ہم میں سے بہتر لوگ تھے، وہ قرآن مجید دیکھ کر امامت کراتے تھے۔
➋ ◈ ابراہیم بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ انھیں حکم دیتے کہ رمضان میں اپنے گھر والوں کی امامت کریں اور انھیں یہ ہدایت کرتے:
«ان یقرأ لھم فی المصحف ویقول اسمعتی صوتک»
وہ قرآن مجید دیکھ کر پڑھیں اور فرماتے کہ اتنی بلند آواز سے پڑھو کہ مجھے تمہاری آواز سنائی دے۔
➌ ◈ قتادہ نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے رمضان کے قیام کے بارے میں روایت کیا ہے:
«ان کان معہ ما یقرأ بہ فی لیلة والا فلیقرأ من المصحف»
اگر اسے اتنا قرآن یاد ہو جو ایک رات کے لیے کافی ہو تو بہتر، ورنہ وہ مصحف (قرآن مجید) سے دیکھ کر پڑھ لے۔
اسی کے متعلق حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:
«لیقرأ بما معہ ویرددہ ولا یقرأ من المصحف کما تفعل الیہود»
جو کچھ اسے یاد ہے وہی پڑھے اور اسے بار بار دہرا لے، لیکن یہود کی طرح دیکھ کر نہ پڑھے۔
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے نزدیک سعید بن مسیب کا قول زیادہ پسندیدہ ہے۔
➍ ◈ ایوب، محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں:
«انہ کان لا یری باسًا ان یؤم الرجل القوم فی التطوع یقرأ فی المصحف»
وہ نوافل میں قرآن مجید دیکھ کر امامت کرانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
➎ ◈ امام عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«فی الرجل یؤم فی رمضان من المصحف لا باس بہٖ»
رمضان میں قرآن مجید دیکھ کر امامت کرانے میں کوئی حرج نہیں۔
➏ ◈ یحییٰ بن سعید انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«لا اری بالقرأة من المصحف فی رمضان باس یرید القیام»
میں رمضان میں قیام کی حالت میں قرآن مجید دیکھ کر پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔
➐ ◈ ابن وہب نے امام مالک رحمہ اللہ سے ایسے گاؤں کے متعلق سوال کیا جہاں کوئی حافظِ قرآن نہ ہو کہ کیا وہ قرآن سامنے رکھ کر امامت کرا سکتے ہیں؟
انھوں نے فرمایا:
«لا باس بہ»
اس میں کوئی حرج نہیں۔
پھر ان سے پوچھا گیا کہ کیا حافظ قرآن ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھے یا گھر میں؟
تو انھوں نے فرمایا کہ وہ حافظ گھر میں نماز نہ پڑھے (بلکہ اسی کے پیچھے پڑھے)۔
➑ ◈ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو رمضان میں قرآن دیکھ کر امامت کراتا ہے تو انھوں نے اس کی رخصت دی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا فرضوں میں بھی ایسا کر سکتا ہے؟
تو انھوں نے فرمایا کہ فرضوں میں اس کی کیا ضرورت ہے (یعنی وہاں مختصر قراءت کافی ہے)۔
➒ ◈ امام احمد رحمہ اللہ سے دوبارہ سوال ہوا تو انھوں نے فرمایا:
«ما یعجبنی الا ان یضطر الی ذالک»
مجھے یہ پسند نہیں مگر یہ کہ اس کی ضرورت پڑ جائے (تو جائز ہے)۔
امام اسحاق رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔

کراہت اور مفسدِ نماز ہونے کے متعلق اقوال:
➊ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علماء اسے مکروہ سمجھتے تھے کیونکہ اس میں یہود سے مشابہت ہے۔
➋ سلیمان بن حنظلہ رحمہ اللہ نے ایک شخص کو دیکھا جو تپائی پر قرآن رکھ کر امامت کرا رہا تھا، انھوں نے وہ قرآن وہاں سے ہٹا دیا۔
➌ عامر شعبی رحمہ اللہ اور سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بھی اسے مکروہ قرار دیا ہے۔
➍ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس طرح نماز فاسد ہو جاتی ہے، کیونکہ قرآن میں دیکھنا عملِ کثیر ہے۔
➎ تاہم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگردوں (صاحبین) نے ان کی مخالفت کی ہے اور فرمایا ہے کہ نماز ہو جائے گی، البتہ یہ فعل مکروہ ہے۔
تحقیق کا خلاصہ:
امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ نے دونوں فریقین کے اقوال کا جائزہ لینے کے بعد امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول (نماز فاسد ہونے) کی تردید کی ہے۔
قرآن میں دیکھنا قرأت کی خاطر ہے جو کہ نماز کا حصہ ہے، لہٰذا اسے وہ عملِ کثیر قرار نہیں دیا جا سکتا جو نماز کو باطل کر دے۔
یہود کی مشابہت کی وجہ سے مکروہ کہنا بھی کمزور ہے کیونکہ شریعت نے جہاں مخالفت مقصود تھی (جیسے جوتوں میں نماز پڑھنا یا پہلو پر ہاتھ رکھنا) وہاں واضح ہدایات دے دی ہیں۔
اگر قرآن دیکھ کر پڑھنا ممنوع ہوتا تو اس کی بھی صراحت کر دی جاتی۔
ترجیح:
چونکہ جواز کے قائلین میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جیسی جلیل القدر صحابیہ موجود ہیں اور کراہت کے قائلین صرف بعض تابعین ہیں، لہٰذا جواز کا قول ہی راجح ہے۔
❀ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
جس بات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حکم نہ ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اہلِ کتاب کی موافقت درست رکھتے تھے۔ [مشکوٰۃ: باب الترجل، فصل اول، ص: 372]
لہٰذا اپنے طور پر اہلِ کتاب کی مخالفت تجویز کر کے اسے مکروہ کہنا درست نہیں۔
راجح بات یہی ہے کہ قرآن مجید دیکھ کر پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
اصل مضمون ماخذ
کتبہ: عبد اللہ امرتسری روپڑی.
تنظیم اہل حدیث: جلد: 22، شمارہ: 34
فتاویٰ علمائے حدیث: کتاب الصلاۃ، جلد: 1، صفحہ: 231-237
[اردو فتاوىٰ، حدیث/صفحہ نمبر: 231]

Sahih Bukhari Hadith 692 in Urdu