یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب: {وكان عرشه على الماء} ، {وهو رب العرش العظيم} :
باب: (سورۃ ہود میں اللہ تعالیٰ کا فرمان) ”اور اس کا عرش پانی پر تھا“، ”اور وہ عرش عظیم کا رب ہے“۔
حدیث نمبر: 7425
حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، قَالَ:" أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ، فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ سورة التوبة آية 128 حَتَّى خَاتِمَةِ بَرَاءَةٌ"، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ بِهَذَا، وَقَالَ: مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ.
ہم سے موسیٰ بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبید بن سباق نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ اور لیث نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن سباق نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا، پھر میں نے قرآن کی تلاش کی اور سورۃ التوبہ کی آخری آیت ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائی۔ یہ آیات مجھے کسی اور کے پاس نہیں ملی تھیں «لقد جاءكم رسول من أنفسكم» سورۃ برات کے آخر تک۔ ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا اور ان سے یونس نے یہی بیان کیا کہ ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سورۃ توبہ کی آخری آیات پائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7425]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا، پھر میں نے قرآن جمع کرنے کے لیے اس کی تلاش شروع کی، تو سورہ توبہ کی آخری آیات حضرت ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس (ہی ملیں جو ان کے علاوہ کسی اور کے پاس) نہیں ملی تھیں۔ وہ آیات یہ تھیں: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ﴾ [سورة التوبة: 128] سورہ براءت کے آخر تک۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7425]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7425 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7425
حدیث حاشیہ:
1۔
بعض روایات میں سورہ توبہ کی دو آیات کا ذکر ہے۔
وہ یہ ہیں۔
(لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ (128)
فَإِن تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ) (التوبة: 128۔
صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4679)
یعنی اگر یہ لوگ آپ کی شخصیت حد درجہ شفقت اور خیر خواہی کی قدر نہیں کرتے تو انھیں نظرانداز کر دیں۔
ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ آپ کا مدد گار ہے اسی پر بھروسا کریں جو کائنات کی ایک ایک چیز حتی کہ عرش عظیم کا بھی مالک ہے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے آیت کے آخری حصے سے عنوان ثابت کیا ہے کہ اس میں عرش کی عظمت کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے عرش کی متعدد صفات ذکر کی ہیں۔
اس مقام پر اس کی عظمت ووسعت کا بیان ہے۔
کہ وہ بہت وسیع و عریض ہے کائنات میں وہ سب سے بڑی مخلوق ہے جملہ مخلوقات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
دوسرے مقام فرمایا:
اس کا عرش کریم ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
(فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ) (المومنون: 116)
”اللہ تعالیٰ بلند شان والا ہے وہی حقیقی بادشاہ ہے اس کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں۔
وہی عرش کریم کا مالک ہے۔
“3۔
قرآن کریم میں اس کی خوبصورتی اوراس کےحسن و جمال کا بیان ہے۔
کائنات میں سب سے زیادہ خوبصورت اللہ تعالیٰ کا عرش ہے۔
سورہ بروج کی آیت (ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ)
کا معروف قرآءت کے مطابق ترجمہ یہ ہے۔
”عرش کا مالک اونچی شان والا ہے۔
“ جبکہ ایک دوسری قرآءت (ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ)
بھی ہے اس قرآءت کے مطابق معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا عرش مجید ہے۔
(البروج: 85۔
15)
یعنی وہ عرش بڑی شان و شوکت اور بزرگی والا ہے۔
ان ظاہری اور باطنی صفات کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے چونکہ وہ مخلوقات میں سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب بلکہ ذات باری تعالیٰ کا محل استواء ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب کیا ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کائنات کی ہر چیز کا رب ہے لیکن عرش کی عظمت ووسعت کے پیش نظر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نسبت ہے۔
عرش کے مالک سے مراد پوری کائنات کا مالک ہے کیونکہ اس کا عرش پوری کائنات کو محیط ہے۔
1۔
بعض روایات میں سورہ توبہ کی دو آیات کا ذکر ہے۔
وہ یہ ہیں۔
(لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ (128)
فَإِن تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ) (التوبة: 128۔
صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4679)
یعنی اگر یہ لوگ آپ کی شخصیت حد درجہ شفقت اور خیر خواہی کی قدر نہیں کرتے تو انھیں نظرانداز کر دیں۔
ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ آپ کا مدد گار ہے اسی پر بھروسا کریں جو کائنات کی ایک ایک چیز حتی کہ عرش عظیم کا بھی مالک ہے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے آیت کے آخری حصے سے عنوان ثابت کیا ہے کہ اس میں عرش کی عظمت کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے عرش کی متعدد صفات ذکر کی ہیں۔
اس مقام پر اس کی عظمت ووسعت کا بیان ہے۔
کہ وہ بہت وسیع و عریض ہے کائنات میں وہ سب سے بڑی مخلوق ہے جملہ مخلوقات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
دوسرے مقام فرمایا:
اس کا عرش کریم ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
(فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ) (المومنون: 116)
”اللہ تعالیٰ بلند شان والا ہے وہی حقیقی بادشاہ ہے اس کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں۔
وہی عرش کریم کا مالک ہے۔
“3۔
قرآن کریم میں اس کی خوبصورتی اوراس کےحسن و جمال کا بیان ہے۔
کائنات میں سب سے زیادہ خوبصورت اللہ تعالیٰ کا عرش ہے۔
سورہ بروج کی آیت (ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ)
کا معروف قرآءت کے مطابق ترجمہ یہ ہے۔
”عرش کا مالک اونچی شان والا ہے۔
“ جبکہ ایک دوسری قرآءت (ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ)
بھی ہے اس قرآءت کے مطابق معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا عرش مجید ہے۔
(البروج: 85۔
15)
یعنی وہ عرش بڑی شان و شوکت اور بزرگی والا ہے۔
ان ظاہری اور باطنی صفات کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے چونکہ وہ مخلوقات میں سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب بلکہ ذات باری تعالیٰ کا محل استواء ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب کیا ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کائنات کی ہر چیز کا رب ہے لیکن عرش کی عظمت ووسعت کے پیش نظر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نسبت ہے۔
عرش کے مالک سے مراد پوری کائنات کا مالک ہے کیونکہ اس کا عرش پوری کائنات کو محیط ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7425]
Sahih Bukhari Hadith 7425 in Urdu
الليث بن سعد الفهمي ← يونس بن يزيد الأيلي