صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب أول ما بدئ به رسول الله صلى الله عليه وسلم من الوحي الرؤيا الصالحة:
باب: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء سچے خواب کے ذریعہ ہوئی۔
حدیث نمبر: 6982
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ. وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلاَّ جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، فَكَانَ يَأْتِي حِرَاءً فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ- وَهْوَ التَّعَبُّدُ- اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ، وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَتُزَوِّدُهُ لِمِثْلِهَا، حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهْوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فِيهِ فَقَالَ اقْرَأْ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي. فَقَالَ اقْرَأْ. فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ. فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ» . حَتَّى بَلَغَ: {مَا لَمْ يَعْلَمْ} فَرَجَعَ بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ: «زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي» . فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ: «يَا خَدِيجَةُ مَا لِي» . وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ وَقَالَ: «قَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي» . فَقَالَتْ لَهُ كَلاَّ أَبْشِرْ، فَوَاللَّهِ لاَ يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ. ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ- وَهْوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخُو أَبِيهَا، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ فَيَكْتُبُ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنَ الإِنْجِيلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ- فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ أَيِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ. فَقَالَ وَرَقَةُ ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى فَقَالَ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا أَكُونُ حَيًّا، حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ» . فَقَالَ وَرَقَةُ نَعَمْ، لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلاَّ عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا. ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ، وَفَتَرَ الْوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ، فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ مِنْهُ نَفْسَهُ، تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا. فَيَسْكُنُ لِذَلِكَ جَأْشُهُ وَتَقِرُّ نَفْسُهُ فَيَرْجِعُ، فَإِذَا طَالَتْ عَلَيْهِ فَتْرَةُ الْوَحْيِ غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ، فَإِذَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {فَالِقُ الإِصْبَاحِ} ضَوْءُ الشَّمْسِ بِالنَّهَارِ، وَضَوْءُ الْقَمَرِ بِاللَّيْلِ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل بن خالد نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابن شہاب نے بیان کیا (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) کہ مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ ان سے معمر نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء سونے کی حالت میں سچے خواب کے ذریعہ ہوئی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح سامنے آ جاتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں چلے جاتے اور اس میں تنہا اللہ کی یاد کرتے تھے چند مقررہ دنوں کے لیے (یہاں آتے) اور ان دنوں کا توشہ بھی ساتھ لاتے۔ پھر خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس تشریف لے جاتے اور وہ پھر اتنا ہی توشہ آپ کے ساتھ کر دیتیں یہاں تک کہ حق آپ کے پاس اچانک آ گیا اور آپ غار حرا ہی میں تھے۔ چنانچہ اس میں فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا کہ پڑھیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ آخر اس نے مجھے پکڑ لیا اور زور سے دابا اور خوب دابا جس کی وجہ سے مجھ کو بہت تکلیف ہوئی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس نے مجھے ایسا دابا کہ میں بے قابو ہو گیا یا انہوں نے اپنا زور ختم کر دیا اور پھر چھوڑ کر اس نے مجھ سے کہا کہ پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ہے۔ الفاظ «ما لم يعلم» تک۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو آپ کے مونڈھوں کے گوشت (ڈر کے مارے) پھڑک رہے تھے۔ جب گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے تو فرمایا کہ مجھے چادر اڑھا دو ‘ مجھے چادر اڑھا دو، چنانچہ آپ کو چادر اڑھا دی گئی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف دور ہو گیا تو فرمایا کہ خدیجہ میرا حال کیا ہو گیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سارا حال بیان کیا اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ لیکن خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا اللہ کی قسم ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، آپ خوش رہئیے اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، بات سچی بولتے ہیں، ناداروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی وجہ سے پیش آنے والی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر آپ کو خدیجہ رضی اللہ عنہا ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس لائیں جو خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد خویلد کے بھائی کے بیٹے تھے۔ جو زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عربی لکھ لیتے تھے اور وہ جتنا اللہ تعالیٰ چاہتا عربی میں انجیل کا ترجمہ لکھا کرتے تھے، وہ اس وقت بہت بوڑھے ہو گئے تھے اور بینائی بھی جاتی رہی تھی۔ ان سے خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھائی! اپنے بھتیجے کی بات سنو۔ ورقہ نے پوچھا: بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دیکھا تھا وہ سنایا تو ورقہ نے کہا کہ یہ تو وہی فرشتہ (جبرائیل علیہ السلام) ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر آیا تھا۔ کاش میں اس وقت جوان ہوتا جب تمہیں تمہاری قوم نکال دے گی اور زندہ رہتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا یہ مجھے نکالیں گے؟ ورقہ نے کہا کہ ہاں۔ جب بھی کوئی نبی و رسول وہ پیغام لے کر آیا جسے لے کر آپ آئے ہیں تو اس کے ساتھ دشمنی کی گئی اور اگر میں نے تمہارے وہ دن پا لیے تو میں تمہاری بھرپور مدد کروں گا لیکن کچھ ہی دنوں بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا اور وحی کا سلسلہ کٹ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وجہ سے اتنا غم تھا کہ آپ نے کئی مرتبہ پہاڑ کی بلند چوٹی سے اپنے آپ کو گرا دینا چاہا لیکن جب بھی آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھے تاکہ اس پر سے اپنے آپ کو گرا دیں تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آ گئے اور کہا کہ یا محمد! آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں۔ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکون ہوتا اور آپ واپس آ جاتے لیکن جب وحی زیادہ دنوں تک رکی رہی تو آپ نے ایک مرتبہ اور ایسا ارادہ کیا لیکن جب پہاڑ کی چوٹی پر چڑھے تو جبرائیل علیہ السلام سامنے آئے اور اسی طرح کی بات پھر کہی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا (سورۃ الانعام) میں لفظ «فالق الإصباح» سے مراد دن میں سورج کی روشنی اور رات میں چاند کی روشنی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 6982]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز بحالتِ نیند سچے خواب کے ذریعے سے ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے، وہ صبح کی روشنی کی طرح سامنے آ جاتا۔ آپ غارِ حرا میں تشریف لاتے اور اس میں تنہا چند راتیں عبادت کرتے۔ ان چند راتوں کا توشہ بھی ساتھ لاتے۔ پھر جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس تشریف لے جاتے تو وہ اتنا ہی توشہ آپ کے ہمراہ کر دیتیں، حتیٰ کہ اچانک آپ کے پاس حق آ گیا جبکہ آپ غارِ حرا میں تھے، چنانچہ اس میں فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”پڑھیے!“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔“ آخر اس نے مجھے پکڑ لیا اور زور سے دبایا جس کی وجہ سے مجھے بہت تکلیف ہوئی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ کر کہا: ”پڑھیے!“ میں نے کہا: ”میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔“ تو اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑا اور خوب دبایا، یہاں تک کہ میں نے بے حد تکلیف محسوس کی۔ آخر چھوڑ کر اس نے مجھ سے کہا: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [سورة العلق: 1] حتیٰ کہ ﴿مَا لَمْ يَعْلَمْ﴾ [سورة العلق: 5] تک پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (واپس لوٹے تو) ان آیات (کے اثر) سے آپ کے کندھے اور گردن کے درمیان کا گوشت لرز رہا تھا، حتیٰ کہ آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اور فرمایا: ”مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔“ انہوں نے آپ کو چادر اوڑھا دی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف و ہراس دور ہوا تو آپ نے فرمایا: ”خدیجہ! میرا کیا حال ہو گیا ہے؟“ پھر آپ نے اپنی سرگزشت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔“ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اللہ کی قسم! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، آپ خوش ہو جائیے، اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، سچی بات کرتے ہیں، ناداروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں آنے والی مصیبتوں میں مدد کرتے ہیں۔“ اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزی بن قصی کے پاس لائیں، جو ان کے چچا زاد تھے اور زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے، وہ عربی لکھ لیتے تھے اور اللہ کی توفیق سے وہ عربی میں انجیل کا ترجمہ لکھا کرتے تھے، نیز وہ اس وقت بہت بوڑھے ہو چکے تھے حتیٰ کہ ان کی بینائی بھی جاتی رہی تھی۔ ان سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”برادرم! اپنے بھتیجے کی بات غور سے سنیں۔“ ورقہ نے پوچھا: ”بھتیجے! تم کیا دیکھتے ہو؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دیکھا تھا، اسے ذکر کر دیا۔ ورقہ نے سن کر کہا: ”یہ تو وہی «النَّامُوسُ» ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ کاش! میں ایامِ نبوت میں نوجوان ہوتا! کاش! میں اس وقت زندہ رہتا جب تمہاری قوم تمہیں یہاں سے نکال دے گی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ مجھے یہاں سے نکال دیں گے؟“ ورقہ نے کہا: ”ہاں! جب بھی آپ جیسا کوئی پیغام لے کر آیا تو اس کے ساتھ دشمنی کی گئی۔ اور اگر میں نے تمہارا وہ دن پا لیا تو میں تمہاری بھرپور مدد کروں گا۔“ لیکن کچھ ہی دنوں بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا، اس کے بعد وحی کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔ (راوی کہتا ہے کہ) ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وجہ سے اس قدر غم تھا کہ آپ نے کئی مرتبہ پہاڑ کی بلند چوٹیوں سے خود کو گرا دینا چاہا، لیکن جب بھی آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھتے تاکہ اس پر سے خود کو گرا دیں تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نمودار ہو کر فرماتے: ”اے محمد! یقیناً آپ اللہ کے برحق رسول ہیں۔“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو سکون ملتا اور آپ واپس آ جاتے، لیکن جب سلسلہ وحی زیادہ دنوں تک رکا رہا تو ایک مرتبہ آپ نے دوبارہ ایسا ارادہ کیا۔ جب آپ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام سامنے آئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی بات پھر کہی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ﴿فَالِقُ الْإِصْبَاحِ﴾ [سورة الأنعام: 96] سے مراد ہے: دن کے وقت سورج کی روشنی اور رات کے وقت چاند کی روشنی۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 6982]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6982 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6982
حدیث حاشیہ:
یہاں امام بخاری رحمہ اللہ اس حدیث کو اس لیے لائے کہ اس میں یہ ذکر ہے کہ آپ کے خواب سچے ہوا کرتے تھے۔
مذہبی کتابوں کے دوسری زبانوں میں تراجم کا سلسلہ مدت مدید سے جاری ہے جیسا کہ حضرت ورقہ کے حال سے ظاہر ہے۔
ان کو جنت میں اچھی حالت میں دیکھا گیا تھا جو اس ملاقات اور ان کے ایمان کی برکت تھی‘ جو ان کو حاصل ہوئی۔
یہاں امام بخاری رحمہ اللہ اس حدیث کو اس لیے لائے کہ اس میں یہ ذکر ہے کہ آپ کے خواب سچے ہوا کرتے تھے۔
مذہبی کتابوں کے دوسری زبانوں میں تراجم کا سلسلہ مدت مدید سے جاری ہے جیسا کہ حضرت ورقہ کے حال سے ظاہر ہے۔
ان کو جنت میں اچھی حالت میں دیکھا گیا تھا جو اس ملاقات اور ان کے ایمان کی برکت تھی‘ جو ان کو حاصل ہوئی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6982]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6982
حدیث حاشیہ:
1۔
ایک روایت میں الرؤیا کے بجائے الرؤیا الصالحہ کے الفاظ ہیں۔
(صحیح البخاري، بدء الوحي، حدیث 3)
صالحہ سے مراد وہ خواب ہے جس کی صورت یا تعبیر اچھی ہو اور صادقہ وہ ہے جو خارج میں واقعے کے مطابق ہو۔
حضرات انبیاء علیہ السلام کے لیے امور آخرت کے اعتبار سے ہر قسم کے خواب صادقہ اور صالحہ ہوتے ہیں، لیکن امور دنیا کے لحاظ سے تمام خواب صادقہ ہوتے ہیں لیکن ان کا صالحہ ہونا ضروری نہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام خواب صادقہ ہوتے لیکن دنیوی اعتبار سے کبھی صالحہ ہوتے اور کبھی غیر صالحہ جیسا کہ غزوہ احد کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گائے ذبح ہوتے دیکھی تھی۔
یہ خواب دنیا کے اعتبار سے غیر صالحہ تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب سچے ہونے کے اعتبار سے روشن صبح کی طرح ہوتے۔
رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب دیکھتے، دن کے وقت فوراً اس کی تعبیر سامنے آ جاتی۔
2۔
دراصل امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ خواب کے متعلق ان لوگوں کی تردید کرنا چاہتے ہیں جن کے نزدیک خواب محض نفسانی خواہشات، قلبی رجحانات یا دماغی توہمات کا نتیجہ ہیں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک خواب کا دائرہ ان سے وسیع تر ہے۔
ان میں سے حضرات انبیاء علیہم السلام کے خواب تو وحی الٰہی ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کے خواب وحی الٰہی پر مبنی ہوتے ہیں۔
(السنة لابن أبي عاصم، حدیث: 463)
یہی وجہ ہے کہ سچے اور بہترین خواب کو اللہ تعالیٰ نےاپنی طرف منسوب کیا ہے۔
(صحیح مسلم، الرؤیا، حدیث: 5897(2261)
اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف سے بشارت قرار دیا ہے۔
(صحیح البخاري، التعبیر، حدیث: 6995)
بلکہ نیک آدمی کے خواب کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ کہا گیا ہے۔
(صحیح البخاري، التعبیر، حدیث: 6989)
چنانچہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے خواب کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے اعتبار سے لوگوں کو مختلف درجات میں تقسیم کیا ہے:
۔
حضرات انبیاء علیہم السلام ان کے تمام خواب سچے اور حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں اگرچہ ان کے کچھ خواب تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں۔
۔
نیک لوگ:
۔
ان کے خوابوں میں حقیقت اور سچائی کا پہلو غالب ہوتا ہے اگرچہ ان کے ایسے خواب بھی ہوتے ہیں جن کی تعبیر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔
۔
عام لوگ:
۔
ان کے خواب سچے اور جھوٹے دونوں قسم کے ہوتے ہیں، پھر ان کی مزید تین قسمیں ہیں:
۔
جن میں نیکی اور بدی کے دونوں پہلو برابر ہوتے ہیں ان کے اکثر خواب غیر واضح ہوتے ہیں۔
۔
جوکھلے بندوں چھوٹے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں ان کے خواب پریشان کن اور پراگندہ ہوتے ہیں۔
۔
کفار اور بے دین لوگوں کے خواب اکثر غلط اور جھوٹے ہوتے ہیں اور ان میں سچائی کا پہلو انتہائی کم ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 254/12)
3۔
الغرض امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصود یہ ہے کہ تمام خواب بے بنیاد من گھڑت اور توہمات وخیالات کا پلندہ نہیں ہوتے بلکہ بہت سے خواب حقیقت پر مبنی اور سچے ہوتے ہیں جن کی حقانیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
واللہ أعلم۔
1۔
ایک روایت میں الرؤیا کے بجائے الرؤیا الصالحہ کے الفاظ ہیں۔
(صحیح البخاري، بدء الوحي، حدیث 3)
صالحہ سے مراد وہ خواب ہے جس کی صورت یا تعبیر اچھی ہو اور صادقہ وہ ہے جو خارج میں واقعے کے مطابق ہو۔
حضرات انبیاء علیہ السلام کے لیے امور آخرت کے اعتبار سے ہر قسم کے خواب صادقہ اور صالحہ ہوتے ہیں، لیکن امور دنیا کے لحاظ سے تمام خواب صادقہ ہوتے ہیں لیکن ان کا صالحہ ہونا ضروری نہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام خواب صادقہ ہوتے لیکن دنیوی اعتبار سے کبھی صالحہ ہوتے اور کبھی غیر صالحہ جیسا کہ غزوہ احد کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گائے ذبح ہوتے دیکھی تھی۔
یہ خواب دنیا کے اعتبار سے غیر صالحہ تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب سچے ہونے کے اعتبار سے روشن صبح کی طرح ہوتے۔
رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب دیکھتے، دن کے وقت فوراً اس کی تعبیر سامنے آ جاتی۔
2۔
دراصل امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ خواب کے متعلق ان لوگوں کی تردید کرنا چاہتے ہیں جن کے نزدیک خواب محض نفسانی خواہشات، قلبی رجحانات یا دماغی توہمات کا نتیجہ ہیں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک خواب کا دائرہ ان سے وسیع تر ہے۔
ان میں سے حضرات انبیاء علیہم السلام کے خواب تو وحی الٰہی ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کے خواب وحی الٰہی پر مبنی ہوتے ہیں۔
(السنة لابن أبي عاصم، حدیث: 463)
یہی وجہ ہے کہ سچے اور بہترین خواب کو اللہ تعالیٰ نےاپنی طرف منسوب کیا ہے۔
(صحیح مسلم، الرؤیا، حدیث: 5897(2261)
اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف سے بشارت قرار دیا ہے۔
(صحیح البخاري، التعبیر، حدیث: 6995)
بلکہ نیک آدمی کے خواب کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ کہا گیا ہے۔
(صحیح البخاري، التعبیر، حدیث: 6989)
چنانچہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے خواب کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے اعتبار سے لوگوں کو مختلف درجات میں تقسیم کیا ہے:
حضرات انبیاء علیہم السلام ان کے تمام خواب سچے اور حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں اگرچہ ان کے کچھ خواب تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں۔
نیک لوگ:
۔
ان کے خوابوں میں حقیقت اور سچائی کا پہلو غالب ہوتا ہے اگرچہ ان کے ایسے خواب بھی ہوتے ہیں جن کی تعبیر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔
عام لوگ:
۔
ان کے خواب سچے اور جھوٹے دونوں قسم کے ہوتے ہیں، پھر ان کی مزید تین قسمیں ہیں:
جن میں نیکی اور بدی کے دونوں پہلو برابر ہوتے ہیں ان کے اکثر خواب غیر واضح ہوتے ہیں۔
جوکھلے بندوں چھوٹے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں ان کے خواب پریشان کن اور پراگندہ ہوتے ہیں۔
کفار اور بے دین لوگوں کے خواب اکثر غلط اور جھوٹے ہوتے ہیں اور ان میں سچائی کا پہلو انتہائی کم ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 254/12)
3۔
الغرض امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصود یہ ہے کہ تمام خواب بے بنیاد من گھڑت اور توہمات وخیالات کا پلندہ نہیں ہوتے بلکہ بہت سے خواب حقیقت پر مبنی اور سچے ہوتے ہیں جن کی حقانیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6982]
Sahih Bukhari Hadith 6982 in Urdu