🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. بَابُ: {وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ}، {وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ}:
باب: (سورۃ ہود میں اللہ تعالیٰ کا فرمان) ”اور اس کا عرش پانی پر تھا“، ”اور وہ عرش عظیم کا رب ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7418
قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ ارْتَفَعَ فَسَوَّاهُنَّ خَلَقَهُنَّ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ اسْتَوَى عَلَا عَلَى الْعَرْشِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمَجِيدُ الْكَرِيمُ وَالْوَدُودُ الْحَبِيبُ، يُقَالُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ كَأَنَّهُ فَعِيلٌ مِنْ مَاجِدٍ مَحْمُودٌ مِنْ حَمِدَ.
ابوالعالیہ نے بیان کیا کہ «استوى إلى السماء‏» کا مفہوم یہ ہے کہ وہ آسمان کی طرف بلند ہوا۔ «فسواهن‏» یعنی پھر انہیں پیدا کیا۔ مجاہد نے کہا کہ «استوى‏» بمعنی «على العرش‏.‏» ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ «مجيد» بمعنی «كريم» ۔ «الودود» بمعنی «الحبيب‏.‏» بولتے ہیں۔ «حميد»، «مجيد» ۔ گویا یہ فعیل کے وزن پر ماجد سے ہے اور «محمود»، «حميد‏.‏» سے مشتق ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: Q7418]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7418
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ:" إِنِّي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ، قَالُوا: بَشَّرْتَنَا، فَأَعْطِنَا، فَدَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ، قَالُوا: قَبِلْنَا جِئْنَاكَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ وَلِنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ مَا كَانَ، قَالَ كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ ثُمَّ أَتَانِي رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا عِمْرَانُ، أَدْرِكْ نَاقَتَكَ فَقَدْ ذَهَبَتْ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهَا، فَإِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُونَهَا، وَايْمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا قَدْ ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے جامع بن شداد نے، ان سے صفوان بن محرز نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ آپ کے پاس بنو تمیم کے کچھ لوگ آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔ انہوں نے اس پر کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت دے دی، اب ہمیں بخشش بھی دیجئیے۔ پھر آپ کے پاس یمن کے کچھ لوگ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اہل یمن! بنو تمیم نے بشارت نہیں قبول کی تم اسے قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قبول کر لی۔ ہم آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور تاکہ آپ سے اس دنیا کی ابتداء کے متعلق پوچھیں کہ کس طرح تھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تھا اور کوئی چیز نہیں تھی اور اللہ کا عرش پانی پر تھا۔ پھر اس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور لوح محفوظ میں ہر چیز لکھ دی (عمران بیان کرتے ہیں کہ) مجھے ایک شخص نے آ کر خبر دی کہ عمران اپنی اونٹنی کی خبر لو وہ بھاگ گئی ہے۔ چنانچہ میں اس کی تلاش میں نکلا۔ میں نے دیکھا کہ میرے اور اس کے درمیان ریت کا چٹیل میدان حائل ہے اور اللہ کی قسم میری تمنا تھی کہ وہ چلی ہی گئی ہوتی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں سے نہ اٹھا ہوتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7418]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اتنے میں آپ کے پاس قبیلہ بنو تمیم کے چند لوگ آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے) فرمایا: اے بنو تمیم! تم بشارت قبول کرو۔ انہوں نے کہا: آپ نے ہمیں بشارت تو دی ہے، کچھ (دنیا کا) مال بھی دیں۔ پھر آپ کے پاس یمن کے کچھ لوگ آئے تو آپ نے فرمایا: اے اہل یمن! تم خوشخبری قبول کرو، بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا: ہم نے اسے قبول کیا۔ ہم تو آپ کے پاس اس غرض سے آئے ہیں کہ دین کے متعلق سمجھ بوجھ حاصل کریں اور آپ سے اس دنیا کے آغاز کے متعلق پوچھیں کہ اس کی ابتدا کیسی ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل تھا اور کچھ نہیں تھا، البتہ اللہ کا عرش پانی پر تھا، پھر اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور لوح محفوظ میں ہر چیز لکھ دی۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اتنے میں ایک آدمی نے آکر مجھ سے کہا: اے عمران! اپنی اونٹنی کی خبر لو، وہ بھاگ گئی ہے، میں اس کی تلاش میں نکلا۔ میں نے دیکھا کہ میرے اور اس کے درمیان سراب حائل ہے، اللہ کی قسم! اب میں چاہتا ہوں کہ اگر اونٹنی جاتی تھی تو چلی جاتی مگر میں آپ کی مجلس سے نہ اٹھا ہوتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7418]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7419
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ يَمِينَ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ؟، فَإِنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مَا فِي يَمِينِهِ وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْفَيْضُ، أَوِ الْقَبْضُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے اسے کوئی خرچ کم نہیں کرتا جو دن و رات وہ کرتا رہتا ہے کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب سے زمین و آسمان کو اس نے پیدا کیا ہے کتنا خرچ کر دیا ہے۔ اس سارے خرچ نے اس میں کوئی کمی نہیں کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے جسے وہ اٹھاتا اور جھکاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7419]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، اس میں خرچ کرنا کسی قسم کی کمی نہیں لاتا، وہ دن رات سخاوت کرتا رہتا ہے، تمہیں کیا معلوم کہ جب سے زمین اور آسمان کو اس نے پیدا کیا ہے کتنا خرچ کر دیا ہے؟ اس سخاوت نے اس میں کوئی کمی نہیں کی جو اس کے دائیں ہاتھ میں ہے، اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں «الْفَيْضُ» یا «الْقَبْضُ» فیض یا قبض ہے جسے وہ اونچا اور نیچا کرتا رہتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7419]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7420
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَشْكُو، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اتَّقِ اللَّهَ وَأَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ"، قَالَ أَنَسٌ: لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا لَكَتَمَ هَذِهِ، قَالَ: فَكَانَتْ زَيْنَبُ تَفْخَرُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولْ: زَوَّجَكُنَّ أَهَالِيكُنَّ وَزَوَّجَنِي اللَّهُ تَعَالَى مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ، وَعَنْ ثَابِتٍ، وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ سورة الأحزاب آية 37 نَزَلَتْ فِي شَأْنِ زَيْنَبَ، وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ.
ہم سے احمد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ابی بکر المقدمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ (اپنی بیوی کی) شکایت کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات کو چھپانے والے ہوتے تو اسے ضرور چھپاتے۔ بیان کیا چنانچہ زینب رضی اللہ عنہا تمام ازواج مطہرات پر فخر سے کہتی تھی کہ تم لوگوں کی تمہارے گھر والوں نے شادی کی۔ اور میری اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے شادی کی اور ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت «وتخفي في نفسك ما الله مبديه وتخشى الناس‏» اور آپ اس چیز کو اپنے دل میں چھپاتے ہیں جسے اللہ ظاہر کرنے والا ہے۔ زینب اور زید بن حارث رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7420]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ (اپنی بیوی کی) شکایت کرتے ہوئے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سے ڈرو اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات (لوگوں سے) چھپانے والے ہوتے تو اسے ضرور چھپاتے۔ (راوی حدیث کہتے ہیں:) ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج مطہرات کے سامنے بطور فخر کہا کرتی تھیں: تمہارے نکاح تمہارے گھر والوں نے کیے ہیں جبکہ میری شادی اللہ تعالیٰ نے ساتوں آسمانوں کے اوپر سے کی ہے۔ حضرت ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آیت ﴿وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّـهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ﴾ [سورة الأحزاب: 37] اور آپ اپنے دل میں جو بات چھپا رہے تھے اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7420]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7421
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ فِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَأَطْعَمَ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ خُبْزًا وَلَحْمًا، وَكَانَتْ تَفْخَرُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ تَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ أَنْكَحَنِي فِي السَّمَاءِ".
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عیسیٰ بن طہمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ پردہ کی آیت ام المؤمنین زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی اور اس دن آپ نے روٹی اور گوشت کے ولیمہ کی دعوت دی اور زینب رضی اللہ عنہا تمام ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ میرا نکاح اللہ نے آسمان پر کرایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7421]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: آیتِ حجاب ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے متعلق نازل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن ولیمے میں روٹی اور گوشت سے دعوت فرمائی۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا تمام ازواجِ مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں اور فرماتی تھیں: بلاشبہ میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے آسمان پر کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7421]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7422
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَمَّا قَضَى الْخَلْقَ كَتَبَ عِنْدَهُ فَوْقَ عَرْشِهِ إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق پیدا کی تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غصہ سے بڑھ کر ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7422]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کر لی تو اپنے عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ دیا: بے شک میری رحمت میرے غصے سے سبقت لے گئی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7422]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7423
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي هِلَالٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَامَ رَمَضَانَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُنَبِّئُ النَّاسَ بِذَلِكَ؟، قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ، كُلُّ دَرَجَتَيْنِ مَا بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ؟، فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے ہلال نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی، رمضان کے روزے رکھے تو اللہ پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے۔ خواہ اس نے ہجرت کی ہو یا وہیں مقیم رہا ہو جہاں اس کی پیدائش ہوئی تھی۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس کی اطلاع لوگوں کو نہ دے دیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ پس جب تم اللہ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ درمیانہ درجے کی جنت ہے اور بلند ترین اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7423]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ کے ذمے ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے، خواہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرے یا اسی زمین میں مقیم رہے جہاں وہ پیدا ہوا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم لوگوں کو اس سے مطلع نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیے ہیں۔ ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے، اس لیے تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو جنت فردوس کا سوال کیا کرو کیونکہ یہ جنت کا اعلیٰ اور بلند ترین درجہ ہے اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7423]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7424
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم" جالس، فلما غربت الشمس دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ؟، قَالَ: قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهَا تَذْهَبُ تَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا، ثُمَّ قَرَأَ: 0 ذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا 0 فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ".
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے اور ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، پھر جب سورج غروب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! کیا تمہیں معلوم ہے یہ کہاں جاتا ہے؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور سجدہ کی اجازت چاہتا ہے پھر اسے اجازت دی جاتی ہے اور گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ واپس وہاں جاؤ جہاں سے آئے ہو۔ چنانچہ وہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوتا ہے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «ذلك مستقر لها‏» عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرآت یوں ہی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7424]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں (ایک مرتبہ) مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرما تھے، جب سورج غروب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ (سورج) کہاں جاتا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جاتا ہے اور سجدے کی اجازت چاہتا ہے، پھر اسے اجازت دی جاتی ہے، گویا (ایک وقت آئے گا کہ) اسے کہا جائے گا: وہاں واپس جاؤ جہاں سے آئے ہو تو وہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا﴾ [سورة يس: 38] یہ اس کی گزرگاہ ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت اسی طرح ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7424]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7425
حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، قَالَ:" أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ، فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ سورة التوبة آية 128 حَتَّى خَاتِمَةِ بَرَاءَةٌ"، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ بِهَذَا، وَقَالَ: مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ.
ہم سے موسیٰ بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبید بن سباق نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ اور لیث نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن سباق نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا، پھر میں نے قرآن کی تلاش کی اور سورۃ التوبہ کی آخری آیت ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائی۔ یہ آیات مجھے کسی اور کے پاس نہیں ملی تھیں «لقد جاءكم رسول من أنفسكم‏» سورۃ برات کے آخر تک۔ ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا اور ان سے یونس نے یہی بیان کیا کہ ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سورۃ توبہ کی آخری آیات پائیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7425]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا، پھر میں نے قرآن جمع کرنے کے لیے اس کی تلاش شروع کی، تو سورہ توبہ کی آخری آیات حضرت ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس (ہی ملیں جو ان کے علاوہ کسی اور کے پاس) نہیں ملی تھیں۔ وہ آیات یہ تھیں: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ﴾ [سورة التوبة: 128] سورہ براءت کے آخر تک۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7425]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7426
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ".
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا کرتے تھے «لا إله إلا الله العليم الحليم لا إله إلا الله رب العرش العظيم لا إله إلا الله رب السموات ورب الأرض رب العرش الكريم» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بہت جاننے والا بڑا بردبار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی رب نہیں جو آسمانوں کا رب ہے، زمین کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7426]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ سب کچھ جاننے والا بڑا بردبار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو آسمانوں کا مالک، زمین کا رب اور عرشِ کریم کا مالک ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7426]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں