صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
118. بَابُ وَضْعِ الأَكُفِّ عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ:
باب: اس بارے میں کہ رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنا۔
حدیث نمبر: Q790
وَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ فِي أَصْحَابِهِ: أَمْكَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ.
اور ابوحمید نے اپنے ساتھیوں کے سامنے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر جمائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q790]
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
2043
الجامع الكامل حدیث نمبر :
2043
حدیث نمبر: 790
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ:" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْب أَبِي فَطَبَّقْتُ بَيْنَ كَفَّيَّ ثُمَّ وَضَعْتُهُمَا بَيْنَ فَخِذَيَّ، فَنَهَانِي أَبِي وَقَالَ: كُنَّا نَفْعَلُهُ فَنُهِينَا عَنْهُ وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَيْدِينَا عَلَى الرُّكَبِ".
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابویعفور اکبر سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے مصعب بن سعد سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز پڑھی اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھ لیا۔ اس پر میرے باپ نے مجھے ٹوکا اور فرمایا کہ ہم بھی پہلے اسی طرح کرتے تھے۔ لیکن بعد میں اس سے روک دئیے گئے اور حکم ہوا کہ ہم اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 790]
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے پہلو میں نماز پڑھی تو میں نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر اپنی رانوں کے درمیان رکھ لیا۔ مجھے میرے والد نے اس فعل سے منع فرمایا اور کہا کہ ہم پہلے ایسا کیا کرتے تھے پھر ہمیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ ”(دورانِ رکوع) اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھا کریں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 790]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
2043
الجامع الكامل حدیث نمبر :
2043
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 790 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 790
حدیث حاشیہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے رکوع میں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملا کر دونوں رانوں کے بیچ میں رکھنا منقول ہے۔
حضرت امام بخاری ؒ نے یہ باب لاکر اشارہ فرمایا کہ یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے رکوع میں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملا کر دونوں رانوں کے بیچ میں رکھنا منقول ہے۔
حضرت امام بخاری ؒ نے یہ باب لاکر اشارہ فرمایا کہ یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 790]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:790
حدیث حاشیہ:
(1)
سنن دارمی میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے بیٹوں نے نماز پڑھی تو رکوع کے وقت انہوں نے اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں کے درمیان رکھا۔
حضرت مصعب نے جب اس طرح نماز پڑھی تو ان کے باپ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے ان کے ہاتھوں پر مارا، پھر حقیقتِ حال کی وضاحت فرمائی۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مصعب نے یہ طریقۂ نماز حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے بیٹوں سے سیکھا اور بیٹوں نے اپنے والد گرامی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے حاصل کیا۔
(2)
امام ترمذی ؒ لکھتے ہیں کہ تطبیق اب منسوخ ہو چکی ہے۔
اہل علم کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
شاید حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو اس کا نسخ نہ پہنچا ہو۔
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
سنت یہ ہے کہ بحالت رکوع ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑا جائے۔
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ تطبیق یہود کا فعل ہے اور ابتدا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہود کی موافقت پسند تھی، بعد میں اس سے منع کر دیا گیا۔
(فتح الباري: 355/2)
ممکن ہے کہ پہلے پہلے تطبیق کا فعل یہود کی موافقت کرتے ہوئے کیا ہو، اس کے بعد جب مخالفت کا حکم ہوا تو اس سے منع کر دیا گیا۔
(1)
سنن دارمی میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے بیٹوں نے نماز پڑھی تو رکوع کے وقت انہوں نے اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں کے درمیان رکھا۔
حضرت مصعب نے جب اس طرح نماز پڑھی تو ان کے باپ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے ان کے ہاتھوں پر مارا، پھر حقیقتِ حال کی وضاحت فرمائی۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مصعب نے یہ طریقۂ نماز حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے بیٹوں سے سیکھا اور بیٹوں نے اپنے والد گرامی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے حاصل کیا۔
(2)
امام ترمذی ؒ لکھتے ہیں کہ تطبیق اب منسوخ ہو چکی ہے۔
اہل علم کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
شاید حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو اس کا نسخ نہ پہنچا ہو۔
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
سنت یہ ہے کہ بحالت رکوع ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑا جائے۔
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ تطبیق یہود کا فعل ہے اور ابتدا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہود کی موافقت پسند تھی، بعد میں اس سے منع کر دیا گیا۔
(فتح الباري: 355/2)
ممکن ہے کہ پہلے پہلے تطبیق کا فعل یہود کی موافقت کرتے ہوئے کیا ہو، اس کے بعد جب مخالفت کا حکم ہوا تو اس سے منع کر دیا گیا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 790]
Sahih Bukhari Hadith 790 in Urdu
مصعب بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري