صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. باب من أخف الصلاة عند بكاء الصبي:
باب: جس نے بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز کو مختصر کر دیا۔
حدیث نمبر: 710
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيد، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ فَأُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ"، وَقَالَ مُوسَى: حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن ابراہیم بن عدی نے سعید بن ابی عروبہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز کی نیت باندھتا ہوں، ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کو طویل کروں گا، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ میں اس درد کو سمجھتا ہوں جو بچے کے رونے کی وجہ سے ماں کو ہو جاتا ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے کہا ہم سے ابان بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 710]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نماز شروع کرتے وقت اسے طول دینے کا ارادہ کرتا ہوں لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر اسے مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ اس کے رونے سے میں محسوس کرتا ہوں کہ ماں کی مامتا تڑپ جائے گی۔“ (راوی حدیث) موسیٰ نے کہا کہ ہم سے ابان نے حدیث بیان کی، اسے قتادہ نے، پھر انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان/حدیث: 710]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
709
| أدخل في الصلاة وأنا أريد إطالتها فأسمع بكاء الصبي فأتجوز في صلاتي مما أعلم من شدة وجد أمه من بكائه |
صحيح البخاري |
708
| يسمع بكاء الصبي فيخفف مخافة أن تفتن أمه |
صحيح البخاري |
710
| أدخل في الصلاة فأريد إطالتها فأسمع بكاء الصبي فأتجوز مما أعلم من شدة وجد أمه من بكائه |
صحيح مسلم |
1055
| يسمع بكاء الصبي مع أمه وهو في الصلاة فيقرأ بالسورة القصيرة |
صحيح مسلم |
1056
| أدخل الصلاة أريد إطالتها فأسمع بكاء الصبي فأخفف من شدة وجد أمه به |
جامع الترمذي |
376
| أسمع بكاء الصبي وأنا في الصلاة فأخفف مخافة أن تفتتن أمه |
سنن ابن ماجه |
989
| أدخل في الصلاة وأنا أريد إطالتها فأسمع بكاء الصبي فأتجوز في صلاتي مما أعلم لوجد أمه ببكائه |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 710 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 710
حدیث حاشیہ:
ان جملہ احادیث سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت ظاہر ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ عہد رسالت میں عورتیں بھی شریک جماعت ہوا کرتی تھیں، ابن ابی شیبہ میں ہے کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رکعت میں ساٹھ آیات کو پڑھا۔
پھر بچے کے رونے کی آواز سن کر آپ نے اتنا اثر لیا کہ دوسری رکعت میں صرف تین آیات پڑھ کر نماز کو پورا کردیا۔
(صلی اللہ علیه وسلم)
ان جملہ احادیث سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت ظاہر ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ عہد رسالت میں عورتیں بھی شریک جماعت ہوا کرتی تھیں، ابن ابی شیبہ میں ہے کہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رکعت میں ساٹھ آیات کو پڑھا۔
پھر بچے کے رونے کی آواز سن کر آپ نے اتنا اثر لیا کہ دوسری رکعت میں صرف تین آیات پڑھ کر نماز کو پورا کردیا۔
(صلی اللہ علیه وسلم)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 710]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:710
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ نے حدیث کے آخر میں جو وضاحت فرمائی ہے اس سے مقصود یہ ہے کہ حضرت قتادہ کا حضرت انس سے سماع ثابت ہے۔
اس سے تدلیس کا کا شعبہ ختم ہوگیا۔
موسیٰ سے مراد ابو سلمہ موسیٰ بن اسماعیل تبوذکی ہیں۔
ان کے استاد حضرت ابان بن یزید العطار ہیں۔
امام بخاری ؒ نے حدیث کے آخر میں جو وضاحت فرمائی ہے اس سے مقصود یہ ہے کہ حضرت قتادہ کا حضرت انس سے سماع ثابت ہے۔
اس سے تدلیس کا کا شعبہ ختم ہوگیا۔
موسیٰ سے مراد ابو سلمہ موسیٰ بن اسماعیل تبوذکی ہیں۔
ان کے استاد حضرت ابان بن یزید العطار ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 710]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث989
دوران نماز حادثہ پیش آ جانے پر نماز ہلکی کرنے کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نماز شروع کرتا ہوں اور لمبی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو نماز اس خیال سے مختصر کر دیتا ہوں کہ بچے کی ماں کو اس کے رونے کی وجہ سے تکلیف ہو گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 989]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نماز شروع کرتا ہوں اور لمبی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو نماز اس خیال سے مختصر کر دیتا ہوں کہ بچے کی ماں کو اس کے رونے کی وجہ سے تکلیف ہو گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 989]
اردو حاشہ:
فائدہ:
(1)
نماز کے طویل یا مختصر کرنے سے قراءت کو طویل یا مختصر کرنا مراد ہے۔
دوسرے ارکان کے اذکار میں بھی کسی حد تک اختصار ممکن ہے۔
(2)
امام کو مقتدیوں کے حالات کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
(3)
عورتیں مسجد میں آ کر باجماعت نماز ادا کرسکتی ہیں اور اپنے ساتھ چھوٹے بچوں کو بھی لاسکتی ہیں۔
فائدہ:
(1)
نماز کے طویل یا مختصر کرنے سے قراءت کو طویل یا مختصر کرنا مراد ہے۔
دوسرے ارکان کے اذکار میں بھی کسی حد تک اختصار ممکن ہے۔
(2)
امام کو مقتدیوں کے حالات کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
(3)
عورتیں مسجد میں آ کر باجماعت نماز ادا کرسکتی ہیں اور اپنے ساتھ چھوٹے بچوں کو بھی لاسکتی ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 989]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 376
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے نماز میں بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز ہلکی کر دینے کا بیان۔
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اللہ کی! جب نماز میں ہوتا ہوں اور اس وقت بچے کا رونا سنتا ہوں تو اس ڈر سے نماز کو ہلکی کر دیتا ہوں کہ اس کی ماں کہیں فتنے میں نہ مبتلا ہو جائے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 376]
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اللہ کی! جب نماز میں ہوتا ہوں اور اس وقت بچے کا رونا سنتا ہوں تو اس ڈر سے نماز کو ہلکی کر دیتا ہوں کہ اس کی ماں کہیں فتنے میں نہ مبتلا ہو جائے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 376]
اردو حاشہ:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام کو ایسی صورت میں یا اسی طرح کی صورتوں میں بروقت نماز ہلکی کردینی چاہئے،
تاکہ بچوں کی مائیں ان کے رونے اور چلانے سے گھبرا نہ جائیں۔
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام کو ایسی صورت میں یا اسی طرح کی صورتوں میں بروقت نماز ہلکی کردینی چاہئے،
تاکہ بچوں کی مائیں ان کے رونے اور چلانے سے گھبرا نہ جائیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 376]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1056
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں لمبی نماز پڑھنے کے ارادے سے نماز شروع کرتا ہوں، پھر بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اس کے رونے کی وجہ سے ماں کے شدید غم میں مبتلا ہونے کی وجہ (کے ڈر) سے ہلکی نماز پڑھا دیتا ہوں۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1056]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
وَجْدٌ:
غم وحزن۔
فوائد ومسائل:
اثنائے نماز میں کسی تخفیف کے طالب کام کے پیدا ہوجانے سے امام نماز میں تخفیف کر سکتا ہے،
جب کہ وہ کام ایسا ہو جو مقتدیوں کے لیے یا ان میں سے بعض کے لیے نماز سے مشغولیت اور غفلت کا سبب بنتا ہو،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے رونے کو ماں کے نماز سے مشغول ہونے کے سبب (کہ وہ اس سے محبت کی بنا پر اس کے رونے سے غم وحزن میں مبتلا ہو کرنماز پر توجہ نہیں دے سکی)
نماز میں تخفیف کی ہے،
اس پر قیاس کرتے ہوئے علماء نے لکھا ہے نامعلوم نمازیوں کو رکعت میں شریک کرنے کے لیے قیام کو کچھ طویل بھی کیا جا سکتا ہے۔
مفردات الحدیث:
وَجْدٌ:
غم وحزن۔
فوائد ومسائل:
اثنائے نماز میں کسی تخفیف کے طالب کام کے پیدا ہوجانے سے امام نماز میں تخفیف کر سکتا ہے،
جب کہ وہ کام ایسا ہو جو مقتدیوں کے لیے یا ان میں سے بعض کے لیے نماز سے مشغولیت اور غفلت کا سبب بنتا ہو،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے رونے کو ماں کے نماز سے مشغول ہونے کے سبب (کہ وہ اس سے محبت کی بنا پر اس کے رونے سے غم وحزن میں مبتلا ہو کرنماز پر توجہ نہیں دے سکی)
نماز میں تخفیف کی ہے،
اس پر قیاس کرتے ہوئے علماء نے لکھا ہے نامعلوم نمازیوں کو رکعت میں شریک کرنے کے لیے قیام کو کچھ طویل بھی کیا جا سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1056]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 708
708. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر اور اسے مکمل طر پر ادا کرنے والا ہو۔ بےشک آپ بچے کا گریہ سن کر نماز کو ہلکا کر دیتے تھے مبادا اس کی ماں پریشان ہو جائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:708]
حدیث حاشیہ:
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز باعتبار قرات کے تو ہلکی ہوتی، چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھتے اور ارکان یعنی رکوع سجدہ وغیرہ پورے طور سے ادا فرماتے جو لوگ سنت کی پیروی کرنا چاہیں۔
ان کو امامت کی حالت میں ایسی ہی نماز پڑھانی چاہئے۔
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز باعتبار قرات کے تو ہلکی ہوتی، چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھتے اور ارکان یعنی رکوع سجدہ وغیرہ پورے طور سے ادا فرماتے جو لوگ سنت کی پیروی کرنا چاہیں۔
ان کو امامت کی حالت میں ایسی ہی نماز پڑھانی چاہئے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 708]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:708
708. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر اور اسے مکمل طر پر ادا کرنے والا ہو۔ بےشک آپ بچے کا گریہ سن کر نماز کو ہلکا کر دیتے تھے مبادا اس کی ماں پریشان ہو جائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:708]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ کے سابقہ عنوانات میں مقتدی حضرات کی رعایت کرتے ہوئے نماز میں تخفیف کردینے کا ذکر تھا۔
اس باب میں ایسی روایات پیش کی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ مقتدی حضرات کے علاوہ دوسرے لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے بھی نماز کا مختصر کیا جاسکتا ہے لیکن غیر مقتدی کا کسی نہ کسی طرح مقتدی سے تعلق ضرور ہوتا ہے جیسا کہ اس روایت میں ہے کیونکہ نماز میں تخفیف کا سبب اگرچہ بچے کا رونا ہے لیکن درحقیقت اس کا تعلق ماں کی مامتا سے ہے، گویا تخفیف ماں کی خاطر ہی کی جارہی ہے۔
(فتح الباري: 262/2)
امام بخاری ؒ کے سابقہ عنوانات میں مقتدی حضرات کی رعایت کرتے ہوئے نماز میں تخفیف کردینے کا ذکر تھا۔
اس باب میں ایسی روایات پیش کی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ مقتدی حضرات کے علاوہ دوسرے لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے بھی نماز کا مختصر کیا جاسکتا ہے لیکن غیر مقتدی کا کسی نہ کسی طرح مقتدی سے تعلق ضرور ہوتا ہے جیسا کہ اس روایت میں ہے کیونکہ نماز میں تخفیف کا سبب اگرچہ بچے کا رونا ہے لیکن درحقیقت اس کا تعلق ماں کی مامتا سے ہے، گویا تخفیف ماں کی خاطر ہی کی جارہی ہے۔
(فتح الباري: 262/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 708]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:709
709. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نماز کے آغاز کے وقت اسے طول دینے کا ارادہ کرتا ہوں لیکن بچے کا رونا سن کر اسے مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ بچے کے رونے سے اس کی ماں کو پریشانی اور تشویش لاحق ہو گی۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:709]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے مندرجہ ذیل مسائل کا پتا چلتا ہے:
٭عورتیں مردوں کے ہمراہ نماز باجماعت ادا کرسکتی ہیں۔
٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ بہت شفقت فرماتے تھے اور ان کی احوال گیری کرتے رہتے تھے۔
٭اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ بچوں کو مسجد میں لایا جا سکتا ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:
یہ بات محل نظر ہے، کیونکہ بچے کہ رونے سے ماں کا پریشان ہونا بیان ہوا ہے، اس کے لیے ضروری نہیں کہ بچہ ماں کے ساتھ ہی ہو بلکہ ممکن ہے کہ مسجد کے ساتھ اس کا گھر ہو اور مسجد گھر سے بچے کے رونے کی آواز سنائی دے رہی ہو۔
(فتح الباري: 262/2)
لیکن حافظ ابن حجر ؒ کی یہ توجیہ محل نظر ہے کیونکہ مسجد کے آس پاس گھر تو ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے تھے جن کے ہاں اولاد نہیں تھی۔
والله أعلم۔
اس حدیث سے مندرجہ ذیل مسائل کا پتا چلتا ہے:
٭عورتیں مردوں کے ہمراہ نماز باجماعت ادا کرسکتی ہیں۔
٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ بہت شفقت فرماتے تھے اور ان کی احوال گیری کرتے رہتے تھے۔
٭اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ بچوں کو مسجد میں لایا جا سکتا ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:
یہ بات محل نظر ہے، کیونکہ بچے کہ رونے سے ماں کا پریشان ہونا بیان ہوا ہے، اس کے لیے ضروری نہیں کہ بچہ ماں کے ساتھ ہی ہو بلکہ ممکن ہے کہ مسجد کے ساتھ اس کا گھر ہو اور مسجد گھر سے بچے کے رونے کی آواز سنائی دے رہی ہو۔
(فتح الباري: 262/2)
لیکن حافظ ابن حجر ؒ کی یہ توجیہ محل نظر ہے کیونکہ مسجد کے آس پاس گھر تو ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے تھے جن کے ہاں اولاد نہیں تھی۔
والله أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 709]
Sahih Bukhari Hadith 710 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري