یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب لا يأتي زمان إلا الذى بعده شر منه:
باب: ہر زمانہ کے بعد دوسرے آنے والے زمانہ کا اس سے بدتر آنا۔
حدیث نمبر: 7068
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ:"اصْبِرُوا، فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ، سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے زبیر بن عدی نے بیان کیا کہ، ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے طرز عمل کی شکایت کی، انہوں نے کہا کہ صبر کرو کیونکہ تم پر جو دور بھی آتا ہے تو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی برا ہو گا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7068]
حضرت زبیر بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حجاج سے پہنچنے والی تکلیفوں کی شکایت کی۔ انہوں نے فرمایا: ”صبر کرو کیونکہ بعد میں آنے والا دور پہلے دور سے بدتر ہوگا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7068]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥الزبير بن عدي الهمداني، أبو عبد الله، أبو عدي الزبير بن عدي الهمداني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← الزبير بن عدي الهمداني | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله محمد بن يوسف الفريابي ← سفيان الثوري | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7068
| لا يأتي عليكم زمان إلا الذي بعده شر منه حتى تلقوا ربكم سمعته من نبيكم |
جامع الترمذي |
2206
| ما من عام إلا الذي بعده شر منه حتى تلقوا ربكم |
المعجم الصغير للطبراني |
776
| لا يأتي عام إلا والذي بعده شر منه سمعنا ذلك من نبيكم صلى الله عليه وآله وسلم |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7068 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7068
حدیث حاشیہ:
اب یہ اعتراض نہ ہوگا کہ کبھی کبھی بعد کا زمانہ اگلے زمانہ سے بہتر ہو جاتا ہے مثلاً کوئی بادشاہ عادل اور متبع سنت پیدا ہو گیا جیسے عمر بن عبدالعزیز جس کا زمانہ حجاج کے بعد تھا وہ نہایت عادل اور متبع سنت تھے کیونکہ ایک آدھ شخص کے پیدا ہونے سے اس زمانہ کی فضیلت اگلے زمانہ پر لازم نہیں آتی۔
اب یہ اعتراض نہ ہوگا کہ کبھی کبھی بعد کا زمانہ اگلے زمانہ سے بہتر ہو جاتا ہے مثلاً کوئی بادشاہ عادل اور متبع سنت پیدا ہو گیا جیسے عمر بن عبدالعزیز جس کا زمانہ حجاج کے بعد تھا وہ نہایت عادل اور متبع سنت تھے کیونکہ ایک آدھ شخص کے پیدا ہونے سے اس زمانہ کی فضیلت اگلے زمانہ پر لازم نہیں آتی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7068]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7068
حدیث حاشیہ:
حدیث میں مذکور قاعدے کا اطلاق حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دور پر نہیں ہوتا جو حجاج بن یوسف کے چند سالوں بعد آیا کیونکہ ان کے دور میں تمام خرابیاں دم توڑ گئیں تھیں اور لوگ بہت خوشحال تھے لیکن کچھ محدثین نے اس کلیے کو اغلبیت پر محمول کیا ہے۔
ہمارے رجحان کے مطابق بعد والے دور کے مقابلے میں پہلے دور کی برتری مجموعی اعتبار سے ہے حجاج بن یوسف کے دور میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی کثرت تھی اور یہ کثرت حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں نہ تھی اور جس دور میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین موجود ہوں وہ اس دور سے افضل ہے۔
جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا فقدان ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”میرے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میری اُمت کے لیے امن وسلامتی کی ضمانت ہیں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو اُمت ان حالات سے دوچار ہوگی جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
“ (صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 6466(2531)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک اثر سے اس کی مزید وضاحت ہوتی ہے، آپ نے فرمایا:
بعد میں آنے والا دور پہلے سے بدتر ہوگا یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی، اس سے میری مراد مال ودولت کی فراوانی یا زندگی کی آسودگی نہیں ہے لیکن بعد میں آنے والا دور علم وعمل کے اعتبار سے کمتر ہوگا۔
جب علماء ختم ہو جائیں گے تو جہالت کے اعتبار سے سب لوگ یکساں ہوں گے اور بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے اہل نہیں ہوں گے تو اس وقت ان کی ہلاکت یقینی ہے۔
(فتح الباري: 27/13)
حدیث میں مذکور قاعدے کا اطلاق حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دور پر نہیں ہوتا جو حجاج بن یوسف کے چند سالوں بعد آیا کیونکہ ان کے دور میں تمام خرابیاں دم توڑ گئیں تھیں اور لوگ بہت خوشحال تھے لیکن کچھ محدثین نے اس کلیے کو اغلبیت پر محمول کیا ہے۔
ہمارے رجحان کے مطابق بعد والے دور کے مقابلے میں پہلے دور کی برتری مجموعی اعتبار سے ہے حجاج بن یوسف کے دور میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی کثرت تھی اور یہ کثرت حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں نہ تھی اور جس دور میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین موجود ہوں وہ اس دور سے افضل ہے۔
جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا فقدان ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”میرے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میری اُمت کے لیے امن وسلامتی کی ضمانت ہیں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو اُمت ان حالات سے دوچار ہوگی جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
“ (صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 6466(2531)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک اثر سے اس کی مزید وضاحت ہوتی ہے، آپ نے فرمایا:
بعد میں آنے والا دور پہلے سے بدتر ہوگا یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی، اس سے میری مراد مال ودولت کی فراوانی یا زندگی کی آسودگی نہیں ہے لیکن بعد میں آنے والا دور علم وعمل کے اعتبار سے کمتر ہوگا۔
جب علماء ختم ہو جائیں گے تو جہالت کے اعتبار سے سب لوگ یکساں ہوں گے اور بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے اہل نہیں ہوں گے تو اس وقت ان کی ہلاکت یقینی ہے۔
(فتح الباري: 27/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7068]
Sahih Bukhari Hadith 7068 in Urdu
الزبير بن عدي الهمداني ← أنس بن مالك الأنصاري