🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51M. باب:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7222
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَكُونُ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا، فَقَالَ كَلِمَةً لَمْ أَسْمَعْهَا، فَقَالَ أَبِي، إِنَّهُ قَالَ: كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (میری امت میں) بارہ امیر ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی بات فرمائی جو میں نے نہیں سنی، بعد میں میرے والد نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ وہ سب کے سب قریش خاندان سے ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7222]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت میں بارہ امیر ہوں گے۔ پھر آپ نے کوئی ایسی بات کہی جو میں نہ سن سکا۔ بعد میں میرے والد گرامی نے بتایا کہ آپ نے فرمایا تھا: وہ سب کے سب قریش کے خاندان سے ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7222]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن سمرة العامري، أبو خالد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الملك بن عمير اللخمي، أبو عمرو، أبو عمر
Newعبد الملك بن عمير اللخمي ← جابر بن سمرة العامري
صدوق حسن الحديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عبد الملك بن عمير اللخمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7222 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7222
حدیث حاشیہ:
دوسری روایت میں ہے یہ دین برابر عزت سے رہے گا، بارہ خلیفوں کے زمانہ تک۔
ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ یہ دین برابر قائم رہے گا، یہاں تک کہ تم پر بارہ خلیفے ہوں گے اور سب پر اتفاق کرے گی۔
یہ بارہ خلیفے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں گزر چکے ہیں۔
حضرت صدیق﷜ سے لے کر عبدالعزیز  تک چودہ شخص حاکم ہوئے ہیں۔
ان میں سے دو کا زمانہ بہت قلیل رہا۔
ایک معاویہ بن یزید، دوسرے مروان کا۔
ان کو نکال ڈالو تو وہی بارہ خلیفہ ہوتے ہیں جنہوں نے بہت زور شور کے ساتھ خلافت کی۔
عمر بن عبدالعزیز کے بعد پھر زمانہ کا رنگ بدل گیا اور حضرت حسن اور عبداللہ بن زبیر﷢ پر گوسب لوگ جمع نہیں ہوئےتھے مگر اکثر لوگ تو پہلے جمع ہوگئے اس لیے ان دونوں صاحبوں کی بھی خلافت حق اور صحیح ہے۔
امامیہ نے اس حدیث سے یہ دلیل لی ہے کہ بارہ امام مراد ہیں یعنی حضرت علی﷜ سے لے کر جناب محمدبن حسن مہدی تک مگر اس میں یہ شبہ ہوتا ہے کہ حضرت حسن﷜ کے بعد پھر کسی امام پر لوگ جمع نہیں ہوئے نہ ان کو شوکت اورحکومت حاصل ہوئی بلکہ اکثر جان کے ڈر سے چھپے رہے تو یہ لوگ اس حدیث سے کیسےمراد ہوسکتے ہیں۔
واللہ أعلم
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7222]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7222
حدیث حاشیہ:

صحیح بخاری کی یہ روایت انتہائی مختصر ہے کیونکہ اس میں بارہ خلفاء کے اوصاف بیان نہیں ہوئے،صرف یہی ذکر ہوا ہے کہ وہ خاندان قریش سے ہوں گے۔
دیگرروایات سے پتا چلتا ہے کہ ان کے دورامارت میں اسلام خوب پھلے پھولے گا اور اسے غلبہ ہوگا اور اس کے ماننے والوں کی مخالفت ہوگی لیکن انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
(صحیح مسلم الامارۃ حدیث 4708(1821)
اس حدیث میں دوباتیں مزید بیان کی جاتی ہیں جو سند کے اعتبار سے صحیح نہیں:
۔
ان خلفاء پر امت کا اتفاق ہوگا۔
۔
ان کے بعد قتل وغارت ہوگا جیسا کہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے متعلق تفصیل سے لکھاہے۔
(سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ رقم 376)

ان خلفاء کی تعین کے متعلق بہت اختلاف ہے،اس لیے ہم نے دانستہ اس سے پہلوتہی کی ہے،البتہ شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ ان سے مراد ان کے مزعومہ بارہ امام ہیں جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شروع ہوکر محمد بن حسن مہدی پر ختم ہوتے ہیں لیکن یہ اس لیےغلط ہے کہ ان کے دورحکومت میں اسلام کی کوئی شان وشوکت نہیں ملی بلکہ ان میں سے اکثر اپنی جان بچانے کے لیے چھپے رہے۔
ہمارے نزدیک شیعہ کا یہ موقف مبنی برحقیقت نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7222]

Sahih Bukhari Hadith 7222 in Urdu